مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم میں اضافہ اور عالمی بے حسی
اقوام متحدہ اور امریکا نے کبھی مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں ہونے والے مظالم کو روکنے کی عملی کوشش نہیں کی
مقبوضہ کشمیر میں آزادی پسند کشمیریوں پر بھارتی افواج کی جانب سے سرعام تشدد کے واقعات میں نمایاں تیزی آنے کے بعد پوری وادی میں حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک دو روز قبل بھارتی فوج کی جانب سے حریت پسند ایک کشمیری نوجوان کو جیپ کے آگے باندھ کر گھمانے کے بعد کشمیری نوجوانوں پر سرعام تشدد پر مبنی دو مزید ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔
ایک ویڈیو میں چار بھارتی فوجی کشمیری نوجوان کو بیچ سڑک بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں، ایک فوجی اسے ڈنڈے مار رہا ہے جب کہ باقی اس کی ٹانگوں اور گردن پر پاؤں رکھے اسے قابو کیے ہوئے ہیں، نوجوان درد کی شدت سے چلا رہا ہے مگر بے حس اور سفاک فوجی پروا کیے بغیر اس پر ڈنڈے برساتا رہا۔
دوسری ویڈیو میں بھارتی فوجی چند کشمیری نوجوانوں پر تشدد کر رہے اور انھیں پاکستان مخالف نعرے لگانے پر مجبور کر رہے ہیں، تھپڑوں اور ڈنڈوں سے پیٹنے کے ساتھ ان نہتے کشمیریوں کو برا بھلا بھی کہا جا رہا ہے۔ ان دو ویڈیوز کے سامنے آنے پر ہر طرف شدید غم وغصہ پایا جا رہا ہے لیکن بین الاقوامی برادری کشمیریوں پر ہونے والے ان مظالم پر چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی افواج کے مظالم کی جانب اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی بارہا توجہ دلائی مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اقوام متحدہ بھی اس سلسلے میں روایتی بیان بازی سے کام لے رہی ہے اور اس کی جانب سے مقبوضہ وادی میں ہونے والے مظالم کی کھلے الفاظ میں مذمت تک نہیں کی گئی۔ جہاں تک امریکا کا تعلق ہے تو ٹرمپ کے آنے کے بعد مسلمان ممالک سے متعلق معاندانہ اور جارحانہ رویہ اپنایا جا رہا ہے، گزشتہ دنوں امریکا نے شام پر حملہ کیا اور اس کے بعد اب اس نے افغانستان میں بھی انتہائی خوفناک بھاری بم گرا کر یہ تاثر دیا ہے کہ اس کے نزدیک مسلمانوں کے جان ومال کی کوئی اہمیت نہیں۔
اقوام متحدہ اور امریکا نے کبھی مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں ہونے والے مظالم کو روکنے کی عملی کوشش نہیں کی۔ یہ صورت حال مسلمان ممالک کی سلامتی اور بقاء کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس تناظر میں او آئی سی اور عرب لیگ کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا لیکن پس منظر یہ ہے کہ مسلم ممالک خود باہمی اختلافات کا شکار ہونے کے باعث امریکا کی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف آواز نہیں اٹھا رہے۔ اس صورت حال کے باعث بھارتی حکومت کو بھی شہ ملی اور اس نے مقبوضہ کشمیر میں اپنے ظلم وستم کی انتہا کر دی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے او آئی سی کو اپنا فعال کردار ادا کرنے کے لیے کہے۔