وفاقی کابینہ کے فیصلے

حکومت کو جعلی ادویات کی تیاری اور فروخت روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہئیں


Editorial April 13, 2017
فوٹو؛ فائل

وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں گزشتہ روزوفاقی کابینہ اجلاس ہوا۔وفاقی کابینہ نے حج پالیسی' گیس کنکشنز بحالی اور کم آمدنی والے شہریوں کو مالکانہ حقوق پر مکان دینے کے لیے ملائیشیا اور سنگا پور کی طرز پر ہاؤسنگ پراجیکٹ کی اصولی طور پر منظوری دیدی ہے تاہم مزید تفصیلات طے کرنے کے لیے کابینہ کی سب کمیٹی قائم کر دی گئی ہے' کابینہ نے سوئی گیس کے گھریلو' تجارتی اور صنعتی کنکشن پر عائد پابندی اٹھانے کی منظوری دی ہے' کابینہ نے ڈیلی ویجز ملازمین کو ریگولر کرنے کے لیے عمر کی بالائی حد میں اضافے کی منظوری بھی دی' کابینہ نے حج پالیسی 2017کی اصولی منظوری دیدی جب کہ وزیراعظم نے حج اخراجات میں اضافے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے گزشتہ سال کے اخراجات برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کابینہ اجلاس کے بعد وزیر مملکت کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے ساتھ بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 31 نکاتی ایجنڈے پر تفصیلی بحث ہوئی اور ان کی منظوری دی گئی۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت پہلی مرتبہ سبسڈائز ہاؤسنگ اسکیم لا رہی ہے، کم آمدن اور متوسط طبقے کو رعایتی ہاؤسنگ اسکیم میں ترجیح دی جائے گی، وزیر اعظم نے اس اسکیم کے حوالے سے کابینہ کی ذیلی کمیٹی قائم کی ہے، یہ کمیٹی کم آمدن طبقے کے لیے گھروں کی فراہمی کے لیے ایس او پی کا تعین اور ہاؤسنگ اسکیم کا حتمی ڈیزائن تیار کرکے دوبارہ منظوری کے لیے کابینہ میں پیش کریگی۔

وزیراعظم نے واضح ہدایت دی ہے کہ اس اسکیم میں ملک کے پسماندہ علاقوں میں رہنے والوں اور کم آمدن لوگوں کو گھر فراہم کیے جائیں، وفاقی کابینہ نے خاصے اہم معاملات پر پیشرفت کی ہے'بلاشبہ پاکستان میں کم آمدنی اور متوسط طبقے کے لوگوں کے لیے اپنا گھر بنانا بہت مشکل کام ہے۔ سبسڈائزہاؤسنگ اسکیم سے کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کو خاصا ریلیف ملے گا ۔حکومت کو اس حوالے سے جلد از جلد کام کا آغاز کرنا چاہیے۔ نئے گیس کنکشنز کا معاملہ بھی خاصا اہم ہے اور اس فیصلے سے عوام اور کاروباری طبقے کو خاصا ریلیف ملے گا، اس حوالے سے ایک شفاف نظام ہونا چاہیے تاکہ مستحق لوگوں کو گھر یا پلاٹ آلاٹ ہو سکیں۔ جہاں تک حج پالیسی کی منظوری کی بات ہے۔

اس میںحج کی مجموعی لاگت میں اضافہ نہ ہونے دینے کی وزیراعظم کی ہدایت بروقت ہے' جہاں تک حج کے لیے سرکاری کوٹے کو بڑھانے کا تعلق ہے تو اس حوالے سے بھی یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ سرکاری حج اسکیم سے بھی مستحق لوگ ہی مستفید ہوں۔ مراعات یافتہ طبقہ اپنے خرچ پر حج کرے یہی احسن کام ہو گا۔کابینہ نے جعلی اور زائد المیعاد ادویات کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے پہلی مرتبہ بار کوڈنگ سسٹم متعارف کرانے کی منظوری دی جس کے تحت ہر صارف اپنے اسمارٹ فون سے بار کوڈ کو سکین کرکے ادویات کی تیاری سمیت تمام معلومات دیکھ سکیں گے۔یہ بھی ایک انتہائی اہم فیصلہ ہے۔بدقسمتی سے پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں جعلی ادویات دھڑلے سے فروخت ہو رہی ہیں۔

حکومت کو جعلی ادویات کی تیاری اور فروخت روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہئیں۔ کابینہ نے ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین بشمول اساتذہ کے حوالے سے پالیسی کی منظوری بھی دی ہے جس کے مطابق وفاقی اداروں میں گریڈ ایک سے 15تک باقاعدہ بھرتیوں میں کام کرنے والے ملازمین کو ترجیح ، عمر کی بالائی حد کے حوالے رعایت ، انٹر ویو میں تجربے کے مطابق اضافی نمبر دیے جائیں گے۔ پاکستان میں ملازمتوں کے حوالے سے حالات ساز گار نہیں ہیں'حکومت کو ڈیلی ویجز ملازمین کے حوالے سے ان کی تنخواہوں کے بارے میں بھی غور کرنا چاہیے۔بہرحال وفاقی کابینہ نے جو فیصلے کیے ہیں ان پر نیک نیتی سے عمل ہونا چاہیے۔

پاکستان کے مسائل کی بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ حکومت جو سبسڈی دیتی ہے یا مراعات کا اعلان کرتی ہے تو اس کا فائدہ بااثر طبقے ہی اٹھاتے ہیں۔ جن لوگوں کے لیے یہ اسکیمیں تیار کی جاتی ہیں'انھیں نظرانداز کر دیا جاتا ہے ' زرعی قرضے ہوں یا زراعت کے لیے دیگر مراعات 'ان کا فائدہ چھوٹے کسانوں کو کم پہنچتا ہے جب کہ بڑے زمیندار فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح حکومت ہاؤسنگ سیکٹر میں غریبوں اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے جو اسکیمیں بناتی ہے' بااثر طبقہ ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ پیسے والے لوگ غریب لوگوں سے اونے پونے آلات منٹ لیٹر خرید لیتے ہیں اور اس کے بعد انھیں مہنگے داموں فروخت کر دیا جاتا ہے۔بہرحال حکومت نے جو فیصلے کیے ہیں ان کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا جا رہا تھا۔