اسمبلیاں ٹوٹیں نہ الیکشن کمیشن قادری مارچ کا ڈبل مارچ

مارچ کے شرکا کیخلاف مقدمات ختم کر دیے جائینگے، اعلامیہ، وزیراعظم نے معاہدے پر دستخط کیے،دھرنا ختم


اسلام آباد:پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے دھرنے کے دوران حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے بعد طاہر القادری اپنے کنٹینرز سے معاہدے کا اعلان کررہے ہیں۔ فوٹو: آئی این پی

تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادی کے حکومت سے مذاکرات کے بعد معاہدہ طے پا گیا۔

اسمبلیاں ٹوٹیں نہ الیکشن کمیشن ،عورتوں ،مردوں اور معصوم چھوٹے بچوں کو چار روز شدید سردی میں ٹھٹھرانے کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور شرکاء کی گھروں کو واپسی شروع ہو گئی جب کہ طاہر القادری لاہور روانہ ہوگئے۔ معاہدے کو اسلام آباد لانگ مارچ اعلامیہ کا نام دیا گیا ہے جس میں طے پایا ہے کہ قومی اسمبلی 16 مارچ سے پہلے تحلیل کر دی جائیگی تاکہ انتخابات 90 دنوں میں مکمل ہو سکیں۔

انتخابی امیدواروں کی آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت مکمل چھان بین کی جائیگی اور اہل امیدوار کو ہی انتخابی مہم میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی۔ کسی بھی امیدوار کو مکمل چھان بین تک انتخابی مہم شروع کرنیکی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ معاہدے کے مطابق حکومتی اتحاد میں شامل جماعتیں پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ مکمل اتفاق رائے سے نگران سیٹ اپ میں وزارت عظمیٰ کے لیے 2 ناموں کا اعلان کرینگی۔ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کیلیے آئینی پیچیدگیوں کے باعث دوبارہ اجلاس ہوگا۔ آئندہ انتخابات میں آئین کے آرٹیکل 62، 63 اور 218 پر عمل ہوگا۔ انتخابات سے قبل نوے دنوں میں ایک مہینہ انتخابی اصلاحات کی عملداری ہو گی، امیدواروںکی اہلیت کیلیے الیکشن کمشین فیصلہ کرے گا، الیکشن کمیشن کی دوبارہ تشکیل کے حوالے سے27 جنوری کو ایک اور میٹنگ ہوگی۔

عوامی نمائندگی ایکٹ 1976ء کے تحت شق 77سے 82تک چھ شقوںکے مطابق انتخابات ہوں گے، جس کے تحت دھن، دھونس، دھاندلی، اور برادری کے ناجائز اثر رسوخ کو انتخابات سے نکالا جاسکے گا اور انتخابی اصلاحات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد ہوگا، کسی بھی مالیاتی ادارے کے نادہندگان انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ معاہدے کے تحت یہ بھی طے پایا کہ لانگ مارچ کے شرکا اور انتظامیہ کیخلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ حکومت اور تحریک منہاج القرآن دونوں اطراف سے ایک دوسرے کیخلاف قائم مقدمات کو ختم کردیا جائیگا۔ طاہرالقادری اور حکومتی ٹیم کے ارکان کے علاوہ بعد ازاں معاہدے پر وزیراعظم نے دستخط کیے، صدر آصف زرداری نے معاہدے کی توثیق کی۔

مذاکراتی ٹیم اور وزیر اعظم معاہدے کے ضامن ہوں گے۔ معاہدے پر وزیراعظم کے دستخط کے بعد طاہرالقادری نے شرکاء سے اپنے خطاب میں اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔ انھوں نے کہا مذاکرات میں ہمارا اصرار نوے دنوں میں انتخابات کرانا تھا جبکہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم کا خیال مختلف تھا تاہم ہمارا مطالبہ مان لیا گیا۔ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کیلئے ستائیس جنوری کو منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ میں حکومت کی مذاکراتی ٹیم اور ہمارے درمیان میٹنگ ہوگی۔ انھوں نے کہا عوام کو مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نے آپ کو کامیابی عطا فرمائی۔ آپ نے جو جدوجہد کی وہ پاکستان کی تاریخ کا سنہری باب بن چکی ہے۔ اعلامیہ پڑھنے کے بعد طاہرالقادری نے 5 روز سے جاری لانگ مارچ اور دھرنے کو ختم کرنیکا اعلان کیا۔

2

چوہدری شجاعت نے کہا کہ انہوں نے ایسا لانگ مارچ دیکھا نہ سنا وہ دھرنے میں شامل تمام افراد کو مبارکباد دیتے ہیں۔ امین فہیم نے کہا لانگ مارچ اور دھرنے کے دوران گملا بھی نہ ٹوٹنا قابل تحسین ہے۔ فاروق ستار نے کہا کہ لانگ مارچ کے شرکاء نے یہ ثابت کردیا کہ اگر جذبے اور نیک نیتی کے ساتھ منزل کی جانب بڑھا جائے تو مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔ افراسیاب خٹک نے کہا لانگ مارچ اور دھرنے نے عالمی طور پر یہ تاثر دے دیا ہے ہم دہشتگردی اور انتہا پسندی کو ختم کرکے رہیں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا دھرنے کے شرکاء کی فتح سے ملک میں جمہوریت کا سفر آگے بڑھا ہے، آج جمہوریت اپنے ثمرات دے رہی ہے۔ مسائل کا علاج صرف جمہوریت اور مزید جمہوریت ہے۔

خورشید شاہ نے کہا معاہدہ جمہوریت کی فتح ہے اور اسے عملی جامہ بھی پہنایا جائیگا۔ قبل ازیں طاہرالقادری سے ق لیگ کے چوہدری شجاعت کی سربراہی میں 10ارکان پر مشتمل حکومتی کمیٹی نے پونے پانچ گھنٹے مذاکرات کیے، کمیٹی میں پیپلزپارٹی کے امین فہیم، خورشید شاہ، قمر زمان کائرہ، فاروق نائیک، ق لیگ کے مشاہد حسین، ایم کیو ایم کے فاروق ستار، بابر غوری، اے این پی کے افراسیاب خٹک اور فاٹا سے سینیٹر عباس آفریدی شامل تھے۔ مذہبی رہنما آغا مرتضٰی پویا نے طاہرالقادری کی معاونت کی، مذاکرات طاہرالقادری کے بم پروف کنٹینر میں ہوئے، حکومتی ٹیم طاہرالقادری کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کے مطابق پونے چار بجے دھرنے میں پہنچ گئی تھی۔

جیسے ہی مذاکرات شروع ہوئے کنٹینرز کے شیشوں سے پردے اٹھا دیے گئے میڈیا اور دھرنے کے شرکاء مذاکرات براہ راست دیکھتے رہے۔ مذاکرات کے دوران نماز مغرب کا وقفہ ہوا اور طاہرالقادری نے دھرنے کے شرکاء سے کہا کہ ابھی پہلے نکتے پر بات چیت ہو رہی ہے۔ آپ سب کہیں نہ جائیں۔ اس سے پہلے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے طاہرالقادری نے حکومت کو اصلاحات کے لیے سہ پہر تین بجے تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ شام سے قبل اس معرکے کو ختم کرنا ہے کل جمعہ کو دھرنا نہیں ہوگا، اگر صدرِ پاکستان ان سے مذاکرات کے لیے نہ آئے تو وہ امن کا آخری موقع بھی گنوا دیں گے اور میں امن کی ضمانت نہیں دونگا۔

انھوں نے کہا دھرنے میں موجود معصوم بچوں کو مزید امتحان میں نہیں رکھنا چاہتا، ہمارے پانچ دن کے احتجاج میں ایک پتھر بھی نہیں ہلا، کوئی پتہ نہیں ٹوٹا، اب حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ میں ان معصوم افراد کو مزید آزمائش میں ڈالے رکھوں۔ میں حکومت کوڈیڑھ گھنٹے کی ڈیڈ لائن دیتا ہوں اس وقت ایک بجکر پینتیس منٹ میں تین بجے ڈیڈ لائن ختم ہوگی تین بجے میں اپنے آئندہ کے ایکشن کا اعلان کروں گا۔آج معرکے کا آخری دن ہے کل جمعہ کو دھرنا نہیں ہوگا، حکومتی مذاکراتی وفد کو آخری موقع دے رہا ہوں گھروں میں ٹی وی دیکھنے والے گھروں سے نکل آئیں اور دھرنے میں شامل ہوجائیں، صدر پاکستان اپنی حکومتی وفد کے ہمراہ مذاکرات کیلئے آئیں۔

انہوں نے کہا میں نے بیسویں بار خواتین سے کہاکہ وہ دھرنے میں نہ آئیں مگر یہ خواتین جبر کرکے خود آ گئی ہیں۔ دھرنے میں شریک افراد خاص طور پر خواتین اور بچوں کیلئے حکومت کی طرف سے کوئی انتظامات نہ کرنے پر حکمرانوں کو ''بے حیا'' کا خطاب دیا۔ اسی دوران تیز آندھی کے ساتھ بارش شروع ہوئی تو ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہاکہ یہ اﷲ نے ہمارے لیے اپنی رحمت بھیجی ہے۔ انھوں نے کہا ہم پانچ دنوں سے لانگ مارچ اور دھرنے میں ہیں اٹھارہ دن ہوگئے ہیںجب تئیس دسمبرکوہم نے حکومت کے سامنے اپنے مطالبات رکھے تھے تیرہ جنوری کو ہم لاہورسے چلے ہیںلیکن اس کے باوجود حکمرانوں کو ان معصوم عوام کو کوئی خیال نہیں آیا کہ ان کی خاطر مذاکرات کیے جائیں، اب انتہا ہو گئی ہے۔

طاہرالقادری نے کہا حکمرانوں کی کرپشن ملک کو دیمک کی طرح کھا گئی ہے،ملک کے خزانے لوٹے جارہے ہیں، پاکستان کی معاشی بقا خطرات میں پڑ گئی ہے۔ ظلم کی انتہا ہوگئی ہے حکمرانوں کو غریبوںکی کوئی فکر نہیں جو دھرنے میں گزشتہ کئی دنوں سے بیٹھے ہیں، حکمرانوں نے سپریم کورٹ کی رٹ کو چلینج کر رکھا ہے اور سپریم کورٹ کو آئین کا سبق سکھا رہے ہیں۔ بدعنوان وزیر اعظم عوام کو بجلی کی فراہمی کے نام پر رینٹل پاور پروجیکٹس کے نام پر اربوں روپے کھا گئے ہیں۔ ہم جمہوریت کوڈی ریل نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں جمہوریت لاگو کرنا چاہتے ہیں۔

انتخابات کو شفاف نہ بنایا گیا تو یہ لٹیرے واپس آجائیںگے، بظاہر لڑنے والے سیاستدان آپس میں ایک ہیں۔ انہوں نے نوازشریف کی دعوت پر اپوزیشن رہنمائوں کے مشاورتی اجلاس میں منظور کردہ 10 نکاتی اعلامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سارے لوگ پہلے دن سے کرپشن کیلیے اکٹھے ہیں ا ور آئندہ بھی رہیں گے۔ طاہرالقادری نے کہا حکومت نے بدیانت وزیر داخلہ کو جھوٹ پھیلانے کیلئے رکھا ہوا ہے۔