کلبھوشن بچاؤ کی بھارتی مہم جوئی

سشما سوراج معاملہ کو پاکستانی صدر تک بھی لے جانے کا عندیہ دے رہی تھیں۔


Editorial April 13, 2017
سشما سوراج معاملہ کو پاکستانی صدر تک بھی لے جانے کا عندیہ دے رہی تھیں۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائے جانے پر بھارتی میڈیا میں صف ماتم بچھ گئی ہے مگر جس تلاطم خیز بیانات کا سہارا بھارتی سیاست دان لے رہے ہیں اس سے خطے کی صورتحال میں تیزی سے تبدیلی کے آثار نمایاں ہورہے ہیں اور دو طرفہ تعلقات جس نچلی سطح پر ہیں اس میں مزید پیچیدگی بھارتی رویے اور بے بنیاد الزام تراشی سے سنگین تر ہوسکتی ہے۔

کشمیریوں پر بھارتی ظلم وستم کے باعث خطہ پہلے ہی سے فلیش پوائنٹ بنا ہوا ہے اور اس پر مستزاد کلبھوشن ایپی سوڈ پر بھارتی مجنونانہ ہرزہ گوئی، جو ناقابل فہم ہے، دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے پاکستان کی امن پسندی کا کبھی مثبت جواب نہیں دیا کیونکہ تقسیم ہند کو بھارتی سیاست نے سیکولرازم ، دنیا کی بڑی جمہوریت اور نام نہاد شائننگ انڈیا کے خوشنما نعروں کے شور میں ہندوتوا ، محاذ آرائی ، کنٹرول لائن پر مستقل کشیدگی، دوطرفہ بداعتمادی اور مخاصمت میں بدل دیا اور بلوچستان میں تخریب کارانہ مداخلت کرتے ہوئے ایک کلبھوشن بھیج دیا جسے آج اپنے کیے کی سزا ملی ہے۔ وہ جاسوسی کے جرم میں پکڑا گیا ہے، بھارتی حکومت معاملہ کی سفارتی سیاسی اور دیگر حوالوں سے حساسیت کا ادراک کرے، گن بوٹ ڈپلومیسی کا زمانہ لد گیا، سشما سوراج کے پاس اپنے اعتراف یافتہ جاسوس کے لیے قانونی لڑائی کے دروازے کھلے ہیں۔

دوسرے ملک میں جاسوسی کے دوران گرفتار افراد کے خلاف بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے اس ضمن میں اقوام متحدہ کے میثاق ، معاہدات اور جنگ عظیم اول ودوم سمیت روس وامریکا کے جاسوسوں کے خلاف ڈیتھ اسکواڈ یا پھانسی ریکارڈ کا انبار موجود ہے، وکی لیکس کی دستاویزات اور اسنوڈن کے زلزلہ خیز انکشافات ابھی کی باتیں ہیں اس لیے کلبھوشن کی سزائے موت کو انڈین فیچر فلموں کے ماردھاڑ سے بھرپور اسکرپٹ کی شکل دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

سشما سوراج صاحبہ جس حد تک جانا چاہئیں قانون اس کی اجازت دیتا ہے، وہ پاکستان کی سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہتی ہیں ، بسم اللہ ، پاکستان ایک جمہوری اور ذمے دار ایٹمی ملک ہے ، مگر اس کی سالمیت پر چوری چھپے حملہ کبھی درگزر نہیں کیا جاسکتا۔ کلبھوشن نے پاکستان کے اندر رہ کر دہشتگردی کی جب کہ پاکستان دہشتگردی سے نمٹنے والا خطے کا واحد ملک ہے جس کے فوجی جوانوں اور شہریوں نے انتہا پسندوں کے ہاتھوں شہادتیں پائیں، ملکی معیشت کو اربوں کا نقصان اٹھانا پڑا مگر بھارتی جاسوس اسی حالت جنگ میں بلوچستان کے حساس علاقے میں بدامنی مشن پر مامور تھا۔ بھارت اس جرم کو نہ جھٹلائے ، اسے ہر جگہ سبکی ہوگی۔

اسی طرح ہمارے ارباب اختیار کے لیے بھی صائب مشورہ یہی ہے کہ دو ایٹمی پڑوسی ملک جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے، جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں، بھارت ایٹمی پڑوسی ملک ہونے کے ناتے کلبھوشن ایشو کی آگ سے نہ کھیلے، اس وقت مودی سرکار ''دست تہہ سنگ ''کی حالت میں ہے، بھارت سفارتکاری کا در کھولے، وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی امور لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ نے پاک بھارت مذاکرات کے لیے امریکی ثالثی کا خیر مقدم کیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کلبھوشن کو ایک فوجی ٹریبونل نے سزا دی ہے، بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کلبھوشن کو ''بھارت کا بیٹا'' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کلبھوشن کی سزا پر عملدرآمد کیا گیا تو پاکستان کو باہمی تعلقات پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں سوچ لینا چاہیے، کلبھوشن کو بچانے کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔ وہ بھارتی اراکینِ پارلیمان کو یقین دلاتی رہیں کہ بھارتی حکومت نہ صرف سپریم کورٹ میں مقدمہ لڑنے کے لیے کلبھوشن کو بہترین وکلا مہیا کریگی۔

سشما سوراج معاملہ کو پاکستانی صدر تک بھی لے جانے کا عندیہ دے رہی تھیں۔ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ بھی کلبھوشن کے حق میں بولے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رکن سبرامینیم سوامی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ اگر پاکستان نے کلبھوشن یادیو کو تخت دار پر لٹکا دیا تو بھارت کو بلوچستان کو ایک علیحدہ ملک کے طور پر تسلیم کر لینا چاہیے، اگر پاکستان نے اس کے بعد بھی کوئی ایسی حرکت کی تو سندھ پاکستان سے علیحدہ ہو جائے گا۔

بھارتی جاسوس کے جرائم منکشف ہونے کے بعد بھارتی سرکار کی دھمکیوں ، بے سروپا الزامات اور کلبھوشن کی معصومیت کا ڈھنڈھورا پیٹنا بے سود ہے۔ جہاں تک سبرامینیم کی منطق کا تعلق ہے اس کا جواب بھارتی سنجیدہ عوامی حلقوںکی طرف سے آیا ہے کہ سندھ وبلوچستان کی بات کی گئی تو بھارت ادراک کرے کہ او آئی سی کے 57 اسلامی ممالک بھارتی متحارب ریاستی اکائیوں کی آزادی کا اعلان کرنے پر اتفاق رائے کرلیں تو پھر کیا بنے گا؟

دریں اثنا وزیر دفاع خواجہ آصف نے کلبھوشن کو فوری پھانسی دینے کے تاثر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی فوجی عدالت نے تمام قانونی تقاضے پورے کر کے کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائی ،کلبھوشن ساٹھ دن میں فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتا ہے۔ آرمی چیف اور پھر صدر مملکت کے سامنے بھی اپیل کی جا سکتی ہے تاہم وزیردفاع نے خبردار کیا کہ ملک کے خلاف سازش کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ منگل کو انھوں نے سینیٹ کے اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے تمام تفصیل بتائی ، اب بھی وقت ہے کہ کلبھوشن ریسکیو کو کسی مہم کی نذر بھارت نہ کرے، اس کے لیے قانون کا راستہ کھلا ہے۔