قسمت کا لکھا

جمہوریت دنیا کا ایسا منافع بخش کاروبار بنی ہوئی ہے جس میں سرمایہ کار کروڑ کی سرمایہ کاری کرکے 10 ارب کماتا ہے


Zaheer Akhter Bedari April 17, 2017
[email protected]

کرۂ ارض پر لگ بھگ 7 ارب انسان رہتے ہیں، ان 7 ارب انسانوں میں 80 فیصد سے زیادہ انسان ساری زندگی دو وقت کی روٹی کے محور پر گھومتے رہتے ہیں۔ یہ ظلم نیا نہیں ہے بلکہ صدیوں سے جاری ہے۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ ظلم کے خلاف مزاحمت کرتا ہے لیکن مزاحمت اس وقت ہوتی ہے جب مظلوم ظالم کو جانتے ہوں۔

شخصی حکمرانوں سے لے کر آج کے سرمایہ دارانہ نظام تک طبقاتی استحصال کرنے والوں نے اپنے آپ کو مظلوموں کی نگاہوں سے چھپانے کے لیے جو حربے استعمال کیے ان میں سب سے کامیاب حربہ قسمت ہے۔ ناخواندہ عوام ہی نہیں بلکہ تعلیم یافتہ انسان بھی اپنی تمام تر مشکلات، غربت، افلاس، بھوک، بیماری کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ حکمران طبقات نے قسمت کا پروپیگنڈا اس قدر منظم اور منصوبہ بند انداز میں کیا کہ ہر بندہ بشر خواہ اس کا تعلق کسی مذہب، کسی ملک سے کیوں نہ ہو، قسمت کا اسیر ہوکر رہ گیا۔ اس پروپیگنڈے کو موثر بنانے کے لیے مسجدوں، مندروں، گرجاؤں کو مورچوں کے طور پر استعمال کیا گیا۔

سادہ لوح مولوی، پنڈت، پوپ بڑی ایمانداری سے یہ بے ایمانی کرتے آرہے ہیں اور خلق خدا ان اکابرین کے ارشادات کو اپنے ایمان کا حصہ بناکر طبقاتی مظالم کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر رہی ہے۔ کوئی یہ سمجھنے کی زحمت کرنے کے لیے تیار نہیں کہ اگر قسمت خدا لکھتا ہے تو کیا 80 فیصد عوام کی قسمت میں بھوک، افلاس، بیماری، بے کاری ہی لکھ دی ہے، جب کہ خدا نے دو فیصد بالادست طبقات کے ہاتھوں میں 80 فیصد دولت مرکوز کردی ہے۔

خدا سارے انسانوں کا رب ہے، جو رحمٰن اور رحیم ہے، کیا خدا اپنی 80 فیصد سے زیادہ مخلوق کو بھوک، بیماری، غربت و افلاس کے حوالے کرکے دنیا کی 80 فیصد سے زیادہ دولت کو 2 فیصد بالادست طبقات کے ہاتھوں میں دے سکتا ہے؟ 80 فیصد سے زیادہ مظلوموں کی توجہ استحصالی طبقات نے اپنی طرف سے ہٹانے کے لیے قسمت کا پروپیگنڈا اس منظم انداز سے کیا کہ خلق خدا اس کے فریب میں آکر اپنے طبقاتی دشمنوں سے لاعلم ہوگئی۔

ویسے تو طبقاتی مظالم کا سلسلہ صدیوں بلکہ ہزاروں سال سے جاری ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے متعارف ہونے کے بعد ان مظالم میں اس قدر اضافہ ہوگیا ہے کہ خود سرمایہ دارانہ نظام کے میڈیا میں ہر سال بھوک، بیماری، بے کاری سے موت کا شکار ہونے والے لاکھوں انسانوں کے اعداد و شمار شایع ہوتے رہتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کے منصوبہ سازوں نے اپنے اپنے استحصالی نظام کی قہرمانیوں کو عوام کی نظروں سے چھپانے اور استحصالی طبقات کو عوام کے قہر سے بچانے کے لیے جمہوریت کا پرفریب نظام دے دیا یعنی عوام کی حکومت عوام کے لیے عوام کے ذریعے کا وہ فلسفہ عوام کے سروں پر لاد دیا کہ عوام بالا دست طبقات سے شکایت کرنے کے حق سے بھی محروم ہوگئے۔ جمہوریت میں عوام کا کیا کردار ہوتا ہے اس کا مشاہدہ ہم خود اپنے ملک میں 70 سال سے کر رہے ہیں۔

دنیا کے دیگر ملکوں میں اشرافیہ عوام کے دھوکے فریب، خوشنما وعدوں سے ووٹ لے کر اقتدار میں آتی ہے لیکن ہمارے ملک کی جمہوریت کا عالم یہ ہے کہ بے چاری جمہوریت چند خاندانوں کے ہاتھوں میں یرغمال بنی ہوئی ہے۔ جمہوریت دنیا کا ایسا منافع بخش کاروبار بنی ہوئی ہے جس میں سرمایہ کار کروڑ کی سرمایہ کاری کرکے 10 ارب کماتا ہے۔ جمہوریت کا یہ کھیل اس ملک کے 20 کروڑ عوام اپنی نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور بھگت رہے ہیں لیکن اس اشرافیائی جمہوریت کے خلاف مزاحمت کرنے کے لیے تیار نہیں۔

اس نام نہاد جمہوریت میں قانون اور انصاف کو اس قدر متبرک بناکر رکھ دیا گیا ہے کہ اس کے آگے سر جھکانے کو جمہوریت کی بالادستی کہا جاتا ہے اور قانون اور انصاف کا عالم یہ ہے کہ جن لوگوں پر اربوں نہیں کھربوں روپوں کی کرپشن کے الزامات ہیں انھیں ہیرو بنایا جا رہا ہے، صف اول کے سیاستدان انھیں بے گناہ قرار دے کر ان کی حوصلہ افزائی کرتے نظر آرہے ہیں، اربوں روپوں کی کرپشن کے الزامات اپنی پیشانیوں پر سجاکر یہ محترم لوگ عدالتوں میں کھڑے ہوکر وکٹری کے نشان بنا رہے ہیں اور ہماری جمہور ان کے گرد ہجوم کرکے ان کے لیے زندہ باد کے نعرے لگا رہی ہے۔

دنیا کی سیاسی تاریخ میں بلاشبہ جمہوریت ایک ترقی پسندانہ نظام کہلا سکتا ہے لیکن جمہوریت وہ ہوتی ہے جس میں اکثریت کی حکومت ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں ساڑھے چار کروڑ مزدور ہیں، قانون ساز اداروں میں مزدوروں کے کتنے نمایندے موجود ہیں؟ ہمارے ملک کی 60 فیصد آبادی زرعی معیشت سے جڑی ہوئی ہے، زرعی معیشت سے جڑی اس 60 فیصد آبادی کے کتنے کسان کتنے ہاری قانون ساز اداروں میں موجود ہیں؟

زندگی کے دوسرے شعبوں میں اہل ایماندار اور مخلص لوگ موجود ہیں ان میں ڈاکٹر ہیں، وکلا ہیں، انجینئرز ہیں، ٹریڈ یونینوں میں کام کرنے والے لوگ ہیں، ادیب ہیں، شاعر ہیں، فنکار ہیں، دانشور ہیں، صحافی ہیں، قانون ساز اداروں میں ان کے کتنے نمایندے موجود ہیں؟

میرے سامنے اخبار ہے جس کی ایک باکس نیوز کے مطابق امریکا کے صدر ٹرمپ نے داماد کے بعد بیٹی کو بھی مشیر بنادیا۔ اگر ترقی یافتہ جمہوریت میں خاندانی حکمرانیوں کا سلسلہ چل پڑا ہے تو پسماندہ ملکوں میں خاندانی حکمرانیوں کی شکایت کس سے کی جائے۔ اسی اخبار کی ایک خبر کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے فرمایا ہے کہ ''ملک میں گڈ گورننس نہیں ہے، منظور نظر افراد کو نوازنے سے ادارے کمزور ہو رہے ہیں، کرپشن اور اقربا پروری کو ختم کرنا ہوگا۔''

جسٹس امیر ہانی نے استحصالی نظام کے خاتمے کا علم اٹھایا ہوا ہے، چیف جسٹس صاحب کے ان فرمودات سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت کا کیا حال ہے۔ ہمارے ملک کے 20 کروڑ عوام جو غربت، بھوک اور افلاس کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر رہے ہیں۔ کیا اس کرپٹ اشرافیائی جمہوریت کو بھی قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرلیں گے؟

مقبول خبریں