برطانوی پارلیمنٹ کے سامنے
پاکستان نہ صرف ایک مسلم ملک ہے بلکہ دنیا میں اسلام کا قلعہ بھی کہلاتا ہے
ISLAMABAD:
برطانوی پارلیمنٹ کے باہردہشت گرد حملے میں 4 افراد ہلاک اور 20 سے زاید افراد زخمی ہو گئے۔ جوابی فائرنگ سے اگرچہ دہشتگرد ہلاک تو ہو گیا لیکن اپنے پیچھے یہ سوال چھوڑ گیا کہ انتہائی سخت سیکیورٹی کے باوجود ایک دہشتگرد ساری رکاوٹوں کو توڑ کر سارے سیکیورٹی حصاروں کو روند کر برطانوی پارلیمنٹ کے سامنے کیسے پہنچ گیا؟
ادھر اسی روز پاکستانی علاقے لوئر اورکزئی ایجنسی میں دہشتگردوں سے جھڑپ کے دوران ایک میجر اور ایک سپاہی شہید ہو گئے۔ پاک افغان بارڈر، انگور اڈے میں ایک گاڑی دہشتگردوں کی بچھائی ہوئی سرنگ سے ٹکرا گئی جس میں اسکاؤٹ فورس کے اہلکار شہید ہو گئے۔ پاکستان کے صوبہ پختونخوا میں آئے دن دہشتگردی کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ آج ہی کی بات ہے امریکا کے شہر لاس ویگاس میں بھی دہشتگردوں کی فائرنگ سے لوگ زخمی ہو گئے ان خبروں کا حوالہ اس لیے دینا پڑ رہا ہے کہ دہشتگردی اب کسی ایک ملک یا کسی ایک علاقے کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ اس کی رسائی ہر براعظم ہر ملک تک ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کو یقین دلایا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خاتمے میں تعاون کریں گے۔
اس قسم کے بیانات دہشتگردی کی ہر واردات کے بعد میڈیا کی زینت تو بنتے ہیں لیکن یہ بیانات میڈیا کی زینت بننے کے علاوہ کچھ نہیں کر پاتے۔ہماری مغربی حکومتوں کے اکابرین ان حقائق پر غور کرنے کی زحمت نہیں کرتے کہ دہشتگردی کا آغاز کیوں ہوا، کون اس کے ذمے دار ہیں۔ سب سے پہلے دہشتگردوں کا باضابطہ استعمال افغانستان سے روس کو نکالنے کے لیے امریکا نے کیا۔ پاکستان کے اس وقت کے صدر ضیا الحق نے بغیر سوچے سمجھے نتائج کی پرواہ کیے بغیر نہ صرف پاکستان کے دینی مدرسوں کو دہشتگردی کے ٹریننگ اسکولوں میں بدل دیا بلکہ دیگر مسلم ملکوں کے دہشتگردوں کو بھی افغانستان سے روس کو نکالنے کے ''جہاد'' میں شامل کر دیا۔
اس حوالے سے امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں نے یہ شرمناک چال چلی کہ روس اور امریکا کے مفادات کی اس جنگ کو جہاد کا نام دے کر مسلم ملکوں کے مذہب پرست نوجوانوں کو اس امریکی جہاد میں شرکت کی ترغیب فراہم کی۔ جہاد کے دھوکے میں پاکستان میں کاشت کیے گئے، مجاہدین دوسرے مسلم ملکوں کے مجاہدین سے مل کر چھاپہ مار جنگ کے ذریعے روس کو افغانستان سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ امریکا کا یہ سیاسی مقصد جب پورا ہو گیا تو امریکا نے ان مجاہدین کو لاوارث چھوڑ دیا۔
امریکی جہاد کا نشہ مجاہدین کے سر اس طرح چڑھ گیا تھا کہ وہ ''بے کار مباش کچھ توکیا کر'' کے مصداق خود مسلمانوں کے خلاف جہاد پر اتر آئے۔ روس کے خلاف یہ جہاد آخر کار دو فقہوں کے درمیان دہشتگردی کا وسیلہ بن گیا اور پاکستان سے لے کر یمن، شام، عراق، اور افریقہ سمیت دنیا بھر میں خون آشام جنگ میں بدل گیا۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلم ملکوں کے مذہبی اکابرین سر جوڑ کر بیٹھتے اور مسلمانوں کے درمیان موجود اور فروغ پاتے ہوئے فقہی اختلافات کو ختم کرنے کا راستہ نکالتے لیکن المیہ یہ ہوا کہ فقہی سیاست کرنے والے ملکوں نے اس فقہی قتل وغارت کی سرپرستی شروع کر دی۔
پاکستان نہ صرف ایک مسلم ملک ہے بلکہ دنیا میں اسلام کا قلعہ بھی کہلاتا ہے اور اسی اسلام کے قلعے میں رہنے والے ستر ہزار سے زیادہ مسلمان دہشتگردی کی نذر ہو گئے۔ ہماری مذہبی قیادت ببانگ دہل کہہ رہی ہے کہ اسلام کے نام پر مسلمانوں کا اس قتل عام سے کوئی تعلق نہیں لیکن اس کے خلاف کوئی منظم اور منصوبہ بند تحریک چلانے کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔ یمن، شام اور عراق اس فقہی دہشتگردی کے خون میں نہائے کھڑے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف عرب ملکوں کا ایک اتحاد منظر عام پر آیا لیکن یہ اتحاد دہشتگردی کے بجائے شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف متحرک رہا۔امریکا، فرانس، جرمنی، برطانیہ سمیت کئی مغربی ملکوں میں دہش گردی کی کارروائیاں جاری ہیں لیکن دنیا کی یہ بڑی طاقتیں دہشتگردی کو تو ختم نہ کر سکیں بلکہ اس میں اضافے کا سبب ضرور بن گئیں۔
اگر مغرب کے عمائدین دہشتگردی کے خاتمے میں مخلص ہوتے تو سب سے پہلے اس کے اسباب اور محرکات کا جائزہ لے کر ان اسباب و محرکات کو ختم کرنے کی کوشش کرتے۔ مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر مذہبی انتہا پسندی اور دہشتگردی کی دو بنیادی وجوہات ہیں دونوں جگہوں پر 70 سال سے مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ کیا امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں نے کبھی سنجیدگی سے ان دونوں مسائل کا منصفانہ حل نکالنے کی کوشش کی؟ اس سوال کا جواب ہی مذہبی انتہا پسندی اور دہشتگردی کی شکل میں دنیا کے سامنے موجود ہے۔ ٹرمپ اور ان کے مغربی اتحادی اگر واقعی مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو فلسطین اور کشمیر کے مسئلوں کو حل کرائیں اور پسماندہ مسلم ملکوں میں ہتھیاروں کے بجائے تعلیمی اداروں کے فروغ میں مدد دیں۔