مقبوضہ کشمیر کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو شکست
آج خطے کو بھارتی جنگی عزائم سے خطرات لاحق ہیں
ISLAMABAD:
بھارتی سیکولرازم اور آزادانہ و منصفانہ ضمنی انتخابات کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے جب کہ سری نگر کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو عبرتناک شکست ہوئی اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ فاتح قرار پائے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے نوٹا الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے ووٹنگ کے دوران بھارتی سیکیورٹی فورسزنے کشمیری مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایاجب کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ بندوقوں کے سائے میں انتخابی عمل اور تشدد ناقابل قبول ہیں ۔
ان انتخابات کی حقیقت یہ ہے کہ کشمیری عوام نے وادیٔ پرخوں میں بی جے پی اتحاد کو شرم ناک شکست دے کر ثابت کیا کہ بھارتی ظلم وستم سے تنگ آئے ہوئے کشمیری عوام نے ضمنی انتخابات میں اپنے بنیادی حق خودارادیت ، ضمیر اور ناقابل تسخیر جذبہ آزادی کو بلٹ کے خلاف بیلٹ کی سرخروئی سے ہم آہنگ کیا اور بھارتی سرکار کو دوٹوک پیغام دیدیا کہ وہ چاہے جتنا ظلم کرے کشمیری عوام اور وادی کی پر جوش نوجوان نسل بھارتی بربریت کے سامنے کبھی سرنگوں نہیں ہوں گے ، مبصرین کا کہنا ہے کہ نیشنل کانفرنس نے ضمنی انتخابات کے نتائج کو مودی سرکار کے لیے چشم کشا بنادیا ہے ۔
سری نگر میں الیکشن کے دن خوف وہراس کا ماحول تھا ۔ انتخابی دھاندلی کے لیے فضا بنائی گئی تاہم ووٹرز نے کشمیری عوام کی جدوجہد پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے مودی اور اس کے بزرجمہروں کے سارے دعوے ہوا میں اڑا دیے، یوں سرینگر کے دورے ، ترقیاتی اور مراعاتی جھانسے سب بیکار ہوگئے۔ بھارتی بربریت آگے بھی شکست سے دوچار ہوگی اگر مودی حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیے ، اگرچہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کشمیری نوجوانوں پر تشدد کی نئی ویڈیو وائرل ہوگئی ہے جس میں بھارتی فوجی اہلکار کشمیری نوجوانوں کو باندھ کر شدید تشدد کر کے ان سے فورسز پر پتھراؤ کرنے کا اعتراف کرواتے دکھائے گئے ہیں، ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک نوجوان کے چہرے پر تشدد سے خون بہہ رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھارتی مظالم کی ان ویڈیوز سے شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم عالمی دنیا سے ڈھکے چھپے نہیں لیکن تمام ثبوتوں کے باوجود اقوام متحدہ اور عالمی برادری وادی میں بھارتی ظلم و ستم کو روکنے میں کردار ادا کرنے سے قاصر ہے، ادھر بارہ مولا میں بھارتی اہلکاروں نے نوجوان مظاہرین پر فائرنگ کر دی، فائرنگ سے نوجوان سجاد حسین شیخ سر میں گولیاں لگنے سے موقع پر ہی شہید ہوگیا جس پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے قابض فورسزنے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کردی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے بڑھتے بھارتی مظالم کے خلاف ہڑتال کی کال دے دی ہے۔
کہنے کو یہ سری نگر کے ضمنی الیکشن تھے مگر انتخابی نتائج کے آئینہ میں کشمیری رہنماؤں اور انقلابی جذبوں سے سرشار یوتھ کی جدوجہد سے بھارتی خوش فہمیون کا صفایا ہوگیا ۔ شکست بھارت کا مقدر بنی، وادی میں قتل وغارت کرتے ہوئے انتخابی عمل کو بھی غیر جمہوری انداز میں نتائج سمیت اچک کر لے جانے کی حکمت عملی ناکام ہوئی، ادھر ٹرن آؤٹ 5 فی صد سے بھی نیچے رہا، جو اس حقیقت کا مظہر ہے کہ مودی سرکار کشمیر کو جبر وستم کے ہتھکنڈوں سے زیر نگیں کرنے میں بھی ہزیمت سے دوچار رہی۔
آج خطے کو بھارتی جنگی عزائم سے خطرات لاحق ہیں، مقبوضہ کشمیر میں ''چپک رہا ہے بدن سے لہو میں پیراہن '' کا منظر نامہ ہے، نوجوانوں کے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم ہیں، اور لبوں پر آزادی کے نعرے۔ لہٰذا نتائج جیسے برآمد ہوئے ، وہ رواں صورتحال پر ضرور مرتب ہونگے ان کا قبل از وقت ادراک کرنے میں بھارتی حکام ناکام رہے، اس لیے بدنامی اور بدترین سفارتی و عسکری پسپائی بھارتی منصوبہ سازوں کو مزید ناکامیوں کا شکار بنادے گی ۔ بھارتی حکمرانوں نے عالمی برادری کو ہمیشہ غلط رپورٹیں دے کر پاکستان سے بدگمان کرنے کی سازشوں کا سہارا لیا جب کہ کلبھوشن کو سزائے موت سنائے جانے پر تو خطے میں دہشتگردی کی درپردہ حمایت ، بلوچستان میں مداخلت اور شورش پسندوں کی فنڈنگ کا بھانڈہ خود ہی پھوٹ گیا ہے، ضمنی الیکشن نے بھارتی سورماؤں اور بی جے پی کی امن دشمن حکمت عملی اور علاقائی بالادستی کی خواہش کو ڈراؤنے خواب میں بدل دیا ۔
مودی سرکار کشمیر اور خطے میں دہشتگردی ریاستی تشدد اور نسلی منافرت کے جس سیکولرانہ جہنم میں بھارت کو ڈھالنے کی غیر انسانی مہم جوئی میں مصروف ہے اسے کشمیری عوام بی جے پی کے بلاجواز اور مہلک جنگی جنون کے ساتھ ہی دفن کرکے رہیں گے، اس کا اندازہ ضمنی انتخابات سے لگانا چاہیے جہاں سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے تیسری بار اس نشست پر کامیابی حاصل کی جب کہ حکمراں جماعت پی ڈی پی کے امیدوار کو 10ہزار700 سے زائد ووٹوں سے ہرادیا، اب بھی وقت ہے کہ بھارت زمنی حقائق کو تسلیم کرے، تشدد اور ظلم و استبداد کے باعث نتیجہ کشمیریوں کے حق میں رہا، وہ مسئلہ کشمیر کا اہم فریق ہیں، مودی حکومت نے ہر قسم کی دھاندلی کرکے دیکھ لیا ، اور ظلم و جبرکا ہر حربہ استعمال کیا، مگر مقبوضہ وادی میں انتخابی جیت کشمیر کاز کو حاصل ہوئی۔