فوجی عدالتوں میں توسیع

پیپلزپارٹی فوجی عدالتوں میں توسیع کے خلاف تھی


Zaheer Akhter Bedari March 29, 2017
[email protected]

ایک طویل بحث مباحثے، اعتراضات، خدشات اور جوڑ توڑ کے بعد آخرکار قومی اسمبلی اور سینیٹ نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا بل منظورکرلیا۔ پیپلزپارٹی فوجی عدالتوں میں توسیع کے خلاف تھی لیکن زرداری کی مفاہمتی سیاست کا کرشمہ ہے کہ پیپلزپارٹی اس بل کی حمایت پر راضی ہوگئی چونکہ سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی بالادستی ہے جس کی وجہ سے یہ خدشات پائے جاتے تھے ۔

فوجی عدالتوں سے ہمارے سیاست دانوں کوکس قدر شدید اختلاف ہے اس کا اندازہ ہمارے سیاست دانوں کے فرمودات سے ہوسکتا ہے۔ اپوزیشن ارکان نے کہاہے کہ ''نہ چاہتے ہوئے بھی ہم یہ کڑوا گھونٹ پی رہے ہیں'' ہمارے اعتدال پسند سیاسی رہنما اور سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے کہا ہے کہ ''آج کا دن بد قسمتی کا دن ہے'' ارکان صرف موضوع تک محدود رہیں۔

اس موضوع پر بات کرتے ہوئے موصوف آبدیدہ ہوگئے تھے لیکن جہاندیدہ قیادت کی مرضی کے آگے انھیں ہاں کرنا پڑی، برسر اقتدار پارٹی کے ارکان نے فرمایا ہے کہ غیرمعمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جے یو آئی (ف) کے مولانا عطاء الرحمن نے بل کی بعض شقوں میں ترامیم پیش کیں جنھیں ایوان نے مسترد کردیا۔ پختونخوا میپ اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے بل کی مخالفت کی، پی ٹی آئی جوعموماً مسلم لیگ ن کے ہر اقدام کی مخالفت کرتی ہے اﷲ کے حکم سے اس بل کی منظوری میں مرکزی حکومت کے ساتھ کھڑی رہی۔

جمہوریت میں فوجی ادارے حکومت کے تابع رہتے ہیں چونکہ فوجی عدالتوں کے قیام سے جمہوری دوستوں کو یہ خدشہ رہتا ہے کہ فوج کوکسی ادارے میں خود مختار بنانا جمہوریت کے لیے اچھا شگون نہیں اور پھر یہ حضرات اس حوالے سے زخم خوردہ ہیں، لہٰذا فوجی عدالتوں میں توسیع سے ان کا ماتھا ٹھنکنا فطری ہے لیکن بعض اوقات حالات ایسے پیدا ہوجاتے ہیں کہ سیاست دانوں کو کڑوے گھونٹ پینا پڑتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ہماری جمہوریت ابھی ارتقائی مراحل سے گزر رہی ہے، لہٰذا کسی قسم کے خطرات مول لینا عقل مندی نہیں ہے لیکن بات یہی ہے کہ سیاست دانوں کوکڑوے گھونٹ پینا پڑتا ہے۔ ہمارا ملک دہشت گردی کے جس کلچرکی زد میں ہے۔

اس کلچر نے ہمارے سیاست دانوں کو مجبورکردیا ہے کہ وہ خاص صورتوں میں فوج سے مدد لیں ویسے تو سارا پاکستان ہی دہشت گردی کی زد میں ہے لیکن پختونخوا اس حوالے سے خطرناک حد تک متاثر رہا ہے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں نے اپنے مضبوط اڈے قائم کرلیے تھے جس کی سرکوبی سول اداروں کے بس کی بات نہ تھی، سوسابق چیف آف آرمی اسٹاف نے ''ضرب عضب'' کے نام سے جو آپریشن شروع کیا حکومت کی اس کو مکمل حمایت حاصل رہی ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ضرب عضب کی وجہ سے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی اوراس کا کریڈٹ بھی فوج کو ملا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سول انتظامیہ نااہل ثابت ہوئی۔ سول سیکیورٹی ادارے بھی دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں قربانیاں دیتے رہے لیکن سول ادارے (پولیس) چونکہ مختلف حوالوں سے الزامات کی زد میں رہے۔ اسی لیے بعض موقعوں پر عسکری اداروں کو آگے آنا ضروری ہوتا ہے، کراچی میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ کے مسلسل ہونے والے واقعات کی وجہ سے کراچی آپریشن میں رینجرزکو استعمال کرنا پڑا۔

فوجی عدالتیں ملک میں پہلی بار متعارف نہیں ہوئیں فوجی حکومتوں کے دوران تو فوجی عدالتیں فوجی حکومتوں کا لازمی حصہ رہیں لیکن سول حکومتوں کے دوران بھی فوج سے مدد لی جاتی رہی اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے سول حکمران ہمیشہ بدنامیوں کی زد میں رہے۔ ان پر یہ الزام ہے کہ وہ پولیس کو اپنے مفاد میں استعمال کرتے ہیں فوج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا آسان نہیں پھر فوج ہی ایک ایسا ادارہ ہے جس پر عوام اعتماد کرتے ہیں اس پس منظر میں خود اہل سیاست اکثر موقعوں پر فوج کی مدد کے خواہاں رہتے ہیں۔

ملک میں مردم شماری ہورہی ہے جس میں فوجی جوان اہم حفاظتی کردار ادا کررہے ہیں، ہمارے سیاست دان ماضی میں بھی انتخابات فوج کی نگرانی میں کرانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور 2018 کے انتخابات بھی فوج کی نگرانی میں کرانے کے مطالبے کیے جارہے ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں چونکہ پولیس کا کردار شک و شبہات سے بالاتر رہتا ہے لہٰذا ان ملکوں میں فوج کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ بد قسمتی سے پسماندہ ملکوں میں پولیس کا ادارہ اس قدر بدنام ہے کہ خود اہل سیاست اہم قومی امور میں فوج کے تعاون کے خواہش مند رہتے ہیں، اگر سول اداروں کو اہم قومی امور میں استعمال کرنا ہو تو ان اداروں کو سیاسی دباؤ اور سیاسی استعمال سے آزاد کرناہوگا۔

اس حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا عدالتی نظام نہ صرف انتہائی سست روی کا شکار ہے بلکہ خود عدلیہ کے اعلیٰ سطح ارکان اس سست روی کا کھلے عام اعتراف کرتے ہیں۔ دہشت گردی ایک ایسا خطرناک مرض ہے جس کے لیے نہ صرف قانون اور انصاف کو تیزی سے فیصلے کرنا ضروری ہوتا ہے بلکہ اپنے فیصلوں پر اس تیزی سے عمل درآمد کی ضرورت بھی ہوتی ہے جب عدلیہ ان دونوں اہم امور کو تیزی سے انجام دینے سے قاصر ہو تو پھر فوجی عدالتوں کے علاوہ کوئی آپشن موجود نہیں رہتا، ہمارے سیاسی عمائدین فوجی عدالتوں میں توسیع کو بد قسمتی اور کڑوا گھونٹ کہتے ہیں تو یہ خیال جمہوریت کے عین مطابق ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جمہوری اداروں کو ان غلاظتوں سے پاک کیا جائے جو جمہوریت ہی نہیں بلکہ سیاست کی بھی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ فوجی عدالتوں سے خوف کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سارے اعلیٰ سطح کے سیاست دان اربوں کی کرپشن کے مقدمات میں ملوث ہیں انھیں یہ خوف لاحق ہے کہ خدانخوستہ فوجی عدالتوں کا دائرہ ان کے مقدمات تک وسیع نہ ہوجائے۔

مقبول خبریں