تحفیف اسلحہ کا مشن اور طاقتور اقوام کا کردار

امریکابرطانیہ اور فرانس سمیت چالیس دیگر ممالک ایٹمی ہتھیاروں پر مکمل پابندی کے مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے،نکی ہیلے


Editorial March 29, 2017
امریکا‘ برطانیہ اور فرانس سمیت چالیس دیگر ممالک ایٹمی ہتھیاروں پر مکمل پابندی کے مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے،نکی ہیلے ۔ فوٹو: فائل

KARACHI: امریکا' برطانیہ اور فرانس سمیت چالیس دیگر ممالک ایٹمی ہتھیاروں پر مکمل پابندی کے مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے۔ اس کا اعلان اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلے نے پیر کو جنرل اسمبلی کے اجلاس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ خاتون امریکی سفیر نے بتایا کہ تباہ کن ہتھیاروں پر پابندی (این پی ٹی) کا قانون 1970ء کے عشرے میں منظور کیا گیا تھا لیکن دیکھا جائے تو اس پر پورے طریقے سے عمل نہیں کیا گیا۔ امریکا کی سفیر کا کہنا تھا کہ اپنی فیملی کے لیے میں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں چاہتی کہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں پر مکمل پابندی عاید ہو جائے مگر ہمیں زمینی حقائق کو بھی پیش نظر رکھنا ہو گا۔ اس موضوع پر قرار داد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی تو اس کے حق میں 113 ووٹ جب کہ مخالفت میں 35 ووٹ آئے لیکن 13 اراکین نے ووٹ نہیں دیا یعنی غیر حاضر رہے۔

ان کا مطالبہ تھا کہ جوہری ہتھیاروں پر مکمل پابندی کا ایسا معاہدہ تیار کیا جائے جس کے ذریعے دنیا کا کوئی بھی ملک یہ مہلک ہتھیار نہ بنا سکے۔ امریکی سفیر نکی ہیلے نے بتایا کہ اس وقت بھی کم از کم 40 ممالک ایسے ہیں جو اقوام متحدہ میں شامل نہیں ہیں، ایسی صورت میں ان کو کسی ایسی قرار داد کی حمایت پر کس طرح شامل کیا جا سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا وہ ایٹمی ہتھیاروں پر مکمل پابندی کی صورت میں اپنے بین الاقوامی مقاصد کو بہ آسانی پورا کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اگر اس کا جواب نفی میں آتا ہے تو امریکا جوہری ہتھیاروں پر پابندی قبول نہیں کرے گا۔ اقوام متحدہ کے لیے برطانوی سفیر میتھیو برے کرافٹ نے کہا کہ برطانیہ اس وجہ سے ان مذاکرات میں شرکت نہیں کر رہا کہ ان ہتھیاروں پر مکمل پابندی عائد کرا دی جائے بلکہ اس کے پیش نظر وسیع تر مقاصد ہیں۔

فرانس کے نائب سفیر الیکسز لیمیک کا کہنا تھا کہ فی الوقت دنیا میں سیکیورٹی کی حالت ایسی نہیں ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے۔ ہمیں حفاظتی بنیادوں پر ان ہتھیاروں کی موجودگی کو بھی برقرار رکھنا ہو گا۔ انھوں نے کہا فی الوقت ہماری زیادہ تشویش وسیع تر تباہی کے ہتھیاروں کی نقل و حرکت کا مسئلہ ہے جس پر مکمل طور پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔ تاہم جوہری ہتھیاروں پر مکمل پابندی کی تحریک چلانے والی تنظیموں نے اقوام متحدہ کے ڈھیلے ڈھالے کردار پر کڑی مذمت کی گئی ہے۔ یوں یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ بڑی طاقتیں ایٹمی ہتھیار تلف نہیں کرنا چاہتیں بلکہ ان کی کوشش یہ ہے کہ کمزور اقوام ایٹمی ہتھیار نہ بنائیں' یہی وہ دہرا معیار ہے جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تحفیف اسلحہ کی مہم کامیاب نہیں ہو سکی۔