نریندر مودی کی آمد پر مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال
بھارتی فوج نے کشمیریوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے مقبوضہ کشمیر کے دورے کے موقع پر پوری وادی میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی' تمام بازار اور دکانیں بند رہیں' کنٹرول لائن کے دونوں جانب احتجاجی مظاہرے کیے گئے جنھیں روکنے کے لیے بھارتی فوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی' پوری حریت قیادت کو گھروں میں نظربند کر دیا گیا' کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کیا گیا اور پوری وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا۔
نریندر مودی مقبوضہ کشمیر میں جموں سرینگر نیشنل ہائی وے پر 9.2کلو میٹر طویل سرنگ کے افتتاح کے لیے آئے تھے، اس موقع پر تقریب کے دوران انھوں نے کشمیری نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے نوجوان بھارتی فوج کو پتھر مار رہے ہیں انھیں دہشت گردی یا پھر سیاحت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا' انھوں نے کشمیریوں کو کشمیر کے صوفی کلچرکی طرف مراجعت کی تلقین کی۔
نریندر مودی نے کشمیریوں کو خریدنے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی پیکیج متعارف کروائے لیکن شاید وہ یہ بھول گئے کہ کشمیریوں نے آزادی کی جو جنگ شروع کی ہے اسے ترقیاتی منصوبوں سے سرد نہیں کیا جا سکتا۔ مودی کی آمد کے موقع پر کشمیریوں نے پوری ریاست میں ہڑتال کر کے جس طرح ان کا استقبال کیا اس نے یہ ثابت کر دیا کہ کشمیری ان کے جھانسے میں نہیں آنے والے۔ کشمیریوں نے تو پتھر اٹھائے ہوئے ہیں مگر بھارتی فوج نے گولیاں برسا کر ان پر جو ظلم و ستم ڈھائے ہیں مودی کو ان کا ذکر بھی کرنا چاہیے تھا۔
اگر وہ مقبوضہ وادی میں جا بجا کشمیریوں کے قبرستانوں کا دورہ کر لیتے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ بھارتی فوج نے کشمیریوں کے قتل عام میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بھارتی وزیر اعظم کو اس حقیقت کا ادراک کر لینا چاہیے کہ یہ دہشت گردی کی لہر نہیں آزادی کی جنگ ہے جسے کشمیری اپنا خون دے کر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مودی کشمیریوں کو صوفی کلچر کی تلقین کرنے کے بجائے اگر بھارتی فوج کو امن کا درس دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا اس سے پوری وادی میں امن قائم ہو اور بے گناہ کشمیریوں کا جو خون بہہ رہا ہے وہ بند ہو جائے گا۔
بھارتی فوج نے کشمیریوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران صرف پلوامہ میں گرفتار ہونے والوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر گئی ہے۔ کشمیریوں نے آزادی کی جو تحریک شروع کی ہے اسے نہ بھارتی فوج کا جوروستم روک سکا اور نہ مودی کے ترقیاتی منصوبے۔ وقت آ گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا مذاکرات کے ذریعے پرامن حل تلاش کیا جائے۔