دو ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ

اسرائیل اور بھارت کے درمیان دو ارب ڈالرکا دفاعی معاہدہ طے پایا ہے


Zaheer Akhter Bedari April 14, 2017
[email protected]

اسرائیل اور بھارت کے درمیان دو ارب ڈالرکا دفاعی معاہدہ طے پایا ہے۔ اسرائیل کی ایک سرکاری کمپنی کے مطابق کسی بھی ملک سے ہونے والا یہ معاہدہ اسرائیل کا سب سے بڑا معاہدہ ہے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی سرکاری دفاعی کمپنی آئی اے آئی نے بھارت کے ساتھ دو ارب ڈالر کے جس معاہدے پر دستخط کیے ہیں، اس کے مطابق اسرائیل بھارتی فوج اور بھارتی بحریہ کو میزائل ڈیفنس سسٹم فراہم کرے گا۔ اسرائیل آبادی کے اعتبار سے بھارت کے شہر دہلی سے بھی چھوٹا ملک ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد مغربی ملکوں نے یہودیوں پر ہٹلر کے مظالم اور یہودیوں کی بے وطنی پر ترس کھاکر مشرق وسطیٰ میں ایک یہودی ریاست اسرائیل کے نام سے قائم کی اور اس ریاست کو تیزی کے ساتھ ہر حوالے سے اس قدر ترقی یافتہ بنادیا کہ یہ چھوٹا سا ملک پورے مشرق وسطیٰ کا غیر اعلانیہ حکمران بن گیا۔ خاص طور پر دفاعی شعبے میں اسرائیل اس قدر طاقتور ہوگیا کہ وہ عملاً سارے عرب ملکوں کا حاکم بن گیا ہے۔

امریکا اور اس کے اتحادیوں نے اسرائیل محض یہودیوں کی مظلومیت کے حوالے سے نہیں بنایا بلکہ اسرائیل کو وجود میں لانے کا بنیادی مقصد عرب ملکوں کے تیل کی دولت پر اپنی اجارہ داری کو مستحکم بنانا تھا، سو اسرائیل اپنی یہ ذمے داری بڑی خوبی سے نبھا رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں اولین اہمیت اقتصادی استحکام کو دی جاتی ہے اور اقتصادی استحکام کے لیے سرمایہ اولین ضرورت ہوتی ہے۔ سرمایہ دار ملکوں کو اس کی قطعی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ سرمایہ کس طریقے سے حاصل کیا جا رہاہے۔ اس پس منظر میں اسرائیل ہتھیاروں کی صنعت سے اربوں ڈالرکما رہا ہے۔ بھارت سے دو ارب ڈالرکے اس فوجی معاہدے کو سیاسی تناظر کے علاوہ اقتصادی استحکام کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس معاہدے کو اسرائیل کی دفاعی تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ کہا جا رہا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کراچی سے کم آبادی والے ملک نے اتنی ترقی کیسے کر لی کہ وہ سارے عرب ملکوں پر حاوی ہو گیا ہے؟ اس سوال کا آسان سا جواب یہ ہے کہ اسرائیل نے جدید علوم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو اولیت دی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہودی اپنے مذہب سے بیگانہ ہو گئے ہیں بلکہ اس کے برخلاف اسرائیلی بہت مذہب پرست قوم ہیں اور آج بھی وہ اپنے مسائل اور ماضی میں اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے حوالے سے دیوارگریہ سے لپٹ کر روتے ہیں۔ لیکن دیوار گریہ سے لپٹ کر رونے اور مذہب پرستی کے ساتھ ساتھ انھوں نے جدید علوم، سائنس، ٹیکنالوجی اور دفاعی سائنس کے شعبوں پر اپنی خصوصی توجہ مرکوز رکھی، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اسرائیل ایک طرف مشرق وسطیٰ کا بے تاج بادشاہ بنا ہوا ہے تو دوسری طرف بھارت جیسے دنیا کے دوسرے بڑے ملک کو اربوں ڈالرکا دفاعی سامان فروخت کر رہا ہے۔

اسرائیل کی ترقی کے حوالے سے اگر ہم عالم اسلام خاص طور پر عرب ممالک پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ افسوسناک بلکہ شرمناک حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ صنعتی ترقی اور اقتصادی استحکام کے حوالے سے یہ ملک اس قدر تہی دست ہیں کہ یہ ملک کھانے پینے کی اشیا تک باہر سے منگواتے ہیں جس پر اربوں ڈالر خرچ کر دیتے ہیں۔ ان کی نوابی اور نوابی ذہنیت کا عالم یہ ہے کہ وہ تیتر، بٹیرکا شکارکرنے کے لیے پاکستان آتے ہیں اور مہینوں سکونت اختیارکر کے کئی شکار سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ امریکا اور دوسرے ترقی یافتہ ملکوں میں فائیواسٹار ہوٹلوں کی مہینوں کے لیے بکنگ کروا کر زندگی کو خوب انجوائے کرتے ہیں ۔ شِکروں کاندھوں پر بٹھا کر خوش ہوتے ہیں اور شِکرے سونے کی قیمت پر خرید کر پاکستان جیسے پسماندہ ملک کی معیشت میں استحکام کا بلا واسطہ کردار ادا کرتے ہیں۔

سعودی عرب میں اونٹوں کی نمائش ہو رہی ہے جس میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے پچاس ہزار اونٹ منگوائے گئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ اونٹوں کا مقابلہ حسن ہے اور اس میں سب سے زیادہ خوبصورت اونٹ کا تعین کیا جائے گا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ سب سے زیادہ خوبصورت ہونے کا مقابلہ جیتنے والے اونٹ کو کیا انعام دیا جائے گا لیکن ہمارے خیال میں اس خوبصورت اونٹ یا اس کے مالک کو تیل کا ایک کنواں انعام میں دیا جانا چاہیے۔

بھارت ہمارا ایک پڑوسی ملک ہے اور پڑوسی ہونے کے ناتے اس کی آبادی کا تقریباً 50 فی صد سے زائد حصہ بھی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہا ہے، دوسرے پسماندہ ملکوں کی روایات کے مطابق بھارت کے بازار حسن بھی چکا چوند ہیں اور اس غریب ملک کی 36 لاکھ ناریاں حسن کے بازاروں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ بھارتی کسان قرضوں کی ادائیگی نہ کر پانے کی وجہ سے خودکشیاں کر رہے ہیں لیکن بھارت دفاعی لحاظ سے طاقتور ملکوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کا اندازہ اسرائیل سے دو ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے سے کیا جا سکتا ہے۔

بھارت پاکستان کے غوری میزائلوں کے مقابلے میں پرتھوی میزائل بناتا ہے اور پاکستان جیسے انتہائی پسماندہ ملک کے خوف سے اسرائیل سے دو ارب ڈالر کا میزائل ڈیفنس سسٹم خریدتا ہے۔ روایت کے مطابق پاکستان کا حکمران طبقہ بھی اسرائیل سے نہ سہی کسی ترقی یافتہ ملک سے بھارت کے میزائل ڈیفنس نظام کے جواب میں ایک نیا میزائل ڈیفنس نظام خریدنے کی کوشش کرے گا۔ یوں ان دونوں بھوکے ننگے ملکوں کے غریب عوام کی دولت مقابلوں کے دفاعی نظاموں میں استعمال ہوتی رہے گی اور دونوں ملکوں کے بھوکے عوام بھوک سے تنگ آ کر خودکشیاں کرتے رہیں گے اور بازار حسن سجاتے رہیں گے اور آف شور کمپنیوں میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

مقبول خبریں