ڈی جی خان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن
دہشتگردوں کے سہولت کار افغانستان اور فاٹا سے لے کر لاہور اور کراچی تک ایک نیٹ ورک کی صورت میں موجود ہیں
KARACHI:
آپریشن ردالفساد کے سلسلہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جنوبی پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے چوٹی زیریں کی بستی دادوانی میں سرچ آپریشن کیا، اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد اور ان کے سہولت کار ہلاک جب کہ 4 رینجرز جوان شہید اور 2 زخمی ہو گئے، 7 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ ہلاک دہشتگردوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے بتایا جاتا ہے۔
ادھر لاہور کے ایک پوش ایریا میں بھی ایک دہشتگرد ہلاک کیا گیا ہے، اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ مسیحیوں کے تہوار ایسٹر کے کسی اجتماع کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ ڈیرہ غازی خان کے علاقے چوٹی زیریں میں جو آپریشن کیا گیا اس کی تفصیلات کے مطابق رینجرز اور فورسز کے جوانوں نے سرچ آپریشن شروع کیا تو ایک گھر میں موجود دہشتگردوں نے فائرنگ کر دی۔ شدید فائرنگ کے تبادلہ میں 10 دہشتگرد مارے گئے۔ دہشتگردوں کے ساتھ دلیرانہ مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان رینجرز کے 4 جوان شہید ہو گئے جب کہ 2 جوان شدید زخمی ہوئے۔
معلوم ہوا ہے کہ ملزمان عرصہ چھ سال سے افغانستان سے اسلحہ اور بارود فاٹا اور وہاں سے ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے میں لاتے اور پھر یہ اسلحہ کار کے ذریعے فیصل آباد' سیالکوٹ' شیخوپورہ اور کھاریاں لا کر زمین اور گندم کے بھوسہ میں دبا دیتے تھے اور بعد میں یہ اسلحہ جرائم پیشہ افراد کے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کو بھی مہیا کرتے تھے۔
ڈیرہ غازی خان میں آپریشن اور لاہور میں ایک کارروائی میں دہشتگرد کی ہلاکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشتگردوں کے سہولت کار افغانستان اور فاٹا سے لے کر لاہور اور کراچی تک ایک نیٹ ورک کی صورت میں موجود ہیں اور ان عناصر کی بیخ کنی انتہائی ضروری ہے۔
آپریشن ردالفساد کے تحت خاصی کارروائیاں ہو رہی ہیں تاہم ان کارروائیوں کا رخ ایسے افراد اور گروہوں تک بھی بڑھایا جانا چاہیے جو دہشتگردوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسکولوں اور کالجوں میں پڑھائے جانے والے نصاب میں تبدیلی بھی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کو مشترکہ اجلاس میں پورے ملک کے لیے یکساں نصاب تعلیم تیار کرنا چاہیے جو پرائمری اور ہائی اسکولوں میں پڑھایا جائے اور کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی پڑھایا جائے۔