صدارتی نظام لانے کے لیے ریفرنڈم میں اردوان کی جیت

ترکی کی حکمران جماعت کو اپنے مخالفین کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے بہت احتیاط سے کام لینا ہو گا


Editorial April 17, 2017
۔ فوٹو: فائل

ترکی میں پارلیمانی نظام تبدیل کر کے صدارتی نظام رائج کرنے اور صدر کے اختیارات میں توسیع کے حق میں ہونے والا عوامی ریفرنڈم حکمران جماعت نے جیت لیا۔ ریفرنڈم کی کامیابی کے بعد صدر طیب اردوان کو کابینہ کے وزراء' سینئر ججوں کے چناؤ اور پارلیمان کو برخاست کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہو گئے ہیں' نئی اصلاحات کے تحت ملک کے وزیراعظم کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا اس کی جگہ نائب صدر لے لیں گے۔ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور صدر ممنون حسین نے اپنے پیغامات میں ترکی کی موجودہ حکومت اور ان کے عوام کو کامیاب ریفرنڈم کے انعقاد پر مبارکباد دی ہے۔

ترکی میں گزشتہ برس صدر رجب طیب اردوان کے خلاف ہونے والی فوجی بغاوت کی ناکامی کے بعد وسیع پیمانے پر میڈیا اور دیگر اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا تھا' تجزیہ نگاروں کے مطابق صدر طیب اردوان فوجی بغاوت کے بعد بڑی شدت سے یہ محسوس کر رہے تھے کہ حکومت مخالفین کو دبانے کے لیے ان کے پاس وسیع اختیارات کا ہونا ناگزیر ہے لہٰذا صدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملک کے استحکام کے لیے تبدیلیاں ضروری ہیں۔ عدلیہ' میڈیا اور دیگر اداروں میں حکومت کے مخالفین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے' اب ہونے والے ریفرنڈم میں بھی صرف 51.4 فیصد عوام نے ان کے حق میں جب کہ 48.6فیصد نے مخالفت میں ووٹ ڈالے ہیں' ترکی کے تین بڑے شہروں انقرہ' استنبول اور ازمیر میں صدارتی نظام کی مخالفت میں زیادہ ووٹ ڈالے گئے' ملک کی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں پیپلز رپبلکن پارٹی اور کردوں کی حامی جماعت ایچ ڈی پی نے بڑی تعداد میں جعلی ووٹ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ریفرنڈم نتائج چیلنج کرنے کا اعلان اور 60فیصد سے زائد ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا ہے۔

صدر رجب طیب اردوان کو ریفرنڈم جیتنے کے بعد وسیع پیمانے پر اختیارات حاصل ہو جائیں گے اس طرح اپنے مخالفین کے خلاف ایکشن لینے کے لیے ان کی راہ میں حائل قانونی اور آئینی رکاوٹیں ختم ہو جائیں گی۔ اپوزیشن جمہوری نظام کا حصہ ہے، ترکی کی حکمران جماعت کو اپنے مخالفین کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے بہت احتیاط سے کام لینا ہو گا' اسے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ریفرنڈم میں حق میں اور مخالفت میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح میں صرف ایک دو فیصد کا فرق ہے اور یہ کوئی بڑا فرق نہیں' اس طرح اس کے مخالفین کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جو حکومت کی کسی انتقامی کارروائی کے خلاف خطرہ بن سکتی ہے۔ اس تناظر میں موجودہ ترک حکومت کو ملک کی ترقی کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہو گا جس سے اس کے مخالفین کو سڑکوں پر آنے اور راہ احتجاج اختیار کرنے کا موقع ملے۔