اہل دانش اسی پگڈنڈی پر

موجودہ دور سائنس، ٹیکنالوجی، آئی ٹی تحقیق اور انکشافات کا دور ہے


Zaheer Akhter Bedari April 07, 2017
[email protected]

ہمارے محترم لکھاری جاگیردارانہ بورژوا سیاست میں ایسے الجھے ہوئے ہیں کہ قوم و ملک کا مستقبل ہماری نظروں سے اوجھل ہو کر رہ گیا ہے۔ قوم و ملک کے بہتر مستقبل کے لیے سوچنا اور اس حوالے سے منصوبہ بندی کرنا برسر اقتدار طبقات کی ذمے داری ہوتی ہے چونکہ ہمارا حکمران طبقہ ذاتی اور جماعتی مفادات کی سیاست میں اس بری طرح الجھا ہوا ہے کہ اس کی نظر قوم و ملک کے بہتر مستقبل کی طرف جاتی ہی نہیں۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے کو اپنی اولین ترجیح بنانا، اقتصادی راہداری کے معاہدے کو گیم چینجر کہنا ہماری سیاسی زندگی کے ایجنڈے میں سر فہرست ہیں اور بدقسمتی یہی ہے کہ ہمارے اہل قلم اہل دانش بھی اسی پگڈنڈی پر چل رہے ہیں۔ سیاست اور سیاسی رہنماؤں کی اندرکی باتوں کو پراسرار انکشافات کے طور پر پیش کرنا بڑے قلمکاروں کا طرہ امتیاز بن گیا ہے۔ اس احمقانہ اور پر فریب کلچر کی وجہ سے لکھاریوں کا سب سے بڑا موضوع سیاست ہی بن کر رہ گیا ہے۔

موجودہ دور سائنس، ٹیکنالوجی، آئی ٹی تحقیق اور انکشافات کا دور ہے اور بدقسمتی نہیں بلکہ المیہ یہ ہے کہ ہمارا حکمران طبقہ اور اہل سیاست وقت کے تقاضوں سے نابلد اپنا سارا وقت اقتداری سیاست میں گزار رہے ہیں اور عوام کو یہ باورکرانے میں مصر وف ہیں کہ 2018ء تک ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہمارے حاضر سرور اور ماضی کے حکمرانوں کی بدترین نااہلی ہے اگر 2018ء تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم ہو جاتی ہے تو یہ کوئی کارنامہ نہیں ہو گا بلکہ انھیں نااہلیوں کا ازالہ کرنا ہو گا۔ اسی طرح اقتصادی راہداری کے منصوبے کو انقلاب اور گیم چینجرکا نام دیا جا رہا ہے حالانکہ اس معاہدے سے اصل فائدہ ہماری اشرافیہ اور اس کے ایجنٹوں کو ہو گا، عام آدمی کے حصے میں بس روزگار کی کچھ سہولتیں آئیں گی۔

بیسویں اور اکیسویں صدی سائنس، ٹیکنالوجی، آئی ٹی کے انقلاب کی صدی ہے بلاشبہ عوام کی معاشی حالت کو بہتر بنانا حکمران طبقات کی ذمے داری ہے لیکن جدید دور میں ترقی کا مطلب جدید علوم پر دسترس حاصل کرنا ہے اور ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے دیہی علاقوں کے اسکول وڈیروں کے مویشی خانے اور اوطاق بنے ہوئے ہیں۔ دیہی علاقوں کے مکین اور زرعی معیشت سے جڑی 60 فیصد آبادی عملاً غلام بنی ہوئی ہے، شہری علاقوں کے سرکاری اسکول بچوں کے پلے گراؤنڈ بنے ہوئے ہیں اور پرائیویٹ اسکول سرمایہ کاری کی کاٹج انڈسٹری بن کر رہ گئے ہیں۔ ہمارا حکمران طبقہ آج کل ملک کے مختلف علاقوں میں عوام کو پینے کا صاف پانی مہیا کرنے، گھوسٹ ملازمین کو ڈیوٹیوں پر لانے، روڈ اور اسپتال تعمیر کرنے کے پروگراموں پر اربوں روپوں کے خرچ کے اعلانات کر رہا ہے۔

ہمارے ملک کی سیاست کو جن راستوں پر دھکیل دیا گیا ہے وہ راستے فکری پسماندگی بڑھانے کے راستے ہیں۔ ہمارے ملک کے طول و ارض میں ہزاروں دینی مدرسے قائم ہیں جہاں ایک اندازے کے مطابق 32 لاکھ سے زیادہ طلبا زیر تعلیم ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں طلبا کا زیر تعلیم رہنا یقینا ایک بڑی بات ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ان اسکولوں میں جدید علوم کا داخلہ بند ہے۔ ہمارے محترم علمائے کرام فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو دنیا کی امامت کرنے کا حق ہے اس قسم کی خواہش کرنا کوئی بری بات نہیں، بری بلکہ انتہائی مایوس کن بات یہ ہے کہ ہم سائنس، ٹیکنالوجی، آئی ٹی، تحقیق و انکشافات کو دین دشمنی سے تعبیر کرتے ہیں اور دینی تعلیم ہماری اولین ترجیح ہے۔

دنیا کے دوسرے مذاہب کے حامل ملکوں کے نصاب تعلیم میں جدید علوم سرفہرست ہیں جب کہ ہمارا پورا تعلیمی نظام جدید علوم تحقیق سے محروم ہے۔ ہمارے مستقبل کا سرمایہ وہ 32 لاکھ طلبا ہیں جو دینی مدرسوں میں فقہ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں یہ طلبا پاکستان کو سپرپاور کس طرح بنائیں گے؟مسلم ملکوں میں دہشتگردی جس زور و شور سے جاری ہے اس کا ایجنڈا بھی دہشتگردی اور خودکش حملوں کے ذریعے دنیا کی امامت کرنا ہے۔ مذہبی انتہا پسند اس مقصد کے حصول کے لیے خود مسلمانوں کا خون کس بیدردی سے بہا رہے ہیں، اس کی داستانوں سے میڈیا بھرا پڑا ہے۔ پاکستان، افغانستان، یمن، عراق، شام، افریقہ میں مختلف ناموں سے سیکڑوں دہشتگرد تنظیمیں سرگرم عمل ہیں اور ان کے جہاد کا نشانہ مسلمان ہی بن رہے ہیں۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ پارا چنار کے ایک بازار میں دہشتگردی کی ایک واردات میں دو درجن سے زیادہ پاکستانی جاں بحق اور سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ کیا یہ مارے جانے والے اور زخمی ہونے والے لوگ مسلمان نہیں تھے، ہندو، عیسائی یا یہودی تھے، پارسی تھے، سکھ تھے؟ نہیں یہ سب مسلمان تھے اور پاکستانی تھے، ان کا قصور بس یہ تھا کہ وہ ایک ایسے فقہ کے پیروکار تھے جنھیں دہشتگرد دین کی دشمن کہتے ہیں، بس یہی ان کا قصور اور جرم تھا۔ جس ملک کا یہ حال ہو اس کا مستقبل کیا ہو گا؟

سورج زمین کے گرد گھومتا ہے سیکڑوں سال پہلے کلیسا کا یہی عقیدہ تھا جن محققین نے تحقیق کے بعد کہا کہ سورج زمین کے گرد نہیں بلکہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ کلیسائی عقائد کے مطابق سورج زمین کے گرد گھومتا تھا۔ سو زمین کو سورج کے گرد گھومنے کا انکشاف ایسا جرم تھا جس کی سزا موت تھی سو سچ بولنے والوں کو سزائے موت سنائی گئی۔ لیکن یہ سچ بدل نہ سکا کہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ جھوٹ کے گرد گھومنے والے تو نہ رہے لیکن سچ بول کر موت کو گلے لگانے والوں کا سچ زندہ ہے، زمین سورج کے گرد ہی گھوم رہی ہے۔ سیکڑوں سال گزر گئے لیکن ہمارا معاشرہ ابھی تک سورج کو زمین کے گرد گھمانے پر ہی اڑا ہوا ہے۔ اگر زمین کو سورج کے گرد گھومتے دیکھنا چاہتے ہو تو معاشرے کو جدید علوم سے آراستہ کرو، ورنہ دنیا میں تم ہمیشہ دلت بنے رہو گے۔ سچ بولنے سے رکو گے تو تم کلیسائی نظام سے باہر نہ آ سکو گے۔

مقبول خبریں