روسی وفد کی شمالی وزیرستان آمد

امریکا و سویت روس کی اشتراکیت کے تناظر میں نظریاتی کشمکش سے دنیا بلاک پالیٹکس میں بٹ گئی تھی،


Editorial March 31, 2017
، فوٹو: آئی ایس پی آر

KARACHI: پاک روس تعلقات ایک نئی کروٹ لے رہے ہیں جو امکانی طور پر اور غیر معمولی اسٹرٹجیکل باب کھلنے کا عندیہ دیتے ہیں۔ عالمی اور ملکی سیاسی مبصرین نے روسی وفد کے دورے کو اپنی نوعیت کا غیر رسمی مطالعاتی دورہ قراردیا ہے جس کا مقصد دنیا کے اس حصہ میں دہشگردوں کے خلاف آپریشن اور انتہائی مضبوط گڑھ کو ان کی دہشتگردانہ کارروائیوں سے پاک کرنے کے لیے پاک فوج کی عسکری طاقت اور حکمت عملی کا جائزہ لینا ہے، پاک روس تعلقات میں یہ بریک تھرو سے کم نہیں ۔ بلاشبہ روس کو خطے میں بدامنی، دہشتگردی اور شورش کا گہرا ادراک ہے ، روسی وفد کے لیے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے فعال کردار اور شمالی وزیرستان میں جسے طالبان اپنا عقابوں کا ناقابل تسخیر نشیمن کہتے تھے زمینی حقائق کا مشاہدہ کرنے میں آسانی ہوگی جس کے دوران پاکستان کی ریاستی رٹ کو مسلسل چیلنج کرنے والے طالبان نیٹ ورک کے قدم اکھیڑے گئے جب کہ آپریشن ضرب عضب نے ان کے پندار دہشتگردی کا صفایا کیا اور فاٹا میں اپنے اہداف کامیابی سے مکمل کیے۔

ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف کرنل جرنل اسراکوف سرگی یوریوچ کی قیادت میں روسی فوجی وفد نے شمالی وزیرستان کے ہیڈکوارٹر میران شاہ اور جنوبی وزیرستان کے ہیڈ کوارٹر وانا کا دورہ کیا، اس موقع پر وفد کو پاک آرمی کی جانب سے فاٹا کو ہر رنگ و نسل کے دہشت گردوں سے بلاتفریق پاک کرنے سے متعلق اقدامات سے آگاہ کیا گیا ، آئی ایس پی آر کے مطابق روسی وفد کو فاٹا میں دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز آپریشن سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی ، پاک افغان بارڈر منیجمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا، وفد نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی کامیابیوں اور خطے میں استحکام لانے کی کوششوں کو سراہا ،دورے کے دوران کورکمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ بھی روسی وفد کے ہمراہ تھے۔

سفارتی حلقوں کے مطابق روس کی خطے کے ایک حساس حصے میں دہشتگردی سے ہونے والے نقصانات کے ادراک اور پاکستان کی دہشتگردوں سے نمٹنے کی عسکری اور سیاسی صلاحیت کو خراج تحسین پیش کرنے کی ایک وجہ بھی اس وفد کی آمد ہوسکتی ہے ۔ تاریخ کے ابتدائی ادوار اور قیام پاکستان کے بعد پاک روس تعلقات میں پیش رفت کے فقدان اور امریکا کی طرف اچانک جھکاؤ ،سیٹو اور سنٹو معاہدوں اور نظریاتی محاذ پر عالمی کشمکش کے باعث روس سے پاکستان کے ممکنہ تعلقات ایک دیومالائی قربتوں میں فاصلہ کی حیثیت اختیار کرتے چلے گئے اور برسوں بعد آج پاک روس تعلقات کا ایک اہم موڑ آیا ہے جو خطے میں تزویراتی حوالہ سے ٹرننگ پوائنٹ بھی ہوسکتا ہے، روایتی طور پر روس بھارت کا دیرینہ سٹریٹجیکل حلیف رہا ہے جب کہ امریکا کی اسے آشیرباد حاصل ہے ۔

امریکا و سویت روس کی اشتراکیت کے تناظر میں نظریاتی کشمکش سے دنیا بلاک پالیٹکس میں بٹ گئی تھی، یوں لگتا ہے کہ اب ماضی کو فراموش کرنے اور خطے کے نئے تقاضوں کے ساتھ جینے کے نئے عزائم پاک روس تعلقات کی بنیاد بننے جا رہے ہیں، کیونکہ امکانات اور توقعات کا یہ سیاق و سبق روس کے دہشتگردوں سے نمٹنے کے تجربات سے الگ کوئی حقیقت نہیں، روس کو اپنے اطراف، ہمسایہ وسط ایشیائی ریاستوں، روس کے انہدام اور چیچنیا (گروزنی) یوکرین، کریمیا اور کاکیشیا سمیت دیگر ریاستوں اور شام و عراق کی دگرگوں صورتحال سے بھی قریبی واسطہ رہا ہے، اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ روسی وفد کا دورہ مستقبل کی سمت ایک نتیجہ خیز سفر کا آغاز ہے۔

روس اپنے پڑوس میں دہشتگردی اور انتہا پسندی پر گہری تشویش رکھتا ہے، اس کے علم میں ہے کہ ازبک اسلامک موومنٹ اور داعش کے مابین الحاق افغانستان کی صورتحال میں چنگاری بھڑکا سکتا ہے، پاکستان کو افغانستان کا امن عزیز ہے اور عالمی طاقتوں سے اس کی استدعا خطے میں امن و استحکام کے قیام سے جڑی ہوئی ہے، تاہم امریکی حلقوں نے روس کے افغانستان اور خطے میں بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ اور پاکستان کی طرف با معنی مراجعت پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے، میڈیا کے مطابق ایک امریکی سینیٹراور فوجی جنرل نے روسی عزائم پر اظہار خیال کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ افغانستان میں طالبان کو اسلحہ اور دیگر امداد مہیا کر رہا ہے،امریکی سینیٹر کاردین کا کہنا ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے کا مطلب روسی اثرونفوذ کا خاتمہ نہیں اور اس کا ثبوت امریکی انتخابات میں روسی مداخلت ہے۔ ادھر روسی صدر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس نے کبھی امریکی انتخابات میں مداخلت نہیں کی، میڈیا رپورٹ کے مطابق صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ امریکا میں روس کے بہت سے دوست ہیں، روس کے خلاف باتیں وہ لوگ کرتے ہیں جن کے امریکا میں مفادات ہیں۔

پاکستان کو محتاط رہنا چاہیے کہ پاک روس تعلقات کو سبوتاژ کرنے کے لیے خطے میں بدخواہوں کی کمی نہیں، تاہم پاکستان کو بلا خوف قدم آگے بڑھانا اور کسی کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے۔ امن دشمنوں کو خطے میں امن گوارا نہیں چنانچہ پارا چنار میں دہشتگردی کی خونریز واردات انسانیت سوز کارروائی اور کھلی کینہ روی ہے جس میں 22سے زیادہ افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔مگر یہ بزدلانہ واردات پاکستان کے قدم نہیں روک سکتی۔