پاک بھارت بڑھتی کشیدگی پر امریکا کی تشویش
پاک بھارت تعلقات میں اختلافات نے امریکا کو بھی فکرمند کردیا ہے
پاک بھارت تعلقات میں اختلافات نے امریکا کو بھی فکرمند کردیا ہے، امریکی انتظامیہ نے پاک بھارت کشیدگی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، اور امریکا کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کے ہونے کا انتظار نہیں کرے گا بلکہ خود مذاکرات میں حصہ لے گا۔ ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر نکی ہیلے نے ایک ماہ کے لیے سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
اس سے پیشتر امریکا بھی دبے الفاظ میں پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے لیے اپنا مدعا بیان کرتا رہا ہے، لیکن اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے اپنی پریس کانفرنس میں مذاکرات میں امریکی قومی سلامتی کے ارکان کے ساتھ صدر ٹرمپ کی موجودگی کا بھی عندیہ دیتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی میں کمی دیکھنا چاہتے ہیں، ہمیں اس معاملے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے، جنوبی ایشیا کے دو بڑے ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے اقوام متحدہ کے دیگر ارکان بھی کردار ادا کریں گے۔
پاکستان کے مشیر خارجہ نے بیان کو سراہتے ہوئے امریکی صدر کی پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی کوششوں کا خیر مقدم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ امر پوری دنیا کے سامنے واضح ہے کہ پاکستان بھارت سے مذاکرات اور اچھے تعلقات کا خواہشمند رہا ہے، پاکستان سمجھتا ہے کہ خطے میں استحکام، پاک بھارت تعلقات اور کشمیر سمیت بنیادی ایشوز سے وابستہ ہے، اس لیے ان معاملات کا صائب حل نکالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ لیکن دوسری جانب بھارت اپنی روایتی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور اس نے پاکستان کے ساتھ تنازعات میں امریکی ثالثی کا امکان مسترد کردیا ہے۔
ترجمان بھارتی دفتر خارجہ گوپال بگلے نے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے دہشت گردی سے پاک ماحول کا موقف تبدیل نہیں ہوا۔ بھارتی وزراء کو سمجھنا ہوگا کہ جس دہشت گردی کے الزامات وہ اب تک پاکستان پر عائد کرتے آئے ہیں اس کے ڈانڈے خود بھارت سے ملتے ہیں، کشمیر میں جاری ریاستی مظالم دہشت گردانہ کرداروں کے پنپنے کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ بھارتی زعما کو سمجھنا ہوگا کہ پاک بھارت بہتر تعلقات ہی خطے کے لیے لازم ہیں، اس لیے ہٹ دھرم رویہ کو ترک کرتے ہوئے بھارت کو امریکی ثالثی کی بات پر غور کرنا چاہیے۔