سیاسی اتحادوں کا ایجنڈا
ملک میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی جماعتیں منتشر شکل میں موجود ہیں
پاکستان کو قائم ہوئے اب 70 سال ہونے کو آ رہے ہیں اس دوران بلاشبہ نصف عرصہ چار فوجی حکومتیں کی نذر ہو گیا لیکن لگ بھگ اتنا ہی عرصہ ملک میں جمہوری نظام بھی قائم رہا۔ اسے ہم عوام کی بدقسمتی کہیں یا اہل سیاست کی بددیانتی کہ اس طویل عرصے میں عوام کا کوئی مسئلہ حل نہ ہو سکا، بلکہ مسائل کے انبار میں بے تحاشا اضافہ ہی ہوتا رہا۔ ہمارے جمہوری نظام میں سیاستدانوں کو عوام کی یاد صرف الیکشن کے موقعے پر ہی آتی ہے۔
جمہوریت کا تمام عرصہ عوام سے دوری میں گزارنے کے بعد اہل سیاست انتخابی مہم کے دوران عوام کے دروازوں پر معصوم سوالی بن کر جاتے ہیں اور عوام سے دودھ اور شہد کی نہریں نکالنے کے وعدوں پر ان کے ووٹ حاصل کر کے جب اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہو جاتے ہیں تو عوام ان اکابرین کے حافظے سے حرف غلط کی طرح نکل جاتے ہیں۔ بے چارے عوام مسائل کے انبار میں اس طرح دب جاتے ہیں کہ ان کا سانس لینا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔
یوں تو عوام کے مسائل میں بے شمار مسائل ایسے ہیں جو غریب عوام کے لیے عذاب بنے ہوئے ہیں، مثلاً بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ۔ یہ مسئلہ عشروں سے عوام کے سروں پر مسلط ہے لیکن کسی حکومت کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے میں اخلاص اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ اس کے برخلاف ہر برسر اقتدار طبقہ ماضی کے حکمرانوں پر الزام لگاتا ہے کہ ان کی نااہلی کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ اس طرح کے مضحکہ خیز الزام لگانے سے پہلے وہ یہ سوچنا بھی گوارا نہیں کرتے کہ ان کا شمار بھی ماضی کے حکمرانوں میں ہوتا ہے۔ اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری پوری جمہوری تاریخ صرف دو جماعتوں کی حکمرانی سے عبارت ہے اور سیاسی زبان میں اس صورت حال کو باری باری کے کھیل سے تعبیرکیا جاتا ہے۔
اس کھیل کے جاری رہنے کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں کوئی ایسی سیاسی پارٹی موجود نہیں جو ان دو جماعتوں کا ایک بہتر متبادل بن سکے۔ تحریک انصاف کے حوالے سے یہ خیال تھا کہ یہ جماعت باری باری کے کھیل میں کھنڈت ڈالے گی اور ہر طرف سے مایوس عوام تحریک انصاف سے بڑی توقعات باندھے بیٹھے تھے لیکن اسی جماعت کی قیادت کی بچگانہ سیاست نے عوام کو مایوس کیا اور نتیجہ یہ ہے کہ سیاسی میدان میں دو ہی جماعتوں کے رہنما ڈنڈ بیٹھک لگاتے نظر آ رہے ہیں۔
ملک میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی جماعتیں منتشر شکل میں موجود ہیں لیکن ان کا المیہ یہ ہے کہ یہ جماعتیں ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر سکیں کہ آیا انھیں پارلیمانی سیاست میں حصہ لینا چاہیے یا نہیں۔ اس تذبذب کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہماری پارلیمانی سیاست غلاظت کا ایک ایسا ڈھیر بنی ہوئی ہے جس کی طرف ''مکھیاں'' تو جا سکتی ہیں لیکن کوئی مخلص اور ایماندار سیاستدان رخ کرتے ہوئے ہچکچاتا ہے۔اگلا سال الیکشن کا سال ہے۔ حکمران جماعت آنے والا الیکشن جیتنے کے لیے قومی سرمائے، قومی وسائل کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے اور ایسی منصوبہ بندی کر رہی ہے کہ الیکشن سے پہلے پہلے وہ بعض اہم منصوبوں کو مکمل کر لے تا کہ عوام کو یہ باور کرا سکے کہ وہ عوام سے کس قدر مخلص ہیں۔
بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے مسئلے ہی کو لے لیں یہ مسئلہ عشروں سے عوام کے لیے عذاب بنا ہوا ہے لیکن سیاست میں چونکہ مقابلے کی فضا بنی ہوئی ہے لہٰذا حکومت کی یہ کوشش ہے کہ لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ الیکشن سے پہلے پہلے حل ہو جائے بلکہ اس مسئلے کو حکومت نے 2018ء کے الیکشن میں ٹیسٹ کیس بنا لیا ہے جس کا مقصد عوام کو یہ باور کرانا ہے کہ حکومت عوامی مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے چنانچہ بجلی کے علاوہ آج کل الیکشن میں اپنی برتری اور کامیابی ثابت کرنے کے لیے اقتصادی راہداری کے معاہدے کو بھرپور طریقے سے استعمال کر رہی ہے۔
بلاشبہ اس معاہدے سے ملک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا لیکن اس کے بینیفشری عوام نہیں بلکہ وہی اشرافیہ اور اس کے اتحادی ہوں گے جو 70 سالوں سے پاکستانی معیشت پر قابض ہیں۔ عوام کے حصے میں اگر اس معاہدے سے کوئی حصہ آئے گا تو وہ ہو گا نچلے درجے کی کچھ ملازمتیں یا راہداری کی راہ میں بنائے جانے والے ڈھابے۔ اس حوالے سے اربوں روپوں کے جو کنٹریکٹ ملیں گے وہ صرف اور صرف اشرافیہ کا حصہ ہوں گے۔
سرمایہ دارانہ جمہوریت میں الیکشن کے موقعے پر ''ہم خیال'' سیاسی جماعتیں اتحاد بناتی ہیں تا کہ الیکشن پر ان کی گرفت مضبوط ہو اور الیکشن کے نتائج ان کے حق میں آئیں۔ اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ اس قسم کے اتحادوں میں شامل جماعتیں سیٹوں کے زیادہ سے زیادہ حصول کو اتحاد کی بنیاد بناتی ہیں۔ کسی انتخابی اتحاد میں قومی اہمیت کے مسائل کے حل کو ترجیح نہیں دی جاتی اگر عوامی مسائل اس قسم کے اتحادوں میں شامل بھی کیے جاتے ہیں تو ان کا مقصد عوام کو دھوکا دینا ہی ہوتا ہے۔ کوئی اتحاد عوامی اور قومی مسائل کے حل میں مخلص ہوتا ہے نہ اس قسم کے مسائل ان کی ترجیحات میں شامل ہوتے ہیں۔
اس پس منظر میں ایک ایسے سیاسی اتحاد کی ضرورت ہے جس کا مقصد عوام کو بے وقوف بنانا نہ ہو بلکہ اہم قومی اور عوامی مسائل کو حل کرنا ہو۔ ہمارے قومی مسائل میں ایک اہم مسئلہ زرعی اصلاحات ہیں جس کا کوئی سیاستدان نہ ذکر کرتا ہے نہ یہ مسئلہ کسی کے انتخابی منشور میں نظر آتا ہے، اسی طرح انتخابی اصلاحات ہمارا ایک اہم قومی مسئلہ ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت ہمارے قومی مسائل میں سرفہرست ہیں۔ کیا یہ مسائل کسی سیاسی اتحاد کے ایجنڈے میں شامل ہیں؟ اگر نہیں ہیں توکیوں نہیں ہیں؟