اعتراف کرتا ہوں ادیبوں شاعروں کا صحیح طور پر خیال نہ رکھ سکے

ممتاز سول سرونٹ اور اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئر مین ، عبد...


Ahmed Latif July 31, 2012
ممتاز سول سرونٹ اور اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئر مین ، عبد المجید کے حالات و خیالات

عبدالحمید، کون عبدالحمید، یہ نام تو کبھی سنا نہیں، سنتے کیسے، یہ آدمی تو اس علاقے کا نہیں ہے، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ادیبوں شاعروں میں اس کا شمار نہیں ہوتا،بہت خوب پھر تو یہ شخص ادیبوں شاعروں کے لیے خوب کام کرے گا، یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو، اپنے تجربات کی وجہ سے میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ غیر ادیب ہی ادیبوں شاعروں کے دکھ زیادہ سمجھ سکتا ہے، تمہاری تو منطق ہی نرالی ہے، کہو کیا کہنا چاہتے ہوں،

میرے ہم زاد نے منہ بسورا اور کہا،کہو کیا کہتے ہو، میں اکادمی ادبیات پاکستان کے نئے چیئرمین کی بات کر رہا ہوں، میرا ہم زاد غائب ہو گیا۔ عبدالحمید ، سول سرونٹ رہے، ٹھہریے میں بھول گیا، میجر عبدالحمید، جی ہاں، 9 سال تک وہاں خدمات سرانجام دینے کے بعد وہاں سے اجازت لے لی، کیوں کہ انہوں نے 75 اور 77 کے دوران ہی کمیشن لے لیا تھا اور ساتھ ہی ساتھ ،سی ایس ایس بھی کر لیا تھا۔

انہوں نے ایم اے انگلش اور ایم اے اردو کر رکھا ہے اور وہ خود کو خوش قسمت ترین طالب علم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے، ایرک سپرین اور امین مغل جیسے اساتذہ سے پڑھا۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ لٹریچر انسان کو نیا آدمی بنا دیتا ہے۔ لکھنے لکھانے کا بھی آپ کو شوق ہے؟ اس سوال پر انہوں نے کہا، انگریزی میں نظم لکھتا ہوں ، کچھ افسانے بھی لکھے ہیں اور تحقیق کا کام تو کرتا ہی رہتا ہوں، مضامین بھی لکھتا ہوں، انگریزی اور فرنچ پر دسترس کا دعویٰ تو نہیں لیکن جن بزرگوں سے میں نے پڑھا ہے ان کو دنیا جانتی ہے۔

کچھ ہی دن ہوئے ، 12 مارچ 2012 کو وہ چیئرمین اکادمی ادبیات بنے، اس عہدہ کے لیے ادیبوں، شاعروں کا پینل اپیئر ہوا اور انہیں لٹریچر سے ربط کے باعث چن لیا گیا۔ اس سے پہلے ڈی جی پاکستان پوسٹ تھے اور اس سے پہلے کیا کرتے رہے، یہ قصّہ ذرا بعد میں آپ کی نذر کرتے ہیں۔ پہلے یہ بات سن لیجئے کہ آتے ہی انہوں نے بزرگ ادیبوں، شاعروں کا جو ماہانہ پانچ ہزار روپے گزارہ الائونس تھا وہ جاری کرایا کہ یہ کئی مہینوں سے بند تھا،

ادیبوں، شاعروں کی بیوائوں کی پنشن جو انہیں نہیں مل رہی تھی، وہ بھی 25 مارچ سے پہلے پہلے انہیں ملنے لگی، گویا آتے ہی انہوں نے یہ کام کر دکھایا، کچھ بیوائیں ایسی ہیں جنہیں ذرا زیادہ ملتا ہے، ان میں ابوالاثر حفیظ جالندھری کی بیوہ اور کچھ دوسری بیوائیں شامل ہیں۔ باقی سب کو پانچ ہزار روپے ماہانہ ملتا ہے، پانچ ہزار روپے؟ میں نے انہیں روکا اور کہا، حقیقتِ حال یہ ہے کہ کم سے کم تنخواہ جو حکومتی سطح پر طے ہے،

کل تک وہ سات ہزار تھی اور اس بجٹ میں وفاقی سطح پر آٹھ اور پنجاب میں 9 ہزار ہو گئی ہے، یہ سوال سن کر وہ خاموش ہو گئے اور کہا، یہ مسئلہ تو ہے اور میں کوشش کر رہا ہوں کہ اعلیٰ حکام کو کچھ دکھانے کے قابل ہو جائوںکہ تین سال سے یہاں کوئی کام نہیں ہو رہا تھا،

دکھانے کے لیے میرے پاس کچھ ہو تو وزیراعظم سے ملاقات کرکے کوئی مطالبہ ان کے سامنے رکھوں،اکادمی کے لیے کرنے کے بہت سے کام ہیں، ان میں سے کچھ تو کر لوں کہ معاملہ سراسر مالیات کا ہے، ذرا رکیے، میں نے انہیں پھر ٹوکا اور کہا، آپ نے مالیات کا ذکر کیا ہے تو ان میں سے ایک معاملہ اور بھی ہے جو برسوں سے نظر انداز ہوتا آ رہا ہے، وہ ہے، ادیبوں شاعروں کی تخلیقات کے معاوضے کا ،اگر آپ معاف فرمائیں تو حقیقت حال یہ ہے کہ یہ معاوضہ شرم ناک ہے، لیکن آپ شرم ناک نہ کہیں ،

انہوں نے درد مندی سے کہا اور گویا ہوئے ،اس پر بھی بات ہو گی، ادیبوں شاعروں کی انشورنس کا معاملہ ہے، اس پر بھی بات کرنی ہے، ادیبوں شاعروں کے لیے اسلام آباد میں کوئی ایسی باوقار جگہ نہیں ہے، جہاں بیٹھ کر وہ چائے پی سکیں، اچھے ماحول میں پڑھ سکیں، وہ پراجیکٹ بھی آخری مراحل میں ہے،نقشہ بنوا لیا ہے ، محض ایک کروڑ چاہیے، اگر کوئی بڑا ادارہ، جس طرح بینک وغیرہ دفاتر بنا کر دیتے ہیں، وہ ہمیں بک شاپ اور ٹی ہائوس بنا کر دے دیں، کچھ عرصہ خود چلا لیں اور بعد میں ہمیں دے دیں،

یہ ایک اچھا کام ہے، جو ان اداروں کو کر دینا چاہیے جو علم و ادب اور ثقافت کو پروموٹ کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، اکادمی کے تمام جرائد میں نے ریگولر کر دیے ہیں، ادبیات، پاکستانی لٹریچر اور خبرنامہ تو اب باقاعدگی سے چھپ رہے ہیں، خصوصی نمبروں کی اپنی اہمیت ہے لیکن عام شمارے بھی بہت ضروری ہوا کرتے ہیں، اکادمی کا خواب جب بھٹو صاحب نے دیکھا تھا ،تو ان کی نظر میں اس ادارے کے دو کام تھے، دنیا میں پاکستان کا وہ چہرہ پیش کرنا ،جو اس کا حقیقی چہرہ ہے اور ادیبوں شاعروں کی نگہداشت کرنا، اس کا آئیڈیا بھی بھٹو صاحب نے فرانس سے لیا تھا ،

لیکن بدقسمتی سے نگہداشت بھی مناسب انداز سے نہیں ہو رہی اور ٹرانسلیشن بیورو کی تو بنیاد ہی نہیں رکھی گئی تھی، اب یہ کام آخری مراحل میں ہے اور میں چاہوں گا کہ پاکستان میں لکھے جانے والے ادب کا ابتدائی طور پر سالانہ یا چھ ماہی انتخاب ضرور شایع کیا جائے۔ یاد رہے پاکستان کثیرالقومی اور کثیر اللسانی ملک ہے اور ہر زبان میں بہت اعلیٰ ادب لکھا جا رہا ہے جب اس کا دوسری زبانوں میں ترجمہ کیا جائے گا تو دنیا ہمارا حقیقی چہرہ دیکھ سکے گی۔ ابتدائی طور پر چھے عالمی زبانوں کا انتخاب کیا گیا ہے اور اس کے لیے مجھے باہر سے کام کروانا ہوگا کیوں کہ ملازم تو پہلے ہی یہاں بہت ہیں،

لیکن وہ اور کام کرتے ہیں۔ اعلیٰ ترجمہ کرنے والوں سے رابطہ کیا ہے اور اس حوالے سے دوستوں سے بھی مشورہ کر رہا ہوں کہ کس زبان پر کس ادیب شاعر کی گرفت مضبوط ہے، تاکہ اس سے اُسی زبان میں تراجم کرائے جائیں ۔ بہت سے لوگوں سے بات ہو چکی ہے۔ اور معاوضہ؟ میں نے پھر لقمہ دیا، ہاں یہ سوال تو ہے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں،

معاوضہ شایانِ شان تو شاید نہ ہو، لیکن ایسا گیا گزرا بھی نہیں ہو گا کہ ادیب اور شاعر کسی کو بتا نہ سکیں، ایف ایم کا پراجیکٹ بھی کچھ ہی دنوں میں شروع ہونے والا ہے، اکادمی کے باقی اشاعتی منصوبے بھی جاری رہیں گے، 701 ادیبوں شاعروں کی انشورنس ہو چکی ہے، باقی لوگوں کی انشورنس بھی کرائیں گے،آخری بار 2002 کو یہ کام ہوا تھا، پانچ سو کے قریب بزرگ ادیب اور شاعر ہیں جنہیں گزارہ الائونس دیا جاتا ہے۔ نئے لوگ بھی اس میں شامل کیے جائیں گے۔

جب ان سے یہ باتیں سن چکا اور وہ دفتری امور نمٹانے لگے تو میں میز پر رکھا ''ادبیات'' کا نیا شمارہ دیکھنے لگا اور ان کے تحریر کردہ مضمون، معرفتِ حق تعالیٰ پر نظر ٹک گئی، تحریر آپ کا باطن ہوا کرتی ہے، یعنی آپ کی پہچان، پڑھنا شروع کیا۔ '' میں کیا ہوں؟ کون ہوں؟ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ یہ زندگی کدھر سے آتی ہے اور کدھر کو جاتی ہے؟

یہ وہ سوال ہیں جو ہر انسان کو کسی نہ کسی وقت ضرور ستاتے ہیں۔ جب وہ اپنی ذات کی طرف دھیان کرتا ہے، اپنے بارے میں سوچتا ہے، ان سوالات کا جواب اس وقت تک بہت ہی مشکل ہوتا ہے جب تک انسان اور کائنات، جو انسانوں کے اردگرد پھیلی ہوئی ہے، کے خالق و مالک کے بارے میں پتا نہ ہو کہ وہ کون ہے؟ کیا ہے؟ اس نے انسان کو یہ زندگی کیوں دی اور اس زندگی کا مقصد کیا ہے؟

شاید یہ کہنا صحیح ہو گا کہ دنیا میں ان لوگوں کی تعداد، جو ذات برحق یعنی خدا پر یقین نہیں رکھتے ،بہت ہی کم ہو گی لیکن ذات برحق کو ماننے والوں میں سے ان لوگوں کی تعداد بہت ہی تھوڑی ہے جو اللہ تعالیٰ کی معرفت یعنی وہ کون ہے، اور اس کی بے مثل و لازوال قدرت اور بے مثل و لامحدود اوصاف کیا ہیں، کو جاننے کی مقدور بھر کوشش کرتے ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ اپنے طور پر سمجھ رکھا ہے کہ میرا خالق و مالک وہی کچھ ہے جو کچھ کہ میں جانتا ہوں اور بس! شاید یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ ہم میں سے ہر ایک نے اپنا اپنا خدا بنایا ہوا ہے اور اس کی اصل حقیقت و معرفت کی ہمیں ذرہ برابر پروا نہیں۔

بہ ہرحال سچے اہلِ توحید کو ہر لمحہ اس تگ و دو میں لگا رہنا چاہیے کہ وہ اپنے خالق و مالک کو زیادہ سے زیادہ پہچانے۔ ''اللہ تعالیٰ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کسی کی بھی بندگی نہیں۔ یہی گواہی فرشتوں اور اہل علم نے دی، وہی عدل کا حاکم ہے۔'' (آل عمران آیت 18)
چنانچہ صاحب یقین کو اپنے پورے یقین کے ساتھ اس بات کی گواہی دینا ہو گی کہ وہی الہٰ ہے۔ اس کے سوا کوئی اور خدا نہیں۔ وہ بلندی پر افلاک اور ستاروں کا، پستی میں جن و اِنس اور جانوروں کا پیدا کرنے والا ہے۔ پہاڑوں، دریائوں، جنگلوںاور بیابانوں کا بھی وہی خالق و مالک ہے۔ اس کی سلطنت لامحدود ہے اور وہ بے نظیر و بے مثال ہے۔ وہ ہر شخص، ہر مکان کا نگہبان ہے۔

عالم میں ہر جاندار کو رزق دینے والا ہے۔ آسمانوں اور زمین کا محافظ ہے۔ نباتات میں پھول پیدا کرنے والا اور بندوں کے دلوں کی باتوں کو جاننے والا ہے۔ ہر چیز میں وہی اول ہے۔ ہر چیز سے قریب ترین وہی ہے۔ وہی عطا کرنے اور روکنے والا ہے۔
صاحبِ یقین کو ہر چیز کے معاملہ میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرنا ہے اور یہ بھی یقین رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے قلب کا خالق اور اس کے قریب ترین ہے۔

نہ اس کی طرف آنکھ سے دیکھ رہا ہے اور نہ ہی نیچے سے اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نور کی وجہ سے اپنی تمام مخلوق سے حجاب یعنی پردہ میں ہے اور عرش کو اس سے صرف اس قدر حصہ حاصل ہے کہ وہ اس پر ہے اور عرش اس سعادت اور نعمت کے ساتھ مطمئن ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے عرش کا احاطہ فرمایا ہوا ہے۔ اس لیے کہ ہر جگہ اللہ ہی بلند و بالا اور بزرگ ترین ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم و قدرت سے کوئی جگہ خالی نہیں۔ کسی ''جگہ'' کے ساتھ اسے محدود نہیں کیا جا سکتا''۔

یہ مضمون پڑھنے کے بعد ان کا ایک اور روپ میرے سامنے آیا، عبدالحمید ، متوکل، صابر اور شاکر ہیں، بے خوف بھی کہ وہ صرف خدا سے مانگتے ہیں اور کائنات کے ساتھ ساتھ ذات باری تعالیٰ پر بھی غور و فکر کرتے ہیں۔ اس کے بعد میں نے ان کے خانوادے پر غور کیا، اعوان ہیں اور صدیوں سے ان کے آبائو اجداد نکہ کہوٹ تلہ گنگ میں آباد ہیں،

اسلام آباد میں خود کو پردیسی سمجھتے ہیں، جوں ہی موقع ملتا ہے نکہ کہوٹ بھاگ جاتے ہیں کہ اپنے علاقے سے انہیں بہت پیار ہے، ان کے والد ملک غلام قادر نے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے لیے تلہ گنگ سے لاہور ہجرت کی، وہاں اچھرہ میں علامہ مشرقی کے دربار کے قریب ایک احاطہ ہے وہاں انہوں نے قیام کیا، بڑے بھائی خلیل ملک اور چھوٹے بھائی خوشنود علی خان صحافت کی طرف نکل گئے اور عبدالحمید پوری دل جمعی سے پڑھنے لگے، میٹرک تلہ گنگ سے کیا اور اس کے بعد والدین کے ساتھ لاہور چلے گئے۔

عبدالحمید مئی 2011 میں سبک دوش ہوئے، اس وقت ان کا گریڈ 22واں تھا، اکادمی کا چیئرمین بننے سے پہلے وہ منسٹری آف لوکل گورنمنٹ میں رہے، دیہی ترقی کا محکمہ ان کے پاس رہا، خوشحال پاکستان پروگرام بھی ان کا ڈیزائن کردہ تھا، ماحولیات کی وزارت بھی دیکھتے رہے، ایم ڈی انرکان، کمیونیکیشن کی وزارت میں بھی کام کیا، منسٹری آف فنانس، نیشنل اسمبلی، ڈی جی پاکستان پوسٹ بھی رہے۔ اور کچھ عرصہ سعودی عرب میں قونصلر بھی رہے۔

دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ تینوں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، بیٹی نے سی ایس ایس کیا اور آڈٹ اینڈ اکائونٹس میں ہیں، بڑا بیٹا، سنگاپور سے ایم بی اے اور اے سی ایم کیے ہوئے ہے اور ایک نجی کمپنی میں اعلیٰ عہدہ پر فائز ہیں، چھوٹا بیٹا فرانس میں پی ایچ ڈی کر رہا ہے۔

جرائد کے ساتھ ساتھ، پاکستانی ادب کے معمار کتابی سلسلہ بھی بہت مقبول ہے، اکادمی کی بک شاپ بھی ہے جہاں پر اکادمی کتابوں کے ساتھ ساتھ دوسری کتابیں بھی رکھی جاتی ہیں۔ رائٹرز ہائوس بھی ہے، جہاں دوسرے شہروں سے آنے والے ادیبوں شاعروں کو سستے داموں رہائش کی سہولت دی جاتی ہے،

اسی جگہ شہر میں موجود ادبی حلقوں کو ہفتہ وار تنقیدی اجلاس کرانے کی بھی سہولت حاصل ہے۔ ایک بڑا آڈیٹوریم بھی بن چکا ہے۔ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے، میری کوشش ہوتی ہے کہ رائٹرز ہائوس میں ادیب شاعر ہی رہائش اختیار کریں، ان سے کرایہ بہت کم لیا جاتا ہے جب کہ دوسرے مہمان مارکیٹ کے مطابق کرایہ دیتے ہیں۔ ادارہ حکومت کی طرف سے دی گئی گرانٹ پر چلتا ہے۔ تقریبات بھی کرائی جاتی ہیں۔ میری خواہش ہے کہ اکادمی اپنے بنائے ہوئے اصولوں کے مطابق چلنے لگ جائے اس کے بعد کوئی اور کام کیا جائے گا۔

مقبول خبریں