بحرہند کی اسٹرٹیجک اہمیت

بھارت کا بھی اس خطے میں مفاد ہے‘ مشرق وسطیٰ میں اس کی بھاری سرمایہ کاری ہے


Editorial March 29, 2017
بھارت کا بھی اس خطے میں مفاد ہے‘ مشرق وسطیٰ میں اس کی بھاری سرمایہ کاری ہے ۔ فوٹو : فائل

KARACHI: وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے گزشتہ روز اسلام آباد میں بحر ہند میں پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کے زیرعنوان ایک روزہ قومی کانفرنس سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کے دوران میں خاصے اہم ایشوز کو آشکار کیا ہے۔ انھوں نے بحرہند اسٹرٹیجک اہمیت اور پاکستان کے کردار پر مدلل انداز میں بات کی۔ بھارت اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کے بارے میں بھی انھوں نے کھل کر اظہار خیال کیا اور آنے والے دنوں میں عوامی جمہوریہ چین اور سی پیک اس خطے میں کیا اثرات مرتب کریں گے' اس پر بھی سیر حاصل گفتگو کی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بحرہند کے ممالک مستقبل کی عالمی بساط میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گے' جنرل ناصر جنجوعہ کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ بحرہندکی کوئی حدود نہیں، یہ دنیا کے دریاؤں اور سمندروں سے منسلک ہے، ہم ایک بڑی تجارتی راہداری کی حیثیت اختیارکرچکے ہیں اورچین اور روس کے لیے بھی ہم اب تجارتی راہداری ہیں، جنوبی چین کے سمندر کی90 فیصد تجارت اس حصہ میں منتقل ہو رہی ہے، اگر ہم ایک بڑی تجارتی راہداری بنتے ہیں تو ہم ایک بڑا تجارتی مرکز اقتصادی مرکز بن جائیں گے، ممکن ہے آنے والے برسوں میں ہم ایک بڑے صنعتی مرکز کی شکل اختیار کر جائیں، ہمیں اپنی سمندری سلامتی کی پالیسی ان تمام جہتوں کو ذہن میں رکھ کر مرتب کرناہوگی ۔وزیراعظم کے مشیر نے آنے والے وقت کا نقشہ کھینچ دیا ہے۔

پاکستان کے محل وقوع کا جائزہ لیں تو یہ چین ہی نہیں بلکہ پورے وسط ایشیا کی بحرہند تک رسائی کا دروازہ ہے بلکہ اس کے اثرات مینگولیا تک جاتے ہیں۔ پاکستان کو اپنی اس حیثیت کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ روسی فیڈریشن کے لیے بھی مشرق وسطیٰ اور افریقہ تک پہنچنے کے لیے بحرہند تک آنا ضروری ہے۔ یوں پاکستان اس وقت پوری دنیا کی نظروں میں ہے۔ امریکا اور بھارت بھی اس خطے کے اسٹیک ہولڈرز میں شامل ہیں۔امریکا اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات اسی سلسلے کی کڑی ہے۔شاید اسی لیے وزیراعظم کے مشیر نے کہا ہے کہ امریکا کا بھارت کے ساتھ لاجسٹک اور میری ٹائم معاہدہ خطرے کی گھنٹی ہے۔

بھارت اورامریکا بڑے دفاعی شراکت دارکے طور پر ابھرے ہیں، بھارتی بحریہ کے علاوہ ساڑھے3 لاکھ کے قریب امریکی افواج بحرہند میں ہے، بھارت چین کوروکنے کی تیاریوں میں مصروف ہے،اس نے خطے کی دو ایٹمی طاقتوں کے خلاف محاذ کھول رکھے ہیں جوگھاٹے کاسودا ہے۔بلاشبہ بھارت چاہتا ہے کہ وہ بحرہند کا واچ مین بن جائے اور اس سلسلے میںاسے امریکا کی حمایت حاصل ہو۔ چین کے ساتھ بھی اس کا تنازع یہی ہے کہ وہ چین کو بحیرہ جنوبی چین تک محدود رکھنا چاہتا ہے۔ بھارت نہیں چاہتا کہ چین پاکستان کے راستے بحرہند تک چلا جائے۔سی پیک کے ذریعے چین نے بحرہند تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ یوں اس کے لیے مشرق وسطیٰ اور افریقہ تک تجارتی مال پہنچانا آسان ہو گیا ہے۔

بھارت کا بھی اس خطے میں مفاد ہے' مشرق وسطیٰ میں اس کی بھاری سرمایہ کاری ہے اور افریقہ کے ملکوں خصوصاً جنوبی افریقہ اور کینیا وغیرہ میں بھارت نے بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔اس منظر نامے کو سامنے رکھا جائے تو پاکستان کے لیے جہاں اقتصادی فوائد حاصل کرنے کے بہت زیادہ مواقعے ہیں' وہاں مخالفت بھی جنم لے رہی ہیں۔بہت سی قوتیں سی پیک کے خلاف ہیں اور وہ پاکستان میں گڑ بڑ پھیلانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ پاکستان میں جو دہشت گردی جاری ہے اس کی تہہ میں یہی عنصر شامل ہے۔ افغانستان بھی بھارت کی جانب جھکاؤ رکھتا ہے اور بھارتی پالیسی ساز افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔اسلامی ممالک کی مشترکہ فوج کے حوالے سے بھی جو تحفظات ظاہر کیے جا رہے ہیں وہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

حالانکہ یہ فوج دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بنائی جا رہی ہے۔' ظاہر سی بات ہے کہ اگر دہشت گردی ختم ہو گی تو اس کا فائدہ پوری دنیا کو ملے گا۔ لیکن اس کے باوجود اس آئیڈیے کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ اسٹرٹیجک مفادات کے تناظر میں دیکھا جائے تو دہشت گردی کو پھیلانے میں بھی کئی ایسے ممالک مدد گار یا سہولت کار بنے ہیں جو بظاہر خوشحال ہیں اور وہاں دہشت گردی موجود بھی نہیں ہے اور وہ دہشت گردی کے الزامات پاکستان پر عائد کر رہے ہیں حالانکہ دہشت گردی کے جو گڑ ہیں' وہ افغانستان ہے 'یا یہاں سے نکل کر مشرق وسطیٰ کی طرف عراق'یمن اور شام ہیں جب کہ افریقہ میں صومالیہ ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کی جانب انگلی اٹھانے کا مقصد صرف یہی ہے کہ پاکستان کی اس پوزیشن کو متاثر کیا جائے جو بحرہند کے خطے میں اسے حاصل ہے۔