فوجی عدالتوں میں توسیع کا دوسرا مرحلہ
فوجی عدالتوں میں توسیع کے بل کی قومی اسمبلی سے منظوری بلاشبہ ایک بریک تھرو ہے
قومی اسمبلی نے فوجی عدالتوں میں دو سال کی توسیع کے لیے 28 ویں آئینی ترمیم کا بل دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا ، ایوان نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی بھی منظوری دیدی۔ اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت ہوا، تاہم بدھ کو سینیٹ نے پیش کیے گئے توسیعی بل کی منظوری موخر کردی جب کہ آرمی ترمیمی بل کی منظوری دے دی، سینیٹ کا آیندہ اجلاس 28 مارچ کو ہوگا ، چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے اعلان کیا ہے کہ وہ منگل کو ایوان میں موجود نہیں ہونگے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ بل پر بحث ہوگی۔ وزیراعظم نواز شریف نے ایوان زیریں و ایوان بالا میں خصوصی طور پر شرکت کی۔قومی اسمبلی میں دونوں بل وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے پیش کیے۔255 ارکان نے فوجی عدالتوں کے آئینی ترمیمی بل کی حمایت اور 4 نے مخالفت کی جن میں محمود اچکزئی سمیت پختونخوا میپ کے تین ارکان اور جمشید دستی شامل ہیں۔ حکومت اور پیپلز پارٹی میں طے پانے والی چاروں ترامیم کو منظور کر لیا گیا۔
فوجی عدالتوں میں توسیع کے بل کی قومی اسمبلی سے منظوری بلاشبہ ایک بریک تھرو ہے جسے جمہوری اور قومی مفاد کے ایک غیر معمولی سیاق وسباق میں دیکھا جائے تو اسے مین اسٹریم سیاسی اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے تمام تر تحفظات اور خدشات کے باوجود قومی اتفاق رائے کا ثمر قراردیا جاسکتا ہے، نظری و عملی اعتبار سے فوجی عدالتوں کے قیام اور اس میں توسیع پر نہ صرف ملکی میڈیا اور قانونی و عدالتی حلقوں میں ایک قانونی بحث چھیڑی گئی بلکہ سیاسی جماعتوں اور حزب اختلاف نے اندیشوں کے تناظر میں بل کے بعض پہلوؤں سے اختلاف کیا، سینیٹ میں بھی اسی نوعیت کے جمہوری مباحثہ کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم یہ اختلاف جمہوری عمل کی روح سے کلی طور پر متصادم نہیں ہوئے بلکہ روادارانہ جمہوری اسپرٹ اور ملک کو درپیش صورتحال کے پیش نظر بہت غور و خوض کے بعد قومی اسمبلی سے اس بل کی منظوری کا مرحلہ طے ہوا جو اس بات کا غماز ہے کہ جمہوریت اس ملک میں آہستہ آہستہ سیاسی و پارلیمانی روایت میں ڈھلتی جارہی ہے اور جمہوری نظام کی بنیادیں مسلمہ جمہوری اصول و اختلاف کے تحت مستحکم ہورہی ہیں، جب کہ قومی مسائل کا جائزہ زمینی حقائق ، ملکی سالمیت اور عوامی مفادات و حقوق انسانی کے حوالہ سے لینے کا سفر بھی درست سمت میں جاری ہے۔مرحلہ دشوار ضرور ہے لیکن ہمت مرداں مدد خدا کے مصداق اسے خوش آیند پیش رفت کہنا چاہیے کہ فوجی عدالتوں کے قیام اور اب توسیع پر اتفاق رائے میں متشکل ہونے والی صورتحال کا اطمینان بخش نتیجہ نکلے گا ۔منظور شدہ بل کے مطابق گرفتاری کے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اْس کو الزامات سے آگاہ کیا جائیگا، اس کے علاوہ ملزم کو پسند کا وکیل کرنے کا حق دینے اور قانون شہادت کا اطلاق شامل ہیں۔ اگرچہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے مخالفت میں ووٹ دیا جب کہ جے یو آئی (ف) غیرجانبدار رہی، جماعت اسلامی اپنی ترامیم سے دستبردار ہو گئی اور اس نے بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بل پر اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم مسترد کردی گئیں۔ ترامیم ایم کیو ایم، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور جمشید دستی نے پیش کی تھیں ۔ فوجی عدالتوں کے بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اراکین پارلیمنٹ نے ملکی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی صرف فوجی عدالتیں قائم کرنے سے ختم نہیں ہوگی بلکہ مائنڈ سیٹ کو ختم کرنا ہوگا۔ بحث سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ملک جن حالات سے گزر رہا ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ وقت کی ضرورت تھا۔ ہم نے عدالتی اصلاحات لانے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ دو سال بعد ہماری سول عدالتیں اس قابل ہو سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام و توسیع پر پارلیمان میں ہونے والی بحث موضوع پر اٹھائے جانے والے اختلافات سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہے جس میں سیاسی بالغ نظری،دور اندیشی اور قومی مفادات کے چیلنجنگ تناظر کے گہرے ادراک کا عندیہ ملتا ہے جو قومی سیاسی سوچ میں سنجیدگی ، کمٹمنٹ اور تنگ نظرانہ جذباتیت کی جگہ ملکی سلامتی کے تحفظ، امن و امان، فوری انصاف کی فراہمی اور دہشتگردی کے مکمل خاتمہ پرقومی اتفاق رائے کے جمہوری و فکری شواہد مہیا کیے ہیں جب کہ قوم کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں اور حکومت نے قومی مفاد میں یہ فیصلہ کیا ہے، وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں میں توسیع حکومت یا کسی سیاسی جماعت کی ترجیح نہیں بلکہ ملک کو درپیش غیر معمولی حالات میں یہ قدم اٹھانا پڑا۔ امید کی جانی چاہیے کہ سینیٹ سے بھی قوم کو خوشخبری ملے گی۔ تاہم اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور سیاسی جماعتیں عدالتی اصلاحات کی سمت اسی ذمے دارانہ اسپرٹ کے ساتھ پیش قدمی کریں تاکہ کرمنل جسٹس سسٹم میں شفافیت اور فعالیت لائی جائے ، عوام کو سستا اور فوری انصاف ملے جب کہ ملک کو ہر قسم کے جرائم اور دہشتگردی سے ہمیشہ کے لیے نجات حاصل ہوجائے۔