مثبت سوچ کا اظہار
لانگ مارچ کے قضیے میں قائداعظم کی برطانوی بادشاہ سے وفاداری، سندھ میں بلدیاتی نظام اورتقسیم کے نعرے کے سوالات ابھر آئے
GUANGZHOU:
لانگ مارچ کے قضیے میں قائداعظم کی برطانوی بادشاہ سے وفاداری کی بات ، سندھ میں بلدیاتی نظام اور سندھ کی تقسیم کے نعرے کے سوالات ابھر آئے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے واضح کیا کہ پاکستان میں بلدیاتی نظام کے بغیر جمہوریت فراڈ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اگرچہ ایم کیو ایم کے قائد نے 11 جنوری کو ڈاکٹر طاہرالقادری کے لانگ مارچ میں شرکت کا اعادہ کیا اور پھر 12 جنوری کو صبح کے اختتام پر دہشت گردی کی وجوہات کی بنا پر لانگ مارچ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا مگر الطاف حسین کی تقریر اس سیاسی ماحول میں بحث کو کئی پہلوؤں کی طرف لے گئی۔
انھوں نے تاریخی حقائق بیان کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم کے حلف کے حوالے سے کچھ حقائق بیان کیے۔ قائد اعظم کا یہ حلف اٹھانا ایک قانونی مجبوری تھی۔ الطاف حسین نے پاکستان بنتے وقت کی جو صورتحال بیان کی وہ حقائق کے مطابق ہے۔ جب انڈیپنڈنٹ ایکٹ کے تحت بھارت اور پاکستان علیحدہ علیحدہ ملک کی حیثیت سے وجود میں آئے تو یہ دونوں ممالک سلطنت برطانیہ کی ڈومین میں تھے۔ دونوں ممالک کا آئین تیار نہیں ہوا تھا۔ برطانیہ کے بادشاہ ہندوستان کا نظام چلانے کے لیے گورنر جنرل مقرر کرتے تھے۔ اس اصول کے تحت برطانیہ کے بادشاہ نے بھارت کے لیے 1946 میں ایڈمرل مائونٹ بیٹن کو بھارت اور 15 اگست 1947 کوقائد اعظم محمد علی جناح کو پاکستان کا گورنر جنرل مقرر کیا۔ پاکستان میں 1956 کے آئین کے نفاذ تک گورنر جنرل کا تقرر برطانیہ سے ہوتا رہا۔
جب 1956 میں ملک کا آئین بنا تو اسکندر مرزا ملک کے پہلے صدر مقرر ہوئے۔ اس حقیقت کا ذکر کرنا تاریخ کے حقائق کے مطابق ہے۔ الطاف حسین کے اس بیان پر تنقید کرنے کا مقصد حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ انھوں نے ماضی کے اس واقعے کا ذکر برطانیہ میں اپنی جلاوطنی اور برطانوی شہریت پر تنقید کے حوالے سے کیا ہے۔ کئی مخالفین الطاف حسین کے برطانیہ میں قیام پر تنقید کرتے ہیں۔ انھیں قائد اعظم کے بارے میں حقائق پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ الطاف حسین کے اس بیان کا ایک اہم ترین حصہ سندھ میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے ہے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ قوم پرست بلدیاتی نظام کے مخالف ہیں، تو کیا اردو بولنے والے سندھی نہیں ہیں؟ انھیں اردو بولنے والوں سے ناراضگی کا خیال کیوں نہیں آتا؟
جمہوریت ہی وہ نظام ہے جو کسی ملک کو ترقی اور استحکام دے سکتا ہے، دنیا بھر میں جمہوریت کے علاوہ بادشاہت، خلافت، فوجی یا شخصی آمریت اور ایک جماعتی آمریت کے تجربات ناکام ہوچکے ہیں۔ جن ممالک میں اب تک بادشاہتیں اور فوجی آمریتیں ہیں وہاں ایک مخصوص طبقے کی بالادستی ہے۔ اکثریت غربت کا شکار ہے۔ یوں مصر، لیبیا، الجزائر اور تیونس وغیرہ میں تبدیلیاں آرہی ہیں۔ شام، سعودی عرب، ایران، اردن، مراکش وغیرہ جلد یا بدیر تبدیلیوں کا شکار ہوں گے۔ امریکا اور یورپی مالک نے جمہوریت کے تحت حیرت انگیز ترقی کی ہے۔
ہمارے پڑوس میں بھارت میں جمہوریت کی بنا پر وہ ٹوٹ پھوٹ سے بچ گیا اور ترقی کی طرف راغب ہوگیا۔ جمہوری نظام دنیا میں اس وقت مستحکم ہوتا ہے جب اختیارات نچلی سطح تک منتقلی کے لیے ادارے قائم ہوتے ہیں۔ یہ بلدیاتی ادارے نہ صرف نچلی سطح پر ترقی اور غربت کے خاتمے کا فریضہ انجام دیتے ہیں بلکہ نچلی سطح سے قیادت پیدا کرتے ہیں۔ یوں بلدیاتی اداروں سے پیدا ہونے والی منتخب قیادت صوبائی اور قومی اسمبلیوں تک پہنچتی ہے، عوام کو سماجی جمہوریت کے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
پاکستان میں 30 سال سے زیادہ عرصے تک فوج اقتدار پر قابض رہی، منتخب حکومتوں کی عمریں کم رہیں مگر منتخب حکومتوں نے نچلی سطح سے اختیارات کی منتقلی کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا۔ فوجی حکومتوں نے اپنے اقتدار کو جمہوری قرار دینے کے لیے بلدیاتی ادارے قائم کیے، دیہاتوں اور شہروںمیں انفرااسٹرکچر کی تعمیر اور عوام کے اپنے نمایندوں کے ذریعے فیصلے کرنے کا عمل سست رفتاری کا شکار رہا۔ منتخب حکومتوں میں صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے ارکان نے گلیوں، سڑکوں اور برج کی تعمیر، صفائی ستھرائی کے ٹھیکوں کو اپنے فرائض میں شامل کرلیا، وہ اپنے بنیادی قانون سازی، حکومتوں کے لیے منصوبہ بندی اور ان کے احتساب کے عمل سے دور ہوگئے۔
کچھ سماجی ماہرین کہتے ہیں کہ منتخب نمایندوں کے لیے پیسے کمانے، اپنے حامیوں کو ملازمتیں دلوانے اور مخالفین کے محلوں کو سیوریج، پانی، سڑکوں اور اسکولوں سے محروم کرنے کی راہ میں نچلی سطح تک اختیارات کے ادارے رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس لیے وہ بلدیاتی نظام کی مخالفت کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے 1988 کے انتخابات کے موقع پر تیار ہونے والے منشور میں نئے سوشل کانٹریکٹ کا واضح طور پر ذکر تھا۔ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو برطانیہ کے کاؤنٹی کے نظام کی خوبیوں سے واقف تھیں۔ یوں جب 2000 میں سابق صدر پرویز مشرف نے نچلی سطح کے اختیارات کے حامل بلدیاتی نظام کو نافذ کیا تو پیپلز پارٹی نے اس نظام کی حمایت کی اور بلدیاتی انتخابات میں بھرپور شرکت کی تھی۔
سندھ میں بلدیاتی نظام کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہوئے۔ اس نظام میں خامیوں کے باوجود سندھ کے شہروں میں ترقی کا عمل تیز ہوا۔ کراچی گزشتہ 12 سال کے دوران دنیا کے جدید شہروں کی طرح ابھر آیا۔ حیدرآباد میں بھی خاطر خواہ ترقی ہوئی مگر چھوٹے شہروں اور گاؤں میں ترقی کا عمل خاطرخواہ نتائج نہ دے سکا۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کی رہنما ڈاکٹر فریال تالپور نواب شاہ اور ڈاکٹر نفیسہ شاہ خیرپور میں ناظمہ رہیں، اس کے علاوہ سکھر میں پیپلز پارٹی کے سابق رہنما ناصر شاہ ناظم رہے مگر ان شہروں میں ترقی کیوں نہیں ہوئی اس معاملے میں ہنوز تحقیق کی ضرورت ہے۔
صدر زرداری نے 2008 میں پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد اسمبلی میں نمایندگی کرنے والی تمام جماعتوں کو صوبائی اور وفاقی حکومتوں میں شامل کیا، تو امید تھی کہ پرویز مشرف کے نافذ کردہ بلدیاتی نظام میں جامع تبدیلی ہوگی اور سب سے پہلے سندھ میں بلدیاتی انتخابات ہوں گے اور باقی صوبوں کو بھی سندھ کی تقلید کرنی پڑے گی مگر پیپلز پارٹی کے پالیسی ساز اکابرین کی حکمت عملی کی بنا پر یہ معاملہ التوا کا شکار رہا۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم بلدیاتی آرڈیننس میں ترامیم پر بہت دیر میں متفق ہوئے۔ بلدیاتی انتخابات کی نوید سنائی جاتی رہی مگر انتخابات نہیں ہوسکے۔ حکومت نے دو سال قبل ایم کیو ایم کے صوبائی کابینہ سے استعفیٰ کے بعد کمشنری نظام نافذ کرکے جنرل ضیاء الحق کے دور کا بلدیاتی نظام بحال کردیا۔ گزشتہ سال نئے بلدیاتی قانون پر اتفاق رائے ہوا مگر قوم پرستوں نے نادیدہ قوتوں کے اشارے پر بلدیاتی نظام کو نزعی مسئلہ بنالیا۔
بلدیاتی نظام کی مخالفت کرنے والے مسلم لیگ، پیر پگارا، جماعت اسلامی اور بعض قوم پرست جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیتے رہے اور ان جماعتوں کے نامزد ارکان میئر اور ناظمین بھی رہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے تمام دباؤ کے باوجود اپنا موقف برقرار رکھا مگر سندھ میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوسکے۔ اب پھر اس طرح کی خبریں شایع ہورہی ہیں کہ بلدیاتی نظام کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جارہا ہے مگر سندھ میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے تنازعہ اس صوبے کی مخصوص صورتحال کے لیے نقصان دہ ہے۔
بلدیاتی نظام پر تنقید کرنے والوں کی مثبت تجاویز پر ضرور غور ہونا چاہیے مگر بلدیاتی نظام کے بغیر جمہوری نظام نامکمل رہے گا۔ بلدیاتی نظام پر اختلاف کی بنا پر بعض حلقوں کی جانب سے سندھ میں علیحدہ صوبہ بنانے کی سوچ انتہائی منفی ہے۔ سندھ اردو بولنے والوں کی دھرتی ہے، سندھ کے لوگ مہمان نواز ہیں۔ 1947 میں ہندوستان سے آنے والوں کو گلے لگایا تھا۔ ان سے اختلاف کی صورت میں بات چیت اور بحث و مباحثہ جاری رہنا چاہیے۔ مگر 1947 میں آنے والے اب تک ہندوستان کو توڑنے کا الزام اور اس کے نقصانات برداشت کررہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے قائد خود 1947 میں ہونے والی غلطیوں کا ذکر کرچکے ہیں۔ اب 1947 کی تاریخ کو دہرانا نہیں چاہیے۔
باشعور حلقوں کو امید ہے کہ اردو بونے والے کبھی بھی سندھ کو توڑنے کا الزام اپنے سر نہیں لیں گے۔ پیپلز پارٹی سندھ کی اکثریتی جماعت ہے، وہ اور بہت سے لوگ اس نظام کے حق میں ہیں۔ امید کی کرن سندھ کی ترقی کی نوید دے رہی ہے۔ سندھ میں رہنے والے عام لوگوں کو مثبت سوچ کا اظہار کرنا چاہیے۔