لاہور میں دہشت گردی کا الم ناک واقعہ
دہشتگردوں کا بے محابہ اور موثر تعاقب جاری ہے اس لیے کاؤنٹر ٹیررازم اسٹرٹیجی کا موثر ہونا بھی شرط اول ہے
لاہور کے بیدیاں روڈ پر خودکش حملہ میں 4 فوجی اہلکار سمیت 6 افراد شہید ہوگئے جب کہ 22 زخمی ہوئے جن میں 4 کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ ذرایع کے مطابق حملہ آور 22 سالہ ازبک دہشت گرد تھا جس کا سر مل چکا ہے، حملہ مردم شماری کی ٹیم کی وین پر کیا گیا جس میں چار فوجی جوان اور محکمہ تعلیم کے دو اساتذہ سوار تھے، خبر کے مطابق خود کش بمبار منتظر تھا اور جیسے ہی وین روانہ ہوئی اس نے قریب پہنچ کرخود کو اڑا لیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکے میں 10کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔ شہید ہونے والے فوجی اہلکاروں میں دو کا تعلق سندھ رجمنٹ سے جب کہ ایک کا 10ویں ایل این سے تھا، باقی تین کی شناخت ریاض، ساجد اور عبداللہ کے نام سے ہوئی ہے ۔
دہشت گردی کی اس الم ناک واردات کی ملک گیر مذمت جاری ہے۔ پاکستان کے دشمنوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے بعد آپریشن ردالفساد کے تحت سرچ آپریشن میں سیکڑوں مشتبہ افراد اور دہشتگرد گرفتار کیے جاچکے ہیں، ان کے سہولت کاروں کی شناخت ہوئی ہے، سیکیورٹی حکام نے غیر قانونی اسلحہ ،گولہ بارود اور خود کش جیکٹوں کی برآمدگی سمیت کرمنل گینگز اور مافیاؤں کے خطرناک نیٹ ورکس پر تابڑ توڑ حملے کیے ہیں ، یاد رہے 13 فروری کو لاہور مال روڈ کے چیئرنگ کراس چوک پر ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا ، اس سانحہ میں ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن احمد مبین اور ایس ایس پی آپریشز زاہد اکرم گوندل و دیگر پولیس اہلکار سمیت 13 افراد جاں بحق جب کہ 85 زخمی ہوئے۔
اس وقت پاکستان نے نشاندہی کی کہ افغانستان پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے، وہاں سے دہشتگرد ہدایات اور منصوبے لے کر پاکستان آتے ہیں ، گرفتار دہشتگردوں کی شناخت بھی ہوئی، ملکی میڈیا پر ازبک و دیگر خود کش حملہ آور اور ان کے باجوڑ میں سکونت پذیر سہولت کاروں کی لاہور کے کرائے کے مکان سے گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی ، چنانچہ بیدیاں روڈ سانحہ بھی دہشگردوں کے اس ہوس انتقام اور پاکستان دشمنی کا شاخسانہ ہے جس کو کچلنے کے لیے آرمی چیف نے اپنے بیان میں واضح طور پر کہا کہ مردم شماری کے قومی فرض کی ادائیگی کی بجا آوری عظیم قربانی ہے ،ان کا یہ اعلان قومی امنگوں کی صحیح ترجمانی ہے کہ مردم شماری اس سفاکانہ واردات کے باوجود جاری رہیگی اور دہشتگروں کو ختم کرکے دم لیا جائے گا۔
اب جب کہ ثابت ہوچکا کہ دہشت گردی کا محور افغان سرزمین ہے ، افغان صدر اشرف غنی اور وزارت دفاع کے حکام اور افغان سفیر سے ملاقاتوں اور رابطوں میں اس مطالبہ کا اعادہ کیا جاتا رہا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور ملا فضل اللہ سمیت تمام دہشتگردوں اور طالبان کے ماسٹر مائنڈز کو بلا تاخیر پاکستان کے حوالے کیا جائے، لیکن بھارتی دباؤ اور ریشہ دوانی کی وجہ سے افغان حکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ۔
بلاشبہ دہشتگردوں کا بے محابہ اور موثر تعاقب جاری ہے اس لیے کاؤنٹر ٹیررازم اسٹرٹیجی کا موثر ہونا بھی شرط اول ہے ، عسکری ڈاکٹرائن پر نظر رکھنا لازمی ہے ، اندر کے دشمنوں کے رد عمل سے بچنے کی سائنسی اور نتیجہ خیز دہشت گردی مخالف حکمت عملی کو مزید مستحکم اور فالٹ فری بنانے کی ضرورت ہے، پنجاب میں رینجرز آپریشن کے جواب میں ری ایکشن کے سدباب کے لیے کوئی خلا نہ چھوڑا جائے، خود کش حملوں کی ہر شکل ملیامیٹ ہونی چاہیے۔ پاک فوج نے ردالفساد آپریشن سے دہشت گردی کی کارروائیوں کی کمر توڑ دی ہے ، ملک بھر میں مشتبہ افراد کے خلاف سرچ آپریشن ہورہا ہے جس سے بوکھلا کر انتہا پسندوں نے اس وین کو ٹارگٹ کیا جو مردم شماری کے قومی فرض کی ادائیگی میں مصروف ٹیم کو لے جا رہی تھی ، یہ ان کے لیے آسان ٹارگٹ تھا۔
صدر مملکت ممنون حسین ، وزیراعظم نواز شریف ، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سمیت سیاسی رہنماؤں نے دہشت گردی کے اس بزدلانہ اور سفاکانہ واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اورنشانہ بنائے گئے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا، وزیراعظم نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی کہ شہدا کے لواحقین اور زخمیوں کو ہر ممکن امداد اور سہولت مہیا کی جائے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دہشت گردی کے واقعہ کی شدید مذمت کی ، شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور اعلان کیا کہ مردم شماری کے قومی فرض کی ادائیگی میں جام شہادت نوش کرنے والوں کو قوم سلام پیش کرتی ہے۔
ملک میں ایک طویل عرصہ کے بعد مردم شماری کا عمل شروع ہوا ہے جسے سبوتاژ کرنے کی شرم ناک سازش کی گئی اور مردم شماری کے لیے ڈیوٹی پر مامور فوجی اور شہری اہلکاروں کو شہید کیا گیا، ارباب اختیار کو اس بنیادی حقیقت کی تہہ تک پہنچنے کے لیے اب بھی ضرورت سرچ آپریشن کو مزید نتیجہ خیز بنانے کی ہے ، خود کش حملہ آور کی موجودگی سے سانحہ ہوا ۔ یہ ایک انسانیت سوز حملہ تھا جو پاکستانی قوم ، ریاست اور جمہوری نظام کے غیرمتزلزل عزم پر کیا گیا ۔لہٰذا شہدا کے خون کا بدلہ لینے تک حکمراں چین سے نہ بیٹھیں ۔