کراچی کا مستقبل
دو قومی نظریے کی وجہ سے ہندوستان کی تقسیم ناگزیر ہو گئی تھی
جن ملکوں کا حکمران طبقہ قومی اہمیت کے کاموں کودوراندیشی اورمنصوبہ بندی کے ساتھ نہیں کرتا ان ملکوں میں نہ قومی مفادات پورے ہوتے ہیں نہ عوام کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ کراچی پاکستان کا آبادی اور صنعتوں کے حوالے سے سب سے بڑا شہر ہے جہاں دو کروڑ سے زیادہ عوام رہتے ہیں۔ چند لاکھ افراد کے اس شہرکی آبادی دو کروڑ تک کیسے پہنچ گئی اور اس کے نتائج آج کیا نکل رہے ہیں اور کل کیا نکلیں گے اس کی نہ ہمارے حکمرانوں کو پرواہ ہے نہ سیاستدانوں کو۔ کراچی کی آبادی میں پہلا اضافہ 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد سے شروع ہوا۔
کہا جاتا ہے کہ دو قومی نظریے کی وجہ سے ہندوستان کی تقسیم ناگزیر ہو گئی تھی، اس لیے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن پاکستان بنانا پڑا یوں ہزاروں سالوں سے مل جل کر رہنے والے دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ اس تقسیم کا المناک نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں ملکوں میں لاکھوں غریب عوام کو مذہبی انتہا پسندی نے بھیڑبکریوں کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان میں 22 لاکھ مسلمانوں کو، جن میں معصوم بچے اور خواتین بھی شامل تھیں، گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا گیا۔ یہی حال پاکستان میں رہنے والے ہندوؤں کا ہوا۔
اس جانی نقصان کے علاوہ کروڑوں لوگ ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے مشرقی پنجاب سے آنے والوں نے پنجاب کو اپنا بسیرا بنا لیا اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں سے آنے والوں کا رخ سندھ خصوصاً کراچی کی طرف ہو گیا اور کراچی کی آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ کیا تحریک پاکستان کے دوران تحریک کے قائدین کو اندازہ تھا کہ تقسیم کے نتیجے میں اس قدر بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری اور نقل مکانی ہو گی؟ انھیں، اگر یہ اندازہ ہوتا تو یقیناً دونوں ملکوں کی قیادت ممکنہ احتیاط کر لیتی، اندازے کی غلطی اور منصوبہ بندی کے فقدان کا جو نتیجہ ہوا کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا۔ جہاں دوراندیشی اور منصوبہ بندی نہیں ہوتی وہاں اس قسم کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ہندوستان سے مہاجرین کی لاکھوں کی تعداد میں کراچی آمد کے بعد ایوب خان کے دور میں دیہی علاقوں خصوصاً پختونخوا سے روزگار کے لیے کراچی آنے والوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی کیونکہ ایوب حکومت کو امریکا نے کولمبو منصوبے کے تحت پاکستان کو بھاری امداد کی فراہمی شروع کر دی جس کا مقصد پاکستان اور اس خطے میں سوشلزم کی مقبولیت اور پھیلاؤ کو روکنا تھا۔ ایوب حکومت نے دوسرے صوبوں سے کراچی آنے والوں کی آبادکاری کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی یوں کراچی میں کچی آبادیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا اور کراچی مسائل کی آماجگاہ بنتا چلا گیا۔ اور پہلی بار کراچی لسانی خون خرابے کا شکار ہوا۔
اس کی وجہ بھی حکمرانوں کی سیاسی بصارت سے محرومی تھی۔1971ء میں جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا توکراچی کی آبادی میں ایک بار پھر بے تحاشا اضافہ ہوا، بنگلہ دیش سے لاکھوں بنگالی روزگار کی تلاش میں کراچی آنے لگے۔ اس حوالے سے بھی حکمران طبقات نے نہ دوراندیشی کا مظاہرہ کیا نہ کوئی منصوبہ بندی کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کراچی میں بیروزگار بنگالیوں نے کچی آبادیاں آبادکرنا شروع کیں اور شہر میں جرائم کا گراف بڑھنے لگا۔ حکمران طبقات نے نہ اس ترک وطن کو روکنے کی کوشش کی، نہ ان کی آبادکاری اور روزگارکی کوئی منصوبہ بندی کی جس کا نتیجہ افراتفری اورجرائم میں اضافے کی شکل میں سامنے آیا۔ہمارے محترم حکمران دوسرے صوبوں دوسرے ملکوں سے آنے والوں کی وجہ سے کراچی میں پیدا ہونے والے مسائل کی طرف توجہ دینے کے بجائے یہ ''ہوشمندانہ اعلان'' کرنے لگے کہ کراچی سب کا شہر ہے۔ بلکہ انتخابات میں ان آبادیوں کا فائدہ اٹھانے کے لیے کراچی آنے والوں کی حمایت کرنے لگے اور یہ لوگ شہری دستاویزات، شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈومیسائل وغیرہ حاصل کرتے رہے۔
کراچی کے عوام میں لسانی تفریق بڑھتی رہی اور کراچی جو ماضی میں قومی سیاست کا مرکز تھا لسانی سیاست کا محور بنتا چلا گیا اور اشرافیہ اپنے طبقاتی مفادات کی خاطر لسانی سیاست کی سرپرستی کرتی رہی۔افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد افغانستان سے افغان مہاجرین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔ افغانستان کے خون خرابے سے پریشان غریب افغانی عوام کراچی میں روزگارکی تلاش میں آتے رہے اور جگہ جگہ افغان بستیاں آباد ہونے لگیں۔ غریب افغان عوام اپنی کچی بستیوں میں محنت مزدوری کر کے زندگی گزارنے لگے۔ روزگار سے محروم لوگ جرائم میں ملوث ہوتے چلے گئے یوں کراچی میں جرائم کا گراف تیزی سے بڑھنے لگا۔ جو لوگ منشیات اور اسلحے جیسے ناجائز کاروبار میں ملوث تھے انھوں نے کراچی میں جائیدادیں خریدنا شروع کیا اور تجارت وکاروبار میں اس حد تک آگے آ گئے کہ کئی علاقوں میں کاروبار پر قابض ہو گئے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ لیکن ہمارا حکمران طبقہ اس صورتحال سے لاتعلق سیاست اور سیاست کے ثمرات سمیٹنے میں مصروف ہے۔
غریب عوام خواہ وہ ہندوستان سے آنے والے مہاجرین ہوں یا ایوب خان کے دور سے کراچی آنے والے پختون ہوں 1971ء میں آنے والے بنگالی یا افغانستان سے آنے والے افغان یہ سب روزگارکی تلاش میں کراچی آ رہے ہیں، یوں اہل کراچی کے لیے کراچی میں حصول روزگار ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ پھر ہمارے سیاسی کلچر کی وجہ سے معمولی پڑھے لکھے لوگ گریڈ 19,18,17 تک پہنچ گئے ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان دھکے کھا رہے ہیں۔ اہل کراچی اور باہر سے آنے والوں میں تضادات بڑھ رہے ہیں اور بدقسمتی سے ہمارے حکمران ان تضادات سے آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں کیونکہ یہ ان کے سیاسی مفادات کا تقاضا ہے۔ لیکن خدانخواستہ یہ تضادات بڑھتے ہیں اور عوام کھڑے ہو جاتے ہیں تو نقصان غریب عوام ہی کا ہو گا خواہ وہ کوئی زبان بولنے والے ہوں اشرافیہ کا کوئی نقصان نہیں ہو گا بلکہ عوام کے ان تضادات سے ان کی حکمرانی اور مضبوط ہو گی۔