امریکا کی ون چائنا پالیسی

ٹرمپ چین کے ساتھ ہم آہنگی کو فروغ دینے اور چین کا دورہ کرنے کے خواہش مند ہیں


Zaheer Akhter Bedari April 03, 2017
[email protected]

چینی صدر شی چنگ پنگ سے بیجنگ میں ملاقات کے دوران امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا کہ واشنگٹن ون چائنا پالیسی پر عمل پیرا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ چین کے ساتھ ہم آہنگی کو فروغ دینے اور چین کا دورہ کرنے کے خواہش مند ہیں۔ چینی صدر نے کہا کہ انھیں ٹیلرسن کے دورہ چین کے دوران اب تک ہونے والی پیش رفت پر خوشی ہے وہ اور ٹرمپ دو طرفہ تعلقات میں تعمیری پیش رفت کے لیے ایک نئی بنیاد کی توقع رکھتے ہیں۔ ٹیلرسن نے کہا کہ ٹرمپ دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح رابطوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔

ٹیلرسن نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ مزید مذاکرات سے ہم ہم آہنگی کے عظیم مقصد کو حاصل کر لیں گے جو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی مضبوطی کا باعث بنے گا۔ چینی صدر شی نے کہا کہ ٹیلرسن نے تعلقات کے اس نئے دور کے لیے بہت کوششیں کی ہیں۔ ٹرمپ کے ساتھ ان کے کئی رابطے ہو چکے ہیں۔ ہم دونوں کا خیال ہے کہ چین اور امریکا کے درمیان تعاون اب اس سمت میں آگے بڑھے گا جس کے لیے ہم کوشش کرتے آئے ہیں۔ چینی صدر نے ٹرمپ کو دورہ چین کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکا کے درمیان تعاون ہی ہمارا مشترکہ انتخاب ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد ایسی متضاد پالیسیاں اپنائی ہیں کہ ان کی شخصیت امریکا کے اندر اور امریکا کے باہر متنازعہ بن گئی ہے، ٹرمپ کی خارجہ پالیسی بھی انھی تضادات کا شکار ہے، ٹرمپ جہاں چین سے تعلقات کو ایک اہم پیش رفت اور مشترکہ ضرورت کہہ رہے ہیں وہیں جنوبی چین کے جزائر پر چینی دعوؤں کے حوالے سے سخت مخالفانہ پالیسی اپنائے ہوئے ہیں اور جاپان کی پیٹھ ٹھونکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس حوالے سے دنیا کے مدبرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ جنوبی چین کے سمندر اور جزائر پر چینی دعویٰ کہیں اس خطے میں جنگ کا سبب نہ بن جائے۔

جب تک سوشلسٹ بلاک موجود تھا اور چین اس کا اہم حصہ تھا امریکا کے ساتھ چین کے نظریاتی اختلافات تھے، سوشلسٹ بلاک سرمایہ دارانہ نظام استحصال کا سخت مخالف تھا اور سوشلزم کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلی ہوئی معاشی ناانصافیوں کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ دنیا کے عوام جو صدیوں سے معاشی استحصال کا شکار چلے آ رہے تھے، سوشلسٹ بلاک کے اس لیے حامی بن گئے تھے کہ انھیں یہ امید تھی کہ سوشلسٹ معیشت انھیں سرمایہ دارانہ نظام کی معاشی ناانصافیوں سے نجات دلا دے گی، عوام کی اسی حمایت کی وجہ دنیا بھر میں خصوصاً پسماندہ ممالک میں سوشلزم مقبول ہوتا گیا حتیٰ کہ دنیا کا 1/3 حصہ سوشلزم کے تابع ہو گیا۔

دو ڈھائی سو سال تک سرمایہ دارانہ نظام نے دنیا کے عوام کو جو معاشی عدم مساوات میں مبتلا کر رکھا تھا اس سے دنیا کے غریب عوام سخت بیزار تھے اس طویل عرصے میں سرمایہ دارانہ نظام کا کوئی بہتر متبادل دنیا کے سامنے نہ آیا اور دنیا کے عوام بھوک، افلاس، بے روزگاری، تعلیم اور علاج سے محروم زندگی گزارتے رہے لیکن جب 1917ء میں انقلاب روس ظہور پذیر ہوا تو دنیا بھر کے غریب عوام میں یہ امید پیدا ہوئی کہ شاید اب انھیں سرمایہ دارانہ طبقاتی استحصال سے نجات مل جائے لیکن ''اے بسا آرزو کہ خاک شدہ'' سرمایہ دارانہ نظام کے شاطروں نے سوشلسٹ بلاک کے گرد ایسا گھیرا ڈالا اور سرد جنگ اور اسٹار وار کے ذریعے سوشلسٹ ملکوں کی معیشت کو اس طرح تباہی کے کنارے پہنچا دیا کہ آخر کار سوشلسٹ بلاک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا اور دنیا کی دوسری سپر پاور روس بکھر گئی۔ سوشلسٹ بلاک کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد اب سرمایہ دارانہ نظام نے ساری دنیا پر قبضہ جما لیا اور دنیا کے 7 ارب غریب عوام استحصال کی چکی میں پس رہے ہیں جس سے نجات کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔

چین اور امریکا کے درمیان دوستانہ تعلقات سے ہو سکتا ہے دونوں ملکوں کے درمیان تصادم کے امکانات کم ہو جائیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دو بڑے ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات سے کیا دنیا میں غربت، بے روزگاری، بھوک، افلاس میں کمی آئے گی؟ جب تک چین میں سوشلسٹ معیشت رائج تھی چین دنیا سے غربت اور معاشی استحصال کو ختم کرنے کا دعویدار تھا اور اس کی خارجہ پالیسی بھی انھی خطوط پر استوار تھی اب جبکہ چین خود سرمایہ دارانہ معیشت کا اسیر ہو کر رہ گیا ہے۔ کیا وہ دنیا کے 80 فیصد غریب اور بنیادی ضرورتوں سے محروم انسانوں کو معاشی انصاف دلا سکتا ہے؟

چین اور امریکا کے محترم صدور نے دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کی جو نوید سنائی ہے کیا یہ بہتر تعلقات صرف دونوں ملکوں کے سیاسی اور اقتصادی مفادات پر ہی استوار ہوں گے یا دنیا کے 80 فیصد غریب عوام کی غربت دور کرنے میں کوئی کردار ادا کر سکیں گے؟ سرمایہ دارانہ نظام معاشی ناانصافیوں کی بنیاد پر استوار ہے اگر حقیقت یہی ہے تو کیا چین امریکا دوستی دونوں ملکوں کے سیاسی اور اقتصادی مفادات تک محدود نہیں رہے گی؟ اگر حقیقت یہی ہے تو چین امریکا کی دوستی سے دنیا کے غریب عوام کو کیا فائدہ ہو گا۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا ون چائنا پالیسی پر عمل پیرا رہے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹو چائنا پالیسی کس کی ایجاد ہے اور کس کی حمایت سے پروان چڑھتی رہی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں خارجہ پالیسیاں گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی رہتی ہیں اور ان کا محور قومی مفادات ہوتے ہیں۔ اگر حقیقت یہی ہے تو پھر دنیا کے 7 ارب بھوکے عوام کو چین امریکا دوستی سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟

مقبول خبریں