روانڈا میں قتل عامپوپ نے چرچ کے کردار پرمعافی مانگ لی

اقوام متحدہ کی ایک عدالت نے 2006ء میں ایک پادری کو قتل عام کے جرم میں 15سال قید کی سزا دیدی


Editorial March 22, 2017
اقوام متحدہ کی ایک عدالت نے 2006ء میں ایک پادری کو قتل عام کے جرم میں 15سال قید کی سزا دیدی ۔ فوٹو : فائل

WASHINGTON: کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے 1994ء میں براعظم افریقہ کے ملک روانڈا میں ہونے والے قتل عام میں چرچ (یعنی گرجا گھر)کے افسوسناک کردار پر معافی طلب کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس معافی سے اس افریقی ملک کے زخم مندمل کرنے میں مدد ملے گی، لیکن روانڈا کی حکومت نے کہا ہے کہ صرف زبانی کلامی معافی سے زخم نہیں بھر سکتے کیونکہ مقامی چرچ اب بھی ظلم و دراز دستی اور قتل عام کرنے والوں کی نہ صرف حمایت کر رہا ہے بلکہ انھیں تحفظ فراہم کرنے میں مدد کر رہا ہے۔

پوپ فرانسس روانڈا کے دورے پر ہیں' روانڈا کے صدر پالی کگامے کے ساتھ ملاقات میں پوپ فرانسس نے کہا کہ رومن کیتھولک عیسائیوں نے تقریباً 8لاکھ انسانوں کے نسلی بنیادوں پر قتل و غارت میں باقاعدہ حصہ لیا۔ مارے جانے والے تتسی اقلیت سے تعلق رکھتے تھے جنھیں ہوتو اکثریتی قبیلے نے قتل عام کا شکار بنایا۔ پوپ فرانسس نے کہا کہ چرچ کی طرف سے معافی مانگنے کے لیے ایک نیا کوڈ وضع کیا گیا ہے جس سے امید ہے کہ اللہ تبارک ان کی معافی کو قبول فرما لے گا۔

پوپ نے مزید کہا کہ رونڈا کے مسیحی رہنماوں نے تتسی قبائل کے خلاف نفرت انگیز مہم پھیلانے میں بھی عملی طور پر حصہ لیا جس سے ان کے جرم کی نوعیت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ دریں اثناء روانڈا حکومت کے سرکاری بیان میں پوپ کی طرف سے معافی کے اعلان کو بعد از وقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اعلان سے ان لوگوں کے زخم مندمل نہیں ہو سکتے بلکہ اس کے لیے بھرپور عملی اقدامات درکار ہونگے جن سے کم از کم ان مادی نقصانات کا کچھ نہ کچھ ازالہ ہو سکے کیونکہ لاکھوں انسانوں کی جان کو تو اب واپس نہیں لایا جا سکتا جب کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ نفرت پھیلانے کا کام بدستور جاری ہے۔

تتسی قبائل کی طرف سے تشکیل دی جانے والی باغیانہ تحریک نے الزام عاید کیا تھا کہ مسیحی رہنماؤں نے تتسی قبائل کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکانے میں بہت فعال انداز میں حصہ لیا' بلکہ انھوں نے قتل و غارت میں بھی عملی طور پر شرکت کی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ تتسی قبائل کی جن عورتوں اور بچوں نے بعض گرجاگھروں میں جان بچانے کے لیے پناہ لے لی تھی ان کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔ قتل و غارت کرنے والوں میں ہوتو قبائل کے مسلح نوجوان شامل تھے۔

اقوام متحدہ کی ایک عدالت نے 2006ء میں ایک پادری کو قتل عام کے جرم میں 15سال قید کی سزا دیدی اس پر گرجا گھروں میں پناہ لینے والے دو سو کے لگ بھگ افراد کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ روانڈا کے حکام کا کہنا ہے کہ یہاں سے فرار ہو کر یورپ میں پناہ گزین ہونے والوں کا بھی پیچھا کیا گیا تھا۔ روانڈا کی ایک فوجی عدالت نے حملہ آوروں پر قتل و غارت کے علاوہ اجتماعی آبرو ریزی کا الزام بھی لگایا اور ان لوگوں کو عمر قید کی سزا دی۔

بہرحال پوپ فرانسس نے انتہائی جراتمندی کا مظاہرہ کیا ہے اور ان کا یہ اقدام یقیناً قابل ستائش ہے' انھوں نے محض مسیحیوں کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ مذہب' مسلک یا قبائلی عصبیت کی آڑ میں کسی فرد' قبیلے یا قوم پر ظلم کرنا کسی مذہب میں جائز نہیں ہے۔