سپریم کورٹ کا فیصلہ درست ٹائمنگ غلط ہے قانونی ماہرین ملا جلا ردعمل

آج آستین کے سانپوں نے جمہوریت کو ڈسا ہے، عاصمہ جہانگیر


Staff Reporter/Online January 16, 2013
سپریم کورٹ ماحول سے متاثر ہوکر نہیں، آئین کے مطابق فیصلے کرتی ہے، انور منصور خان، فیصلے کا لانگ مارچ سے کوئی تعلق نہیں، سعید الزمان صدیقی

ملک کے ممتاز قانونی ماہرین نے سپریم کورٹ کی جانب سے رینٹل پاور کیس میں وزیر اعظم راجا پرویز اشرف کی گرفتاری پرملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

کچھ قانونی ماہرین نے اسے مشکوک قرار دیا جبکہ بعض ماہرین کی رائے میں عدالت حالات و واقعات سے متاثر ہوکر فیصلے نہیں کرتی، قانونی ماہرین اعتزاز احسن، عاصمہ جہانگیر اور سلمان اکرم راجا نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلے کے وقت کی وجہ سے شکوک و شبہات جنم لیں گے، لگتا ہے سپریم کورٹ غیر جمہوری قوتوں کے ساتھ ہے جبکہ سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان اور جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی نے کہا کہ عدالت آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہے، ماحول سے متاثر ہوکر نہیں۔

وزیراعظم نااہل نہیں ہوئے، وہ جیل میں بھی وزیراعظم رہ سکتے ہیں، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے مارچ کے شرکا کے حوصلے بڑھ سکتے ہیں، انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو نااہل قرار نہیں دیا، وہ گرفتار بھی ہوئے تو جیل میں بھی وزیراعظم رہیں گے،سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ملک میں کئی دنوں سے جمہوریت پر حملہ ہورہا ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ جو بھی ہو اس کے وقت پر شکوک ہیں اور میں اتنا ہی کہوں گا کہ کاش یہ فیصلہ ایک ہفتہ قبل یا ایک ہفتہ بعد آجاتا۔، جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی نے کہا کہ پرویز اشرف کو سزا نہیں ہوئی، ایک کیس میں عمل درآمد نہ کرنے پر گرفتاری کا حکم ہوا، وہ اب بھی وزیراعظم ہیں اور جب تک سزا یا نااہلی نہیں ہوتی، وزیراعظم رہیں گے۔

 

10

فیصلے کا لانگ مارچ سے کوئی تعلق نہیں، سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ سپریم کورٹ ماحول سے متاثر ہوکر نہیں آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہے عدالت نے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے گرفتاری کا حکم دیا ہے،کراچی سے اسٹاف رپورٹر کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے لانگ مارچ کے موقع پر وزیراعظم کی گرفتاری کا حکم ٹائمنگ کی وجہ سے مشکوک ہوگیا ہے، اس موقع پریہ حکم محض اتفاق نہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ کسی سازش کا حصہ ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کے مہروں کے چہروں پر سے نقاب اتر گیا ہے، ڈاکٹر طاہرالقادری کے لانگ مارچ سے کوئی گلہ نہیں، مجھے تو جمہوریت کی آستین میں چھپے سانپوں سے شکایت ہے ۔ پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ جس چیف جسٹس کو آرمی چیف نے بحال کیا ہے، وہ آرمی چیف کی ہی بات مانے گا، چیف جسٹس سے سوال ہے کہ طاہرالقادری کے لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے کے بعد ہی کیوں فیصلہ کیا گیا؟ کیا وزیراعظم راجا پرویز اشرف ملک سے بھاگے جارہے تھے؟۔

مقبول خبریں