اقتصادی ترقی خوش آیند مگر مہنگائی کو بھی لگام دیں
برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ کوئی خوش کن خبر نہیں۔
MULTAN:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹرنگ پالیسی کمیٹی نے شرح سود 5.75فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ مرکزی بینک سے ہفتہ کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران معاشی شرح نمو مزید تیز ہونے کی توقع ہے' معاشی سرگرمیوں میں توسیع سے درآمدات میں بھی بھرپور اضافہ ہوا تاہم برآمدات میں مستحکم اضافہ نہ ہونے اور ترسیلات زر میں معمولی کمی کی وجہ سے مالی سال 2016-17ء میں جولائی تا فروری کے دوران جاری کھاتے کا خسارہ 5.5ارب ڈالر ہو گیا' مہنگائی میں مسلسل اضافے کا رجحان جاری ہے اور اکتوبر 2016ء میں مہنگائی کی شرح 4.2فیصد رہی۔
اس طرح سے مہنگائی کی شرح میں اکتوبر 2015ء کے بعد سے اضافے کا رجحان غالب ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کے معاشی اور تجارتی سرگرمیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوئے اور نجی شعبے کی جانب سے قرضے کے حصول میں اضافے کا رجحان سامنے آیا ہے جو جولائی تا فروری مالی سال 2017ء کے دوران 349ارب روپے بڑھ گیا جو گزشتہ سال اسی عرصہ میں 267ارب روپے بڑھا تھا۔ یہ رجحان یقیناً خوش آیند ہے جو سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کا حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے۔
موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد ملک کے معاشی نظام کو بہتر بنانے کا نعرہ بلند کیا اور اس کے لیے مضبوط پالیسیاں تشکیل دیں جس کا نتیجہ معاشی سرگرمیوں میں تیزی کی صورت میں نمودار ہو رہا ہے۔ سی پیک منصوبے کے باعث بھی غیرملکی اور ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور معاشی حوالے سے جو بے یقینی کی کیفیت تھی ملک اس بحران سے نکل آیا تاہم دوسری جانب برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ کوئی خوش کن خبر نہیں۔
توانائی کے بحران اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث نئی صنعتوں کے قیام میں جو دشواریاں پیش آ رہی ہیں حکومت کو اس جانب بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ملک میں جتنی تیزی سے نئی صنعتوں کا قیام روبہ عمل آئے گا برآمدات میں اتنی ہی تیزی سے اضافہ اور درآمدات میں کمی آئے گی جس سے جاری کھاتے کا خسارہ جو اس وقت 5.5ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے اس میں یقیناً تنزلی ہو گی۔ نئی صنعتوں کے قیام کے لیے بینکوں سے قرضے لینے کے رجحان کو مہمیز ملنے سے بینکنگ نظام میں مزید استحکام آئے گا۔
حکومت مہنگائی کی شرح میں ہونے والے اضافے کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اگر مہنگائی کی شرح کا گراف یونہی بلند ہوتا رہا تو عام آدمی جو پہلے ہی کسمپرسی کا شکار ہے مزید معاشی اور مالی دباؤ میں آتا چلا جائے گا۔ اس امر میں کوئی شائبہ نہیں کہ تیل کی بین الاقوامی قیمتوں سے مہنگائی متاثر ہوتی ہے لیکن جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی ہوتی ہے تو یہاں اس شرح سے اس میں کمی نہیں کی جاتی۔
ایک جانب پانی کا بحران اور زرعی مداخل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے تو دوسری جانب رہائشی کالونیوں کی آڑ میں زرخیز زرعی زمینیں ختم ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ حکومت کو اس جانب بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے ورنہ آنے والے برسوں میں یہاں غذائی بحران سر اٹھا سکتا ہے۔ امید ہے کہ حکومت مہنگائی میں کمی کرنے کے ساتھ ساتھ ایسی پالیسیاں تشکیل دے گی جس سے عام آدمی کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوں گی۔