بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان پیار کی پینگیں

ایک جانب بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت ہے تو دوسری جانب بھارت میں انتہا پسند نریندر مودی حکمران ہیں۔


Editorial April 10, 2017
بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک مسافر ٹرین سروس تقریباً 50سال کے بعد دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان دوستانہ تعلقات میں نئے باب کا اضافہ ہوا ہے دونوں کے درمیان سول نیوکلیئر انرجی سمیت 22معاہدوں پر دستخط ہونے کے علاوہ فوجی معاہدہ بھی طے پایا ہے جس کے تحت بھارتی وزیراعظم مودی نے بنگلہ دیش کو دفاعی آلات کی خریداری کے لیے 50کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا، اس کے علاوہ بھارت بنگلہ دیش کو آسان شرائط پر 4.5ارب ڈالر کا قرضہ بھی دے گا۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد ان دنوں بھارت کے 4روزہ دورے پر ہیں۔

1971ء کی جنگ میں مارے جانے والے بنگلہ دیشی شہریوں کی یاد میں نئی دہلی میں منعقدہ تقریب کے موقع پر بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے ہمراہ خطاب اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کا نام لیے بغیر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب امن چاہتے ہیں لیکن ایک قوم دہشت گردی پھیلانا چاہتی ہے۔

ایک جانب بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت ہے تو دوسری جانب بھارت میں انتہا پسند نریندر مودی حکمران ہیں، دونوں پاکستان کے ساتھ معاندانہ اور متعصبانہ جب کہ آپس میں دوستانہ اور ہمدردانہ رویہ رکھتے ہیں' اس طرح نریندر مودی اور شیخ حسینہ واجد کی سوچ میں پاکستان کے خلاف ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لا رہا ہے۔

شیخ حسینہ واجد 1971ء کی جنگ میں پاکستان کا ساتھ دینے والے محب وطن افراد پر مقدمے چلا کر انھیں سزائیں دے رہی ہیں' جس شخص نے کسی بھی حوالے سے پاکستان کا ساتھ دیا وہ اسے معاف کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔ پاکستان کے خلاف یہی معاندانہ رویہ بنگلہ دیش اور بھارت کو ایک دوسرے کے قریب لے آیا ہے اور دونوں کے درمیان مختلف معاہدے طے پا رہے ہیں۔

بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک مسافر ٹرین سروس تقریباً 50سال کے بعد دوبارہ شروع کر دی گئی ہے، بھارتی شہر کولکتہ سے بنگلہ دیش کے شہر کھلنا کے درمیان چلنے والی فرینڈ شپ ایکسپریس ٹرین کی آزمائشی سروس کا افتتاح بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے نئی دہلی میں کیا، یہ ٹرین اس وقت چلتی تھی جب بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ تھا۔ ٹرین سروس کے علاوہ دونوں ملکوں میں نئی بس سروس بھی متعارف کروائی جا رہی ہے۔ نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد شیخ حسینہ واجد کا بھارت کا یہ پہلا دورہ ہے۔

نریندر مودی نے جون 2015ء میں بنگلہ دیش کا دورہ کیا تھا، ڈھاکا یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کے خلاف خوب زہر اگلا تھا' اس موقع پر انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ بنگلہ دیش کے قیام میں بھارتی فوجیوں کا خون بھی شامل ہے جو مکتی باہنی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر لڑے' مودی نے کہا تھا کہ جب بنگلہ دیش کی علیحدگی کے لیے دہلی میں ستیہ گرہ تحریک چلی تھی تو وہ بھی ایک نوجوان رضاکار کے طور پر اس میں شامل ہونے آئے تھے۔

اس موقع پر سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو پاکستان توڑنے اور بنگلہ دیش کی علیحدگی میں فعال کردار ادا کرنے اور دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط بنانے پر بنگلہ دیش لبریشن وار ایوارڈ دیا گیا جسے نریندر مودی نے وصول کیا' گویا حسینہ واجد حکومت نے سقوط ڈھاکا میں بھارت کے گھناؤنے کردار کی تائید کر دی تھی۔ نریندر مودی پاکستان کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ جب وہ 2015ء میں بنگلہ دیش گئے تھے تب بھی انھوں نے پاکستان کے خلاف خوب زہر اگلا تھا اور اب جب حسینہ واجد دہلی تشریف لائی ہیں تو اس موقع پر بھی نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کا موقع ضایع نہیں کیا اور اس پر دہشت گردی کے الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔

نریندرمودی نے اس موقع پر کہا کہ بھارت نے ہمیشہ ہر ملک کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا بنگلہ دیش کے ساتھ اس کے تعلقات اس کا مظہر ہیں۔ شیخ حسینہ واجد کے دورہ دہلی کے موقع پر جہاں دونوں ممالک کے درمیان 22معاہدے ہوئے وہاں ان کے درمیان کئی برسوں سے جاری دریائے تیستا کے پانی کے تنازعہ پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو سکا البتہ نریندر مودی نے اس مسئلے کے جلد حل کا یقین دلایا۔ بھارت نے اگر ہمیشہ ہمسایہ ممالک کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے تو پاکستان رہا ایک طرف اس کے سری لنکا کے ساتھ تعلقات بھی کیوں ناخوشگوار ہیں' چین کے خلاف بھی بھارتی حکمران بیان بازی کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے اور باہمی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا عندیہ دیا ہے لیکن نریندرمودی سرکار دہشت گردی کا بہانہ تراش کر مذاکرات سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے' نریندر مودی کی حکومت آنے کے بعد پاکستان کے ساتھ سرحدی صورتحال میں بھی کشیدگی آئی۔ نریندر مودی معاندانہ رویہ ترک کر کے پاکستان کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات کا ڈول ڈالیں تو خطے میں کشیدگی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

 

مقبول خبریں