حریت قیادت کا مسئلہ کشمیر پر امریکی ثالثی کا خیر مقدم

تحریک آزادی کے خلاف بھارت کے منفی پروپیگنڈے کے باوجود محکوم کشمیریوں کی آواز دنیا بھر میں سنی جارہی ہے، حریت رہنما


News Agencies April 06, 2017
پتھراؤ کرنیوالے اپنے وطن کیلیے لڑ رہے ہیں، فاروق عبداللہ کا جلسہ سے خطاب. فوٹو: فائل

مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی کے حالیہ بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔

امریکی سفیر نکی ہیلی کے بیان کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنی مفاہمت سازی کی صلاحیت کے ذریعے تنازع کشمیر حل کرسکتے ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیرکے سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ فاروق عبد اللہ نے کہا ہے کہ کشمیر میں پتھراؤ کرنے والے نوجوان اپنے وطن کیلیے لڑ رہے ہیں، ان کے اس بیان پر حکمراں جماعت بی جے پی بھڑک اٹھی جبکہ حزب اختلاف کانگریس کی جانب سے بھی شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے بھی اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی کے حالیہ بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنی مفاہمت سازی کی صلاحیت کے ذریعے تنازع کشمیر حل کرسکتے ہیں۔

امریکی سفیر نے اقوام متحدہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا تھا کہ امریکی انتظامیہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں تعاون کریگی۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک نے ایک بیان میں امریکی پیشکش کو مثبت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ امریکی سفیر کا بیان عملی صورت اختیار کرے گا۔ میر واعظ عمرفاروق کی سربراہی میں قائم فورم نے ایک بیان میں بھارت امریکا حالیہ خوشگوار تعلقات کی روشنی میں امریکی سفیر کے بیان کو حوصلہ افزا قرار دیا۔

دوسری جانب ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے چیئرمین شبیر احمد شاہ ، نعیم احمد خان، مختار احمد وازہ، بلال صدیقی، یوسف نقاش، جاوید احمد میراور سکھ رہنما نریندر سنگھ خالصہ نے اپنے بیانات میں کہاکہ امریکی بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریک آزادی کے خلاف بھارت اور اس کے اتحادیوں کے منفی پروپیگنڈے کے باوجود محکوم کشمیریوں کی آواز دنیا بھر میں سنی جارہی ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی ، دختران ملت، آسیہ اندرابی اور قاضی یاسر نے اپنے بیانات میں کشمیریوں سے اپیل کی کہ وہ انتخابی ڈرامے سے مکمل طور پر دور رہیں۔ بھارت ان انتخابات کے ذریعے عالمی برادری کی انکھوں میں دھول جھونکنا چاہتا ہے۔ انھوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ کشمیریوں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی بھارتی سازشوں سے باخبر رہیں۔

دریں اثنا بھارتی پولیس کے ہاتھوں نوجوانوں کی گرفتاری کے خلاف پلوامہ قصبے میںمکمل ہڑتال کی گئی۔ تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل تھی۔ لوگوں نے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔

دوسری طرف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ 'کشمیری نوجوان یہ طے کریں کہ وہ سیاحت چاہتے ہیں یا دہشت گردی' اس پر فاروق عبداللہ نے کشمیری سنگ بازوں کا دفاع کیا۔ سری نگر میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے فاروق عبد اللہ نے کہاکہ جو پتھر پھینک رہے ہیں انھیں سیاحت سے کوئی دلچسپی نہیں، دوسری جانب بی جے پی نے ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کے بیان پر سخت تنقید کی ہے۔

مقبول خبریں