آئی جی کے معاملہ پر مصالحت کی ضرورت

عدالت عالیہ نے ایک انتظامی شو ڈاؤن سے صوبہ کو بچالیا


Editorial April 04, 2017
۔ فوٹو؛ فائل

سندھ ہائی کورٹ نے منگل کی صبح آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا، عدالت عالیہ نے قراردیا کہ آیندہ سماعت تک انھیں عہدہ سے نہ ہٹایا جائے۔واضح رہے آئی جی پولیس سندھ کے معاملے پر سندھ حکومت اور وفاق میں گزشتہ سال ماہ دسمبر میں بھی کشیدگی پیدا ہوئی تھی، سندھ حکومت نے اے ڈی خواجہ کو 15 دن کی رخصت پر جانے کی ہدایت کی تھی مگر وفاق نے اس اقدام پر اعتراض کیا اور موقف اختیار کیا کہ ایسا اقدام صوبہ سندھ کے مفاد میں نہیں ہوگا اور سبکدوشی رک گئی۔

اس بار پھر اے ڈی خواجہ کی سبکدوشی پر اندیشہ تھا کہ یہ انتظامی معاملہ کہیں سنگین صورت نہ اختیار کرلے تاہم منگل کو سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کا نوٹیفکیشن معطل کرکے سندھ حکومت اور وفاق میں سیز فائر کا صائب ماحول پیدا کرنے کی ضرورت کا احساس دلایا ہے جب کہ دوسری طرف آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی سبکدوشی کا معاملہ طے ہونے سے پہلے قائم مقام آئی جی سردار عبدالمجید دستی نے چارج سنبھال لیا، اجلاس کی صدارت کی اور سندھ پولیس کو اپنے چارج سنبھالنے کا پیغام بھی جاری کردیا، اس تنازع کا ایک خوش آیند پہلو یہ ہے کہ اے ڈی خواجہ نے ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے پیر کو دفتر نہ جانے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ عدالت عالیہ نے ایک انتظامی شو ڈاؤن سے صوبہ کو بچالیا، حالانکہ دونوں سینئر پولیس افسران نیک نام اور احساس فرض سے سرشار ہونے کا ریکارڈ رکھتے ہیں اس لیے سندھ اس بات کا کسی طور متحمل نہیں ہوسکتا کہ ایک طرف ملک کے سب سے بڑے تجارتی شہر میں سیکیورٹی فورسز بلا امتیاز آپریشن ردالفساد میں مصروف ہوں اور دوسری طرف سندھ پولیس اور وفاق کے مابین ایک انتظامی معاملہ سنگین ایشو بن جائے جب کہ آئی جی کی تقرری یا سبکدوشی ایک معمول کا پروسیجرل انتظامی معاملہ ہے جسے پولیس ایکٹ 2002 ء کی دفعہ 2 کے تحت ارباب اختیار باہمی مشاورت سے طے کرسکتے ہیں کیونکہ مقصد تو یہ ہے کہ پولیس سیاسی دباؤ سے آزاد ہوکر اپنے پیشہ ورانہ فرائض پر توجہ دے اور شہر قائد سمیت سندھ بھر میں امن امان برقرار رکھنے کے اہم ٹاسک کو پورا کرے، کشیدگی سے صرف مفاد پرست عناصر فائدہ اٹھائیں گے جب کہ ضرورت ملک کے معاشی حب میں امن و امان کے مستقل اور پائیدار قیام ، اداروں کے مابین مثالی اشتراک عمل، قانون شکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور شفاف حکمرانی کو یقینی بنانے کی ہے۔