لانگ مارچ یزیدیت کا تختہ الٹ کر واپس آئیں گے طاہر القادری

جگہ جگہ استقبال، کفن پوش بھی شریک، تخت لاہور نے یزید کا ظلم بھی پیچھے چھوڑ دیا، طاہر القادری،روانگی سے قبل خطاب


News Agencies/Monitoring Desk January 14, 2013
لاہور:تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری لانگ مارچ کے لیے اسلام آباد روانہ ہونے پر کارکنوں کو ہاتھ ہلا کر نعروں کا جواب دے رہے ہیں۔ فوٹو: آن لائن

تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کا لانگ مارچ اتوار کو ماڈل ٹائون لاہور سے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوا۔

بسوں اور دیگر گاڑیوں پر مشتمل مارچ رات گئے تک گوجرانوالہ پہنچا تھا، راستے میں جگہ جگہ پرتپاک استقبال کیا گیا۔ روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طاہرالقادری نے اپنے سفرکو ''جمہوریت مارچ '' کا نام دیا اور کہا کہ اسلام آباد پہنچ کر آئین و جمہوریت کی طاقت سے یزیدیت کا تختہ الٹ کر واپس آئیں گے' ہمارا لانگ مارچ غریب عوام کو انکا حق دلانے' آئین و قانون کی بالادستی' انسانی حقوق کے تحفظ' غربت، ظلم، ناانصافی' بدعنوانی، کرپشن اور یزیدی سلطنت کے خاتمے کا مارچ ہے۔

انھوں نے کہا تخت لاہور والوں نے وہ ظلم کیا ہے جس نے یزیدیت کی تاریخ بھلا دی، اب تم بچو گے اور نہ ہی تمہارا اقتدار بچے گا اور تم کبھی اقتدار میں نہیں آئو گے' پنجاب کے حکمرانوں نے پورے صوبے کو کوفہ اور دمشق بنا دیا ہے جبکہ اسلام آباد والوں نے بے حمیتی کی انتہا کر دی ہے اور دہشت گردی کیلیے تیزاب اور گیس سے بھرے کنٹینرز کھڑے کر دیے گئے' مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے قبل مقدس اور محترم اداروں سے یہ سننا چاہتا ہوں کہ نااہل بلوچستان حکومت کو برطرف اور اسمبلی کو تحلیل کر دیا ہے۔ پنجاب اور اسلام آباد کے حکمرانوں نے ہمارے مارچ کو روکنے کیلیے جوکیا ہے اس نے یزیدیت کی تاریخ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، ملک بھر سے آنیوالے قافلوں کو روکا گیا، ڈرائیوروں کو رات میں سوتے ہوئے اغواء کر لیا گیا، گاڑیوں کے ٹائر پنکچر کیے گئے۔

تخت لاہور والو، تم نے حسینی لشکر کو روکا ہے نہ تم رہو گے اور نہ تمہارا اقتدار بچے گا اور تم کبھی دوبار اقتدار میں نہیں آئو گے، (ن) لیگ والوں نے عدلیہ کی بحالی کیلیے لاہور سے لانگ مارچ کیا تھا اگر تمہارا یہ حشر کر دیا جاتا تو تم کیا کہتے۔ تم تو لاہور سے تین ہزار افراد بھی نہیں لے کر نکلے تھے اور میں لاہور سے ایک لاکھ لوگوں کو لے کر نکلا ہوں۔ طاہرالقادری نے کہا کوئٹہ میں 150معصوم لوگوں کی لاشیں پڑی ہیں لیکن کوئی حکومتی نمائندہ انہیں تکنے نہیں آیا۔ اسلام آباد میں تیزاب اورگیس سے بھرے کنٹینرز کھڑے کردیے ہیں، یہ رکاوٹیں ہمیں نہیں روک سکیں گی، ہمیں سمجھ آ گئی ہے کہ اگر راستے میں کچھ نہ ہوا تو ان کنٹینرز کے ذریعے دہشت گردی کروائی جائیگی، خندقیں کھود کر ان میں بارود دبا دیا گیا ہے لیکن ہمارے لیے اﷲ کی مدد اتریگی اور تمہارا کچھ نہیں بچے گا۔



ہم سے ہماری سواریاں چھین لی گئی ہیں اور اب یہ سفر دنوں' ہفتوں اور مہینوں کی قید سے آزاد ہو گیا ہے اور انشا اﷲ ہم اسلام آباد پہنچیں گے اور یزیدیت کا تختہ الٹ کر واپس آئینگے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان حکومت کو فوری طور پر برطرف اور اسمبلی کو تحلیل کیا جائے۔ جب تک ملک سے یزیدی قوتوں کے اقتدار کا خاتمہ نہیں ہو گا 'چاہے100دن بھی لگ جائیں ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ ہمارا راستہ روکنے والوں کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے مگر انکو ڈوبنے کیلیے پانی بھی نہیں ملے گا۔ لانگ مارچ کے شرکاء کو لانیوالی 25ہزار بسوں کو روکدیا گیا ہے اور گاڑیاں چھین کر شرکاء کو نیچے اتار دیا گیا جسکی وجہ سے لوگ پیدل چل کر آ رہے ہیں' میڈیا کیلئے منگوائی گئی بیس اور میری سکیورٹی کیلیے دس گاڑیاں بھی چھین کر ڈرائیورز کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اگر مائوزے تنگ ایک سال تک اپنی قوم کیلیے لانگ مارچ کر سکتا ہے تو ہم بھی ملک کی تقدیر سنوارنے کیلیے پیدل' سائیکلوں اور موٹر سائیکلوں پر لانگ مارچ کرینگے اور انقلاب لا کر دم لیں گے۔ ہمارا حسینی لشکر کربلا میں پہنچ کر ہی ختم ہو گا۔ طاہرالقادری نے کہا سکیورٹی وارننگ دینے والوں کے اپنے انتہا پسندوں کے ساتھ رابطے ہیں، اسلام آباد میں لانگ مارچ کیلئے تحریری اجازت مانگی تھی، حکومت نے نہیں دی۔ کوئی پلیٹ میں رکھ کر انقلاب نہیں دیتا اور نہ ہی گھر بیٹھے کسی کا مقدر سنورتا ہے۔ طاہرالقادری نے لانگ مارچ کی کامیابی اور شرکاء کی حفاظت کیلیے دعا بھی کرائی۔

مارچ اپنے مقررہ وقت سے ساڑھے چار گھنٹے کی تاخیر سے لاہور سے اسلام آباد کیلیے روانہ ہوا، روانگی کیلیے گھر سے نکلتے وقت طاہرالقادری اور شرکاء نے وکٹری کا نشان بنایا۔ مارچ منہاج یونیورسٹی اور منہاج القرآن مرکز سے شروع ہوا جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد کے علاوہ کراچی سے آئے کفن پوش کارکنوں کا قافلہ بھی شامل ہے۔ نیو کیمپس، کینال روڈ اورگڑھی شاہو کے بعد مینار پاکستان پر قافلے مارچ میں شامل ہوئے۔ مارچ میں کھانے پینے کی اشیا، کمبل، بستر، اور دیگر اشیا کے درجنوں ٹرک' 31 چھوٹی ایمبولینسز بھی موجود تھیں۔ آن لائن کے مطابق لانگ مارچ کے روٹ سے کنٹینرز اور رکاوٹیں ہٹانے کے لیے کرین بھی ہمراہ ہے۔ شرکاء نے قومی پرچم کے ساتھ ساتھ کلمہ طیبہ والے پرچم بھی تھام رکھے تھے۔

اس موقع پر ''وزیر اعظم طاہرالقادری'' کے نعرے لگائے گئے جبکہ رحمان ملک کیخلاف بھی نعرہ بازی ہوئی۔ شاہدرہ سے جی ٹی روڈ تک مارچ کا جگہ جگہ استقبال کیا گیا، شرکاء امامیہ کالونی فیروز والا ریلوے پھاٹک پر پہنچے تو دھرنا دیے بیٹھے مجلس وحدت المسلمین کے کارکنوں نے دھرنے روک کر جلوس والی گاڑیوں کو راستہ دیا۔ کالا شاہ کاکو پہنچنے پر ہزاروں افراد نے مارچ کا استقبال کیا، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طاہرالقادری نے کہا لاکھوں افراد سروں پر کفن باندھ کر دنیا کا سب سے بڑا تحریر اسکوائر بنانے نکل کھڑے ہوئے ہیں اب موت کا ڈر انقلاب نہیں روک سکتا۔

مریدکے میں بھی مارچ کا پرتپاک استقبال ہوا، ایک ہزار سے زائد کفن پوش خواتین اور بچوں کے علاوہ پرویز مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ کے دسیوں کارکن مارچ میں شریک ہوئے۔ شرکاء کے بازوئوں پر امام ضامن باندھے گئے، 100بکروں کا صدقہ بھی دیا گیا۔ تحریک منہاج القرآن کے مطابق نارووال، شکر گڑھ، ظفروال، بدوملہی اور نارنگ منڈی سے مریدکے آنیوالے قافلوں کو نارنگ منڈی کے قریب ڈھلی نہر پل پر پولیس نے ناکہ لگا کر روک لیا اور سیکڑوں افراد کو آگے جانے سے روک دیا۔ بچیکی میں ناکہ بندی کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

فیصل آباد سے قافلے شیخو پورہ روڈ کے راستے اسلام آباد روانہ ہوئے، گٹ والا چوک پر پولیس کی طرف سے گاڑیوں کی تلاشی لینے پر کارکنوں نے سڑک بلاک کر کے احتجاج کیا۔ تحریک منہاج القرآن سرگودھا کے مطابق پولیس کی پکڑ دھکڑ کے باوجود سیکڑوں کارکن گاڑیوں سمیت نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ پشاور سے بھی قافلہ روانہ ہوا۔ مارچ میں طاہرالقادری کے سیکڑوں غیرملکی پیروکار بھی شریک ہیں۔ آئی این پی کے مطابق قریبی شہروں کے ہزاروں کارکن عام ٹرانسپورٹ کے ذریعے اتوار کی رات تک راولپنڈی اسلام آباد پہنچ گئے۔