صدر بشار الاسد کو اب جانا ہوگا امریکا

میزائل حملے کے بعد اڈے کے ’پہلے حصے‘ نے کام شروع کر دیا، روس کا بحری بیڑہ شام بھیجنے کا فیصلہ، پوتن


/News Agencies April 10, 2017
امریکی حملے ناجائز قرار، صورت حال کشیدہ ہو سکتی ہے، عرب لیگ۔ فوٹو: فائل

شام کے شہر ادلب میں کیمیائی حملے میں ہلاکتوں کے بعد فضائی اڈے الشعیرات پر جمعہ کو ہونے والے امریکی میزائل حملے کے بعد گزشتہ روز ہوائی اڈے سے پھر سے پروازیں شروع ہوگئی ہیں۔

حمص کے صوبائی گورنرطلال بارزئی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ فوجی اڈے کے'پہلے حصے'نے کام شروع کردیاہے۔ انسانی حقوق تنظیم سیرین آبزرویٹری فارہیومن رائٹس کے مطابق الرقہ شہرکے نواح میںواقع قصبے میں امریکی عسکری اتحادکے فضائی حملے میں4 بچوں سمیت15شہری جاں بحق ہوگئے۔

امریکا نے شام کے صدر بشار الاسد کے حوالے سے اپنے موقف میں تبدیلی لاتے ہوئے کہا ہے کہ 'اب بشارالاسد کا جانا ناگزیر ہوچکاہے'۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے سی این این کوانٹرویو میں بتایا کہ شام میں اقتدار کی تبدیلی اب ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے، بشارالاسدکی موجودگی میں ہمیں پرامن شام کا قیام ممکن نظر نہیں آتا وہ مزید اقتدار میں نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے کہاکہ داعش کو شکست دینا، شام میں ایرانی اثرورسوخ کو ختم کرنا اور شامی صدر بشار الاسد کے اقتدارکو ختم کرنا امریکاکی ترجیحات ہیں۔

ادھر ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی کہاہے کہ شام میں بشارالاسد حکومت کے مظالم سے نجات دلانے کیلیے موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ عراقی رہنما مقتدیٰ الصدر نے بھی شامی صدرسے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیرپوتن نے اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے ٹیلی فون پر گفتگو میں اتفاق کیا ہے کہ شام میں امریکی جارحانہ اقدامات جائز نہیں ہیں اور ایسی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

گزشتہ روزکریملن نے بتایاکہ ان دونوں رہنماؤں نے شام کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور مستقبل کی حکمت عملی کو زیر بحث لایا گیا، دونوں رہنماؤں نے ادلب میں کیمیائی حملے کے بارے میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ روس نے بحیرہ اسود میں تعینات بحری بیڑے کے ایک جہاز کو شام کی طرطوس بندرگاہ کے لیے روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، روسی فوجی عہدے دار نے بتایا کہ شام کی لاجسٹک فوجی اڈے کی جانب روانہ ہونے والے کیلیبر نوعیت کے کروزمیزائلوں سے لیس ایڈمرل گریگوروویچ بحری جہاز کی تعیناتی کا تعلق وہاں کی صورت حال سے ہوگا تاہم اس کی تعیناتی کی مدت کم سے کم ایک مہینے بہرحال ہوگی۔

دوسری جانب قاہرہ میں گفتگو کرتے ہوئے عرب لیگ کے سربراہ احمد ابو الغیظ نے کہاہے کہ شام میں امریکی حملوں کے نتیجے میں علاقائی سطح پر صورت حال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے، عرب لیگ شام میں لاشوں کی سیاست کو مسترد کرتی ہے، اس لیے علاقائی سطح پر کشیدگی کو ختم کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ شمالی کوریا نے بھی شام پر امریکاکے میزائل حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

علاوہ ازیں شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام پر امریکا کا میزائل حملہ ایک خود مختار ریاست کے خلاف واضح اور ناقابل برداشت جارحانہ اقدام ہے اور ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

 

مقبول خبریں