جے یو آئی کے سربراہ کا دو ٹوک موقف
تمام مسالک علمائے کرام فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر دہشت گردی کے خلاف متفقہ لائحہ عمل طے کریں
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اگلے روز صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمان نہ تو دہشت گرد ہیں اور نہ اسلام ہی کا دہشت گردی سے کوئی تعلق ہے' ہمارا عسکریت پسندی یا بندوق کے زور پر اپنی بات منوانے والوں سے کوئی تعلق نہیں' عسکری رجحانات کو رد کرتے ہوئے غیرشرعی قرار دے چکے ہیں اور ہم عسکری رجحانات کے حامل نظریے سے لڑنے والے لوگ ہیں' بندوق کے ذریعے انقلاب اور خود کش حملوں کو رد کرتے ہوئے واضح کر چکے ہیں کہ ہم ملکی آئین کا ساتھ دینگے' ملک کی سلامتی کی جنگ فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر لڑنا ہو گی۔
آج اسلامی ممالک بالخصوص پاکستان' ترکی' عراق ، شام ، یمن ، صومالیہ اور افغانستان جس طرح دہشت گردی کی لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں، اس کا تقاضا ہے کہ تمام مسالک علمائے کرام فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر دہشت گردی کے خلاف متفقہ لائحہ عمل طے کریں۔ پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے نظریاتی ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی گئی' نظریاتی ابہام پیدا کرنے والوں میں مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتوں کے لیڈر شپ بھی شامل رہی ہے جبکہ اہل دانش کا ایک حصہ بھی کنفیوژن پھیلانے میں مصروف رہا ہے۔
اس ابہام کا فائدہ دہشت گردوں کے سرپرست اٹھاتے رہے ہیں، نظریاتی خلفشار کے باعث عوام میں بھی گومگو کی کیفیت پیدا ہوئی جس کی وجہ سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عوام کی بھرپور شرکت دکھائی نہیں دے رہی اور نہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں میں کوئی سنجیدگی نظر آئی جس سے دہشتگردوں کو تقویت ملی اور وطن عزیز کا بھاری نقصان ہوا۔
جے یو آئی کے سربراہ نے بڑے واضح انداز میں دہشت گردی کے نظریے کو رد کر دیا ہے جو خوش آئند بات ہے۔ حالات اور وقت کا تقاضا یہی ہے کہ دہشت گردوں کو مذہب کا سہارا نہ لینے دیا جائے۔ اس نظریاتی جنگ میں تشدد کے حامیوں اور امن دشمنوں کو علماء کرام ہی شکست دے سکتے ہیں۔ امام خانہ کعبہ اپنے خطبے میں خود کش حملوں کو حرام قرار دے چکے ہیں۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام امن پسند مذہب ہے اور وہ بے گناہوں کے خون بہانے کو جائز قرار نہیں دیتا لیکن اس بیانیے کو علماء کرام متحد ہو کر آگے لے کر بڑھیں اور واضح کریں کہ خود کش حملے اور دہشتگردی کسی بھی طور پر جائز نہیں۔ جو گروہ مذہب کی آڑ میں دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں ان کو ناکام بنانا علماء کرام پر فرض ہو چکا ہے۔ حیرت انگیز امر ہے کہ مسلمان ممالک ہی دہشت گردی کا شکار ہیں اور مسلمان ہی مذہب کے نام پر مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں۔
شرپسند عناصر فرقہ واریت کو ابھار کر مسلمانوں کے اتحاد کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور یہی دہشت گردوں کا ایجنڈا بھی ہے کہ فرقہ واریت جس قدر تیزی سے بڑھے گی وہ اپنے مذموم مقاصد میں اتنا ہی کامیاب ہوں گے۔ لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ اسلامی دنیا کے تمام علمائے کرام باہمی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر میدان عمل میں اتریںاور اس بارے میں تمام مسالک کے علماء کرام اور اکابرین واضح اور دو ٹوک الفاظ میں دہشت گردی کو رد کریں' اس طریقے سے دہشت گردی میں ملوث گروہ دین کا سہارا نہیں لے سکیں گے اور حکومت جن دہشت گردوں کو سزائے موت دے گی' ان کے بارے میں عوام میں ہمدردی کے جذبات پیدا نہیں ہوں گے۔