مودی کیوں بدنام ہے

نریندری مودی ایک کٹر مذہب پرست انسان ہے مذہب پرست ہونا کوئی جرم نہیں۔


Zaheer Akhter Bedari April 10, 2017
[email protected]

پسماندہ ملکوں میں مذہب کو سیاست میں گھسیٹنے کا کلچر اب تیزی سے فروغ پا رہا ہے، آج ہم جس مذہبی انتہا پسندی اور دہشتگردی کا سامنا کر رہے ہیں یہ اسی کلچر کی ترغیب ہے، عام آدمی ہی نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اور اہل قلم بھی بغیر سوچے سمجھے مذہبی سیاست کی اس زور شور سے حمایت کرتے نظر آتے ہیں کہ پوری دنیا کا مستقبل خطرے کی زد میں نظر آتا ہے۔

ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی دنیا بھر میں خاص طور پر ترقی یافتہ دنیا میں اس لیے عزت کی جاتی تھی کہ اس کے آئین میں سیکولرزم کو ریاست کی گائیڈ لائن کے طور پر لکھا گیا تھا' سیکولرزم بھارتی آئین کا 70 سال سے حصہ بنا ہوا ہے لیکن اس عرصے میں بھارت کے ہندو مذہب کو کوئی نقصان پہنچا نہ بھارتی عوام کا مذہب سے تعلق ختم ہوا کیونکہ خدا اور مذہب انسان کی روحانی ضرورت کا حصہ ہیں۔ البتہ سیکولرزم سے بھارتی یکجہتی کو فائدہ ہوا اور بھارت ٹوٹ پھوٹ سے بچا رہا۔ آج بھارت کے دانشور مفکر اور فلسفی یک زبان ہوکر کہہ رہے ہیں کہ اگر سیکولرزم کو بھارتی سیاست سے نکال دیا گیا تو بھارت تیزی کے ساتھ ٹوٹ کر رہ جائے گا۔

اس حوالے سے اس سازش کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سرمایہ دارانہ مغربی ملک سیکولرزم کے حوالے سے دوغلی پالیسیوں پر کیوں کاربند ہیں؟ دوسری عالمی جنگ کے بعد جب سوشلسٹ بلاک مستحکم ہونے لگا اور سوشلزم کے تحت تیزی سے ترقی کرنے لگا تو سرمایہ دارانہ نظام معیشت کے منصوبہ سازوں کو یہ خوف لاحق ہوگیا کہ اگر سوشلسٹ بلاک کو آزادی سے کام کرنے دیا گیا تو سرمایہ دارانہ طبقاتی نظام میں شگاف بڑھنا شروع ہوجائیں گے۔ یوں سوشلزم دنیا کے عوام میں مضبوط ہوتا جائے گا ان منصوبہ سازوں نے سوشلسٹ معیشت سے سرمایہ دارانہ نظام کو لاحق خطرات کو چھپاتے ہوئے سوشلزم کے نظریاتی پہلوؤں کو عوام کے سامنے مذہب دشمنی کے طور پر پیش کرنا شروع کیا۔

سیکولرزم سوشلزم کا ہی نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کا بھی ایک لازمی حصہ ہے پورے مغربی ملکوں ہی میں نہیں بلکہ مسلم ملکوں کی اکثریت عملاً سیکولر نظام سے وابستہ ہے جس کا واحد مقصد حکومتوں کی مذہب کے حوالے سے غیر جانبداری کے علاوہ کچھ نہیں اور اس غیر جانبداری کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ کوئی ملک ایسا نہیں ہے جس کی تمام آبادی کسی ایک مذہب پر مشتمل ہو، ہر ملک میں مختلف مذاہب کے ماننے والے موجود ہیں جب تک کوئی ریاست مذہب کے حوالے سے غیر جانبدار نہیں ہوجاتی اس وقت تک وہ اپنے شہریوں کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی 95 فیصد سے زیادہ ریاستیں عملاً سیکولر ہیں اور عوام کے ساتھ برابری کا سلوک کر رہی ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان کا ایک حلقہ بوجوہ سیکولرزم کو ایک خطرے کے طور پر پیش کر رہا ہے اور سیکولرزم کی بات کرنے والوں کو بدنام کرنے کی بچکانہ کوششیں کر رہا ہے اس حوالے سے ایک حرکت یہ کی جا رہی ہے کہ قائد اعظم کو ایک کٹر مذہب پرست کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کی مختلف مواقعوں پر کی جانے والی تقاریر کے اقتباسات کو حوالوں کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ ہندوستان کی تقسیم چونکہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر کی گئی تھی لہٰذا پاکستان کا ایک مذہبی ریاست ہونا ضروری ہے۔

دو قومی نظریے پر تقسیم ہوئی اس کا دونوں ملکوں کو کیا فائدہ ہوا کیا نقصان ہوا اس کے قطع نظر دو قومی نظریے کو دو مذہبی نظریہ قرار دینا منطقی ہے؟ پاکستان کے آگے لفظ اسلامی لگایا گیا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 70 سال میں پاکستان کی قیادت مسلمانوں ہی کے ہاتھوں میں رہی پھر پاکستان میں اسلامی نظام کیوں نافذ نہیں کیا گیا؟

بھارت میں بھی مذہبی انتہا پسند طاقتیں موجود ہیں لیکن بھارتی عوام ہندو مذہب کو ریاستی مذہب بنانے کے حق میں ہیں۔ بدقسمتی سے موجودہ بی جے پی کی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد بھارت میں ہندو ازم یا ہندوتوا کے نظریے کو ہوا دی جا رہی ہے اور سادہ لوح عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایک ہندو ریاست ہی ہندو قوم کی نجات بن سکتی ہے۔ اس فلسفے کو ہوا دینے میں بھارت کی برسر اقتدار پارٹی اور ملک کا وزیر اعظم پیش پیش ہیں۔

نریندری مودی ایک کٹر مذہب پرست انسان ہے مذہب پرست ہونا کوئی جرم نہیں لیکن جب کوئی مذہب پرست مذہب کے حوالے سے عوام کو تقسیم کرکے انھیں ایک دوسرے سے برسر پیکار کردیتا ہے اور ان میں مذہبی جنون پیدا کرکے قتل و غارت گری کی طرف لے جاتا ہے تو وہ مذہب کا دوست نہیں بلکہ مذہب کا دشمن بن جاتا ہے۔ مودی نے یہی حرکت کی گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کروایا اور آج بھی گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات ہو رہے ہیں مسلمانوں کو قتل کیا جا رہا ہے ان کی املاک کو نذر آتش کیا جا رہا ہے۔

امریکا اور اس کے حلیفوں نے 60ء کی دہائی میں سوشلسٹ بلاک کی مقبولیت سے گھبرا کر سوشلزم اور سیکولرزم کے خلاف اربوں ڈالر کے خرچ سے جو پروپیگنڈا کیا گیا وہ مذہب دوستی تھا یا اپنے استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کے تحفظ کا مسئلہ تھا؟ اس سوال پر ہمارے اہل قلم اہل عقل کو سوچنا چاہیے۔

پاکستان میں ہندوؤں کے تہواروں میں محترم علما اور حکمرانوں کی شرکت سے ہماری قومی یکجہتی کو فائدہ پہنچے گا مذہب کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا لیکن ہمارے دوست وزیر اعظم کو اس لیے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ انھوں نے ہولی اور دیوالی کی تقریبات میں شرکت کی۔ کیا اس قسم کی تنقید سے ہماری ریاست اور مذہب کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس سوال پر ہمارے دوستوں کو کھلے دل سے سوچنا چاہیے۔

مقبول خبریں