لوڈ شیڈنگ کا جن نواز شریف کے پائوں کی زنجیر

گرمی کے آغاز پر ہی لوڈ شیڈنگ میں اضافہ نے ایک مرتبہ پھر حکومت کی ساکھ کا جنازہ نکال دیا ہے


مزمل سہروردی April 04, 2017
[email protected]

گرمی کے آغاز پر ہی لوڈ شیڈنگ میں اضافہ نے ایک مرتبہ پھر حکومت کی ساکھ کا جنازہ نکال دیا ہے۔ حکمران جماعت کہہ رہی ہے کہ وہ صرف کارکردگی کی بنیاد پر اگلا الیکشن لڑے گی اور مجھے امید ہے کہ حکومت کے تھنک ٹینکس کو یہ علم ہو گا کہ عوام کے نزدیک حکومت کی کارکردگی کا واحد پیمانہ لوڈ شیدنگ ہی ہو گا۔

یہ درست ہے کہ سی پیک بھی ایک کارنامہ ہو گا لیکن پھر بھی لوڈ شیڈنگ پہلا اور آخری پیمانہ ہو گا جس پر عوام موجودہ حکومت کی کارکردگی کو جانچیں گی۔پانامہ کے اس شور میں محفوظ فیصلے کے انتظار میں لوڈ شیڈنگ میاں نواز شریف اور ان کی جماعت کے لیے زہر قاتل سے کم نہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پانامہ کے فیصلہ کے قریب لوڈ شیڈنگ میں اضافہ میاں نواز شریف کے لیے مسائل میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس ضمن میں حکومت نے گیلپ کا ایک سروے جاری کیا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے62 فیصد پاکستانی سمجھتے ہیں کہ ملک میں لوڈ شیڈنگ میں کمی ہوئی ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ سروے سردیوں کا ہے۔

یہ لوڈ شیڈنگ صرف عوام کے لیے درد سر نہیں ہے۔ بلکہ یہ حکمرانوں کے لیے بھی درد سر ہے۔ اسی لوڈ شیڈنگ نے 2013 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے اقتدار کا جنازہ نکالا ہے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت کا خیال تھا کہ انھوں نے آئین بحال کیا ہے، صوبوں کو حقوق دیے، اس لیے لوگ لوڈ شیڈنگ کو نظر انداز کریں گے لیکن عوام نے لوڈ شیڈنگ کو اہمیت دی۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے لو ڈشیڈنگ ختم کرنے کے بے شمار وعدے کیے۔

مسلم لیگ کے مختلف رہنماؤں نے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کی مختلف ڈیڈ لائن دیں۔ میاں شہباز شریف نے تو چھے ماہ کی ڈیڈ لائن دے دی۔ میاں نواز شریف نے بھی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ البتہ وہ مدت دینے میں احتیاط برتتے رہے۔ تا ہم اب حکومت کے چار سال مکمل ہونے لگے ہیں۔ اور عوام کا صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو رہا ہے۔

آپ مانیں یا نہ مانیں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں لوڈڈ شیڈنگ ہی میاں نواز شریف کے پائوں کی وہ زنجیر ہے جس نے ان کے ہاتھ پائوں باندھے ہوئے ہیں۔ یہی لوڈ شیڈنگ میاں نواز شریف کو کسی بھی جار حا نہ فیصلے سے روک رہی ہے۔ وہ اپنی سیاسی طبیعت کے بر عکس خاموشی سے حکومت کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ خاموشی ان کے لیے سیاسی طور پر خود کشی بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن لوڈ شیڈنگ کے ساتھ عوام کے پاس دوبارہ جانا بھی کسی سیاسی خود کشی سے کم نہیں ہو گا۔

ایک رائے یہ بھی ہے اگر پانامہ کا فیصلہ میاں نواز شریف کے خلاف آیا تو وہ فوری انتخاب کا اعلان کر سکتے ہیں۔ اس بات کو اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ اگر پانامہ کا فیصلہ میاں نواز شریف کے خلاف آتا ہے تو عمران خان فوری طور پر نئے انتخابات کا مطالبہ کر دیں گے اور سڑکوں پر نکل کر ن لیگ کو مجبور کریں گے کہ وہ فوری انتخابات کا اعلان کرے۔

دوسری طرف حکمران جماعت گو کہ ابھی اس ضمن میں مکمل خاموش ہے لیکن پھر بھی حکمران جماعت کے دریچوں سے احسن اقبال کا نام بطور نئے وزیر اعظم سامنے آرہا ہے۔ لیکن احسن اقبال کا ہی ایک بیان ہے جس میں انھوں نے قبل از وقت انتخابات کے لیے فارمولہ بھی دیا ہے۔ ان کے مطابق جب تک تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی بھی قبل از وقت انتخابات کے لیے متفق نہ ہوں تب تک ملک میں قبل از وقت انتخابات نہیں ہو سکتے۔ اس ضمن میں مسلم لیگ (ن) اکیلے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔ کیونکہ جب تک سندھ اور کے پی کے کی اسمبلیاں نہ توڑی جائیں تب تک ملک میں قبل از وقت انتخابات نہیں ہو سکتے۔

مجھے امید ہے کہ احسن اقبال کو اندازہ ہو گا کہ پانامہ کا فیصلہ میاں نواز شریف کے خلاف آنے کے بعدیہ دونوں جماعتیں قبل از وقت انتخابات کے لیے فورا تیار ہو جائیں گی۔ مسئلہ تو ن لیگ کا ہو گا جو لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کے بغیر انتخابات میں جانے کا رسک نہیں لے سکتی۔ ویسے تو اگر پانامہ کا فیصلہ میاںنواز شریف کے حق میں آجائے تب بھی فوری انتخابات میاں نواز شریف کا کوئی برا آپشن نہیں ہے لیکن لوڈ شیڈنگ کے ساتھ وہ اس آپشن کو استعمال نہیں کر سکتے۔ وہ چاہے پانامہ میں سرخرو ہو جائیں لیکن اگر لوڈ شیڈنگ میں سر خرو نہیں ہیں تب تک وہ عوام کے پاس نہیں جا سکتے۔

آپ مانیں یا نہ مانیں گزشتہ سال پانامہ سے پہلے بھی جب اسٹبلشمنٹ سے تنائو بہت بڑھ گیا تھا تب بھی میاں نواز شریف نے عوام سے دوبارہ مینڈیٹ لینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن تب بھی لوڈ شیڈنگ ہی میاں نواز شریف کی پیرو ں کی وہ زنجیر تھی جس نے ان کو روک دیا۔ میاں نواز شریف کو بار بار یہ باور کروایا گیا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کے جن کے ساتھ عوام کے پاس جانا اپنی سیاسی موت کو خود آواز دینے کے مترادف ہو گا۔ اور وہ اب اس پر یقین بھی رکھتے ہیں۔ لیکن مجبور بھی ہیں۔

لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کی واحد امید میاں شہباز شریف کی جانب سے پنجاب میں شروع کیے گئے بجلی کے منصوبے ہیں۔ ان منصوبوں پر دن رات کام جاری ہے لیکن ابھی بھی ان کو مکمل ہونے کے لیے چھے ماہ درکار ہیں۔ ان میں گیس اور کوئلہ کے منصوبے شامل ہیں۔ اس طرح حالات کچھ بھی ہوں جب تک بجلی کے یہ منصوبے مکمل نہیں ہوتے ۔ حکومت انتخابات کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ایسا سوچنا گناہ کبیرا ہو گا۔ حکومت کی واحد امید ہے کہ یہ منصوبے مکمل ہو جائیں تو تقریبا پانچ ہزار میگاواٹ بجلی مل جائے گی جو لوڈ شیڈنگ کے جن کو قابل ذکر قابو کرنے کے لیے کافی ہو گی۔ لیکن جب تک یہ منصوبے مکمل نہیں ہو تے۔ حکومت کچھ نہیں کر سکتی۔

یہ بھی درست ہے کہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کو بخوبی اندازہ ہے لوڈ شیڈنگ ن لیگ کی سیاسی موت ہے اسی لیے انھوں نے اپنے صوبوں میں بجلی کا کوئی منصوبہ نہیں لگا یا۔ ورنہ اگر پنجاب میں بجلی کے منصوبے لگ سکتے ہیں تو سندھ اور خیبر خیبر پختونخوا میں بھی لگ سکتے ہیں۔ لیکن دونوں حکومتوں نے اس معاملہ پر کوئی توجہ نہیں دی۔ لیکن یہ کوئی ایسی بات نہیں سیاست میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

میاں شہباز شریف آج جو بجلی کے منصوبے لگا رہے ہیں وہ یہ منصوبے پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں بھی لگا سکتے تھے۔ لیکن انھوں نے بھی تب کوئی توجہ نہیں دی۔ سیاست میں اپنا سیاسی مفاد قومی فاد سے زیادہ اہم ہو تا ہے۔ اور لوڈ شیڈنگ کے معاملہ کو قومی مفاد کے بجائے سیاسی مفاد کی نظر ہی سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ لوڈ شیدنگ پر سیاست نے ہی قوم کو عذاب میں مبتلا کیا ہوا ہے۔

سیاسی جماعتوں نے متحد ہو کر لوڈ شیڈنگ سے نبٹنے کے بجائے اس پر سیاست کی ہے۔ اس کو ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔ جو اپنی جگہ افسوسناک ہے۔ لیکن بطور عوام ہم مجبور ہیں ہم لوڈ شیڈنگ کی سزا صرف حکومت کو ہی دے سکتے ہیں۔ ہم نے پہلے پیپلزپارٹی کو سزا دی۔ اب ن لیگ کو سزا دے سکتے ہیں ۔ لیکن کیا تمام سیاسی جماعتیں اور سیاسی قیادت اجتماعی طور پر بھی اس کی ذمے دار ہیں۔

مقبول خبریں