پاکستانی آٹوموبائل انڈسٹری نے عالمی معیار کو چھولیا پاما

نئی ٹیکنالوجی،عالمی مارکیٹ کے نئے رحجانات کے پیش نظر پیداواربڑھانے کی مزید گنجائش ہے


APP January 14, 2013
پرویز غیاث نے کہا کہ آئی ایم سی نے ہمیشہ مقامی وینڈرز کی زیادہ سے زیادہ آٹو پارٹس تیار کرنے میں حوصلہ افزائی کی ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے چیئرمین اور انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پرویز غیاث نے کہا ہے کہ مقامی آٹو موبائل کمپنیوں کے تعاون سے آٹو پارٹس وینڈرز نے کچھ شعبوں میں برتری حاصل کرتے ہوئے عالمی معیار کو چھولیا ہے لیکن ابھی بھی وینڈرز کے پاس نئی ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی آٹو موبائل مارکیٹ کے نئے رحجانات کو اپناتے ہوئے اپنی پیداوار کو بڑھانے کی مزید گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ طویل المدت پالیسیاں نہ صرف پاپام کے ایک قابل ذکر حصے کی مقامی منڈی کی طلب کو سامنے رکھتے ہوئے مزید سرمایہ کاری کے ذریعے اس خلا کو پر کرنے کی حوصلہ افزائی کریں گی بلکہ وہ مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور افریقہ جیسی بیرونی منڈیوں تک بھی رسائی حاصل کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت پر منحصر ہے کہ وہ ان کا اعتماد حاصل کرے اور سرمایہ کار دوست منصوبے بنائے تاکہ آٹو موبائل اور وینڈنگ کی صنعت کو مزید پھیلانے کے لیے بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری کو متوجہ کیا جا سکے۔

03

کراچی میں منعقدہ پاکستان آٹو پارٹس شو 2013 کے موقع پر پرویز غیاث کا کہنا تھا کہ آئی ایم سی نے ہمیشہ مقامی وینڈرز کی زیادہ سے زیادہ آٹو پارٹس تیار کرنے میں حوصلہ افزائی کی ہے کیونکہ آئی ایم سیمقامی طور پر تیار کردہ کسی بھی ایسے آٹو پارٹس کا پہلا خریدار ہوگا جو بین الاقوامی معیار پر پورا اترتے ہوں گے۔

اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پاپام کے چیئرمین منیر بانا نے کہا کہ استعمال شدہ کاروں کی سے متعلق پالیسیوں میں کی گئی اچانک تبدیلیوں نے گزشتہ چند برسوں میں نہ صرف صنعت کو مزید منصوبہ بندی اور ترقی سے روک دیا ہے بلکہ انجینئرنگ کے میدان میں ماضی میں حاصل کی گئی بہت سے کامیابیوں کو رول بیک کر دیا ہے جو گزشتہ 15برسوں کی محنت کا نتیجہ تھیں۔