سوات میں طالبان کی واپسی کی افواہوں سے خوف وہراس

ملالہ حملہ،ٹارگٹ کلنگ اورحالیہ دھماکوں کے پیچھے گہری سازش ہے،سیکیورٹی افسر


AFP January 15, 2013
ملک نازک ترین دورمیں ہے،امن کاخواب نہ جانے کب پوراہوگا،شہریوں کے تاثرات فوٹو: اے ایف پی/ فائل

پاکستان میں ہونے والے حالیہ بدترین 2 دھماکوں نے سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور کامیابیوں پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔

لوگوں میں عام تاثر یہ ہے کہ طالبان واپس آرہے ہیں بلکہ وہ سرے سے کمزور ہوئے ہی نہیں تھے۔ خوف زدہ عوام کی اکثریت اس نہج پر سوچ رہی ہے کہ پہلے ملالہ پر حملہ، پھر سوات اور کوئٹہ کے دھماکوں کا تسلسل اور اسی دوران کنٹرول لائن کے واقعات ملک کے خلاف کسی گہری اور غیر معمولی سازش کا حصہ ہیں، بالخصوص ایسے موقع پر جب مئی کے وسط میں عام انتخابات بھی ہونے ہیں۔

2009 میں طالبان کے خلاف بڑے پیمانے پر کی جانے والی زمینی اور فضائی کارروائی، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کا اب تک کا سب سے بڑا کارنامہ سمجھا جاتا تھا۔ یاد رہے کہ سوات کم و بیش 2 برس طالبان کے زیر نگیں رہا اور اس کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے پاکستانی فوج کو وہاں کے مکینوں کو نکال کر بڑے پیمانے پر آپریشن کرنا پڑا تھا۔ لیکن تبلیغی اجتماع میں ہونے والے دھماکے نے ایک بار پھر شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے کہ کیا یہ طالبان نے کیا ہے؟ واضح رہے کہ طالبان نے اس سے انکار کیا ہے۔



تاہم انھیں طالبان کی کارروائی سمجھنے والے اور پاکستانی فورسز اسے طالبان کی واپسی کا نقارہ سمجھتے ہیں۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ سوات کی بد امنی کا ذمے دار مولوی فضل اللہ اور اس کے وفادار افغانستان سے کارروائیاں کرتے ہیں۔ گو کہ 4 سال پہلے والی صورتحال تو نہیں کہ جب سڑک سڑک، گلی گلی طالبان نظر آتے تھے تاہم سیکیورٹی آفیشلز تصدیق کرتے ہیں کہ نظر نہ آنے کے باوجود، معاشرے میں انکی موجودگی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔