’’عوامی شرعی عدالت‘‘

نعمان الحق  منگل 18 اپريل 2017
شریعت کی رو سے زنا کا الزام لگانے والے الزام ثابت کرنا ہوتا ہے ورنہ اسے 80 کوڑے مارنے کا حکم ہے۔ کیا توہین رسالت ﷺ کا جھوٹا الزام لگا کر کسی کی پوری زندگی برباد کرنے والے کے لئے کوئی سزا نہیں؟

شریعت کی رو سے زنا کا الزام لگانے والے الزام ثابت کرنا ہوتا ہے ورنہ اسے 80 کوڑے مارنے کا حکم ہے۔ کیا توہین رسالت ﷺ کا جھوٹا الزام لگا کر کسی کی پوری زندگی برباد کرنے والے کے لئے کوئی سزا نہیں؟

اگر توہین رسالت مآب ﷺ اور توہینِ مذہب ہمارے معاشرے میں قابلِ برداشت قرار پا جائے تو اسلام بطور دین اور رسول پاک ﷺ کی ذاتِ اقدس بطور ہادیِ اعظم، دونوں مذاق بن کر رہ جائیں گے جس سے اسلام کی روح بُری طرح متاثر ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ دشمنانِ دین اِس حوالے سے پاکستانی معاشرے کی حساسیت کو درجہ بدرجہ کم کرنے کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں جس کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ یہ قبیح فعل قومی و بین الاقوامی سطح پر بار بار دہرایا جائے حتیٰ کہ مسلمان اِسے ایک معمول کی کارروائی سمجھنے لگیں۔ خدا نہ کرے کہ وہ دن آئے جب سرِعام ہمارے دین کی تضحیک کی جائے، ہمارے پیارے نبی ﷺ کی توہین کی جائے، کتابِ مقدس کے اوراق کی توہین کی جائے اور ہم من حیث القوم خاموش تماشائی بنے رہیں۔ اِس نکتہ پر مسلمانوں کی حساسیت کا برقرار رہنا ہمارے ایمان کا جزو لاینفک​ ہے۔

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
 یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ اِس حساسیت کی نظریاتی اساس مذہب خود فراہم کرتا ہے لیکن اِس حساسیت کا دفاع کس کی ذمہ داری ہے؟
  • عوام الناس کی؟
  • ریاست کی؟
  • علماء دین کی؟
  • یا سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے؟
 اِس اہم سوال کا جواب ہم بعد میں دیں گے، پہلے موجودہ حالات کا بنظر غائر جائزہ لیتے ہیں۔
 .

اول

دائیں بازو کے نظریات سے متاثر عوام، دینی جماعتیں اور علماء دین کی اکثریت یہ تاثر رکھتی ہے کہ ریاست (حکومت خواہ کسی پارٹی کی ہو) لبرل سوچ کی حامل ہے اور توہین رسالت و مذہب کے سدِباب کے لئے نہ صرف غیر سنجیدہ ہے بلکہ اِس سلسلے میں بین الاقوامی دباؤ بھی قبول کرتی ہے۔ اِسی وجہ سے آج تک اِس جرم میں کسی کو سزا نہیں دی جاسکی۔ لہذا اِس صورتحال میں خود عملی طور پر میدان میں آنا اور ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ کرتے ہوئے جان لینا اور جان دینا ہمارا ایمانی فریضہ ہے۔
یہ خطرناک نظریہ لوگوں کو ’’عوامی شرعی عدالت‘‘ لگانے، کمزور ریاستی رٹ کی دھجیاں اڑانے اور قانون کے رکھوالوں کے سامنے مذہبی دہشتگردی کرنے کا بھرپور شرعی جواز فراہم کرتا ہے۔
 .

دوم

 ملک میں قانون کی بلِا تفریق عملداری قائم کرنا ریاست کی ترجیحات​ میں ہرگز شامل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ،

  • تیز ترین اور سستا انصاف فراہم کرنے کیلئے کماحقہ عدالتی اصلاحات نہیں کی گئیں۔
  • شہادتیں اکٹھی کرنے کا نظام مضبوط نہیں کیا گیا۔
  • گواہان کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات نہیں کئے گئے۔
  • قوانین میں موجود نقائص رفع کرکے انہیں جدید دور سے ہم آہنگ کرنے کیلیے مناسب قانون سازی نہیں کی گئی۔
جس کا فطری نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے کہ ایک تحفظِ ناموس رسالت کا قانون (پاکستان پینل کورٹ، آرٹیکل 295C) ہی کیا، کسی بھی قانون پر اُس کی روح کے مطابق عملدرآمد نہیں ہو رہا۔
 .

سوم

ذاتی رنجش کے نتیجے میں مخالفین پر توہینِ رسالت و مذہب و قرآن کا جھوٹا الزام لگانا اور تحفظ ناموس رسالت کے قانون کا غلط استعمال کرنا بھی عام ہوچکا ہے۔ عدالتوں میں ایسے درجنوں کیسز آج بھی چل رہے ہیں جو میڈیا کی زینت نہیں بنتے۔

رہا یہ الزام کہ ریاست پچھلی کئی دہائیوں سے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے قانون پر عملدرآمد کے حوالے سے امتیازی رویہ اپنائے ہوئے ہے تو اُس پر یقین کرنا مشکل معلوم ہوتا ہے۔ کیوں؟ اِس کیوں کا جواب جاننے کیلئے ہمیں پچھلی دو دہائیوں میں لگائی گئی ’’عوامی شرعی عدالتوں‘‘ اور توہینِ رسالت و مذہب​ و قرآن کے چیدہ چیدہ کیسز کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈالنی پڑے گی۔
.
  • گل مسیح فیصل آباد میں رہتا تھا۔ اِس کا اپنے ہمسائے سجاد حسین کے ساتھ گلی میں لگا پانی کا نل ٹھیک کرانے پر جھگڑا ہوگیا۔ سجاد حسین نے گل مسیح پر فوراً توہین رسالت کا مقدمہ درج کروا دیا۔ پولیس نے گل مسیح کو گرفتار کرکے عدالت کے روبرو پیش کردیا جہاں گل مسیح کے خلاف عدالت کو ایک گواہ بھی نہ ملا۔ عدالت نے بغیر کسی گواہ کے، صرف مدعی سجاد حسین کے بیان پر گل مسیح کو 1992ء میں سزائے موت سنا دی۔ گل مسیح پر جیل میں ماورائے عدالت تشدد بھی کیا گیا۔ اُسے اعلیٰ عدالت سے عدم ثبوت کی بناء پر رہائی ملی تو وہ اِسی ’’عوامی شرعی عدالت‘‘ کے خوف سے جرمنی بھاگ گیا۔
  • چاند برکت کراچی کے ایک بازار میں چوڑیاں بیچتا تھا۔ سن 1993ء میں اُس کے ایک ساتھی (جو اُسی بازار میں چوڑیوں کا کاروبار کرتا تھا) نے اُس پر توہین رسالت کا الزام لگا دیا۔ الزام کی بنیاد پر چاند برکت کو فوراً گرفتار کرکے مقدمہ چلایا گیا۔ عدالت میں بے گناہ ثابت ہوا تو رہا کردیا گیا۔ ’’عوامی شرعی عدالت‘‘ کے خوف سے وہ کراچی سے بھاگ نکلا۔
  • حافظ فاروق سجاد گوجرانوالہ کا رہائشی تھا۔ 1994ء میں اُس پر قرآن مجید کے مقدس اوراق جلانے کا الزام لگا۔ پولیس نے اُسے عدالت میں پیش کرنے کے لئے گرفتار کیا مگر ’’عوامی شرعی عدالت‘‘ پہلے ہی لگ چکی تھی اور حافظ فاروق سجاد کو سزائے موت سنا چکی تھی لہذا عوامی فوج (ہجوم) آئی، پولیس کسٹڈی سے حافظ فاروق سجاد کا زندہ جسم بزور طاقت چھینا اور اُسے چند منٹوں میں ایک مردے میں تبدیل کردیا۔
  • سنہ 2003ء میں سیموئل مسیح پر توہین مذہب کا الزام لگا، پولیس نے گرفتار کرلیا۔ کیس چلنا شروع ہوا تو وہ بیمار ہوگیا۔ اُسے پولیس کسٹڈی میں گلاب دیوی اسپتال داخل کرایا گیا جہاں ڈیوٹی پر موجود پولیس کے جوان نے ہتھوڑے کے وار کر کر اُسے ختم کردیا۔ یہ عوامی نہیں، ’’انفرادی شرعی عدالت‘‘ کا فیصلہ تھا۔
  • اپریل 2008ء میں 25 سالہ جگدیش کمار کو کراچی کی ایک فیکٹری میں تشدد کرکے صرف اِس لئے مار دیا گیا کہ اُس پر توہین مذہب کا شُبہ تھا۔
  • جنوری 2011ء میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو سیکیورٹی گارڈ ممتاز قادری نے گولیوں سے بھون دیا۔
  • سنہ 2012ء میں بہاولپور پولیس نے توہین مذہب کے جرم میں ایک شہری کو گرفتار کیا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُس کا ذہنی توازن درست نہ تھا۔ ’’عوامی شرعی عدالت‘‘ لگی اور پھر ہجوم نے اُس شخص کو پولیس سے چھین کر زندہ جلا دیا، دوبارہ پڑھیں، زندہ جلا دیا۔
  • سنہ 2012ء ہی میں راجو دیرو (سندھ) کے ایک تھانہ میں 35 سالہ شخص کو توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا مگر یہ گرفتاری ’’عوامی شرعی عدالت‘‘ کو گوارا نہ تھی، لہذا ایک ہزار لوگوں نے تھانے پر دھاوا بول دیا۔ بندہ پکڑا، مار مار کر اُس کی جان نکال دی اور لاش کو جلا کر راکھ بنا دیا۔
  • مارچ 2013ء میں لاڑکانہ میں واقع ایک مندر کو اِس وجہ سے آگ لگا دی گئی کہ ایک ہندو پر توہین مذہب کا الزام تھا۔
  • مارچ 2013ء میں ہی جوزف کالونی لاہور کے رہائشی ساون مسیح پر توہین رسالت و توہین مذہب کا الزام لگا تو ’’عوامی شرعی عدالت‘‘ نے فیصلہ سنایا کہ 3 ہزار لوگ اکٹھے ہوں اور جوزف کالونی کے 120 گھر جلا دیں۔ اِس حکم پر حرف بحرف عملدرآمد ہوا۔
  • سنہ 2014ء میں ’’عوامی پولیس‘‘ نے کوٹ رادھا کشن کے رہنے والے میاں بیوی شمع اور شہزاد کو توہین مذہب کے الزام میں ’’عوامی شرعی عدالت‘‘ کے حکم پر زندہ جلا دیا۔
  • اپریل 2017ء میں ’’عوامی شرعی عدالت‘‘ ایک یونیورسٹی میں لگی جہاں توہین رسالت و توہین مذہب کے ملزم کو دروازے توڑ کر پکڑا گیا، بد ترین غیر انسانی تشدد کیا گیا، سر پر گولیاں ماری گئیں، پھر ملزم کی لاش کو دوسری منزل سے نیچے پھینکا گیا، قانون نافذ کرنے والی عوام لاش کے پیچھے زمین پر پہنچی، لاش کو ننگا کیا اور پھر جوتے، ڈنڈے پتھر برسائے گئے اور ساتھ ویڈیو بنائی۔
.
راقم نے خود توہینِ رسالت کے ایک کیس کی عدالتی کارروائی دیکھی۔ جج ایسے کیسز میں شدید دباؤ کا شکار ہوتے ہیں (خصوصاً سیشن کورٹ وغیرہ میں) جس کے باعث اُن کے لئے تقاضہِ انصاف کو پورا کرنا تقریباً ناممکن ہوجاتا ہے۔ اِس پر مستزاد یہ کہ توہینِ رسالت کیس کے مدعی ہر پیشی پر دین دار لوگوں کا ایک جتھا لے کر پہنچتے ہیں اور ایک عام تاثر پایا جاتا ہے کہ جو جج ملزم کو بری کرے وہ بھی بالواسطہ توہین رسالت و مذہب کا مرتکب سمجھا جائے گا یا کم از کم حُبِ رسول ﷺ سے عاری ضرور گردانا جائے گا۔ حد تو یہ ہے کہ ایسے کیسز میں ملزم کی طرف سے پیروی بھی کوئی دبنگ وکیل ہی کرسکتا ہے، عام وکیل کی یہ مجال کہاں۔
یہی وجہ ہے کہ عموماً سیشن کورٹ ملزم کو عوامی دباؤ کے زیرِِ اثر سزا سنا دیتی ہے لیکن وہ ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ سے رہائی پالیتا ہے جہاں عوامی دباؤ نسبتاً کم لیا جاتا ہے البتہ اگر کیس میڈیا کی نظرِ کرم سے شہرت حاصل کرلے تو یہاں سے بھی رہائی کے امکانات معدوم ہوجاتے ہیں۔
ایک شخص اکیلا تھانے جا کر ایس ایچ او کو کسی کے خلاف توہین رسالت، توہین مذہب یا توہین قرآن کی ایف آئی آر درج کرنے کو کہے تو تھانے کا سربراہ انکار کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ وہ جانتا ہے کہ یہ انکار شاتمِ رسول کی اعانت سمجھا جائے گا اور لوگ آکر تھانے کو آگ لگا دیں گے جس میں جل کر وہ خود بھی بھسم ہوسکتا ہے۔
ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ملزم کی گرفتاری اور تفتیش کا آغاز کرنے میں پولیس کبھی دیر نہیں کرتی کیونکہ مدعیان فوراً ملزم کو پابندِ سلاسل دیکھنا چاہتے ہیں۔
ثبوت ہوں نہ ہوں، زیریں عدالتوں سے عموماً ملزم کو ضمانت یا بریت نہیں ملتی۔ اعلیٰ عدالتوں میں بالعموم انصاف مل جاتا ہے جس کا سبب عموماً شہادتوں کی عدم دستیابی ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ شہادتیں کیوں نہیں مل پاتیں؟ ایسے کیسز میں تو گواہان کو کوئی خطرہ بھی لاحق نہیں ہوتا بلکہ مدعیان اور اُن کے سرپرستوں کی بھرپور حمایت حاصل ہوتی ہے، پھر بھی عدم شہادت کی بناء پر ملزمان بری کیوں ہوجاتے ہیں؟
وجہ یہ ہے کہ اکثریت کیسز میں توہین رسالت و مذہب کا الزام جھوٹا ہوتا ہے جو ثابت نہیں ہوپاتا اور ملزمان بری ہو کر بقیہ زندگی ’’عوامی شرعی عدالت‘‘ سے چُھپ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
 ملزم کی بریت مدعی پر جھوٹا الزام لگانے کا جرم ثابت کردیتی ہے مگر مدعی جرم ثابت ہونے پر بھی آزاد گھومتا ہے، حکومت و عدلیہ کو سیکولر اور دین کا دشمن ہونے کے طعنے دیتا ہے اور قانون کو ہاتھ میں لینے کا جواز بھی گھڑلیتا ہے۔
.
  • کیا ریاست توہین رسالت کی ایف آئی آر درج کرنے میں روڑے اٹکاتی ہے؟
  • کیا ریاست نے توہین رسالت کے ملزمان کو گرفتار کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے؟
  • کیا ریاست توہین رسالت کے کیسز میں ملزمان کو بری کرنے کے لئےعدلیہ کو زدوکوب کرتی ہے؟
  • اگر ایسا ہے تو اس کے ثبوت پیش کیجئے۔
  • اگر ایسا نہیں تو خدارا توہینِ رسالت کے قانون کی عملداری پر حکومت کو امتیازی رویے کا دوش نہ دیجئے کیونکہ یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنیاد پر اہل مذہب ’’عوامی شرعی عدالت‘‘ لگانے کا جواز کشید کرتے ہیں اور اپنے پیروکاروں کو پلاتے ہیں۔
اب بات کرتے ہیں کچھ استثنائی صورتوں کی۔ جب ہائی پروفائل لوگ توہین رسالت کے مرتکب ہوتے ہیں تو اُن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنا مشکل ہوتا ہے، جیسے سلمان تاثیر کے خلاف توہین رسالت کی ایف آئی آر درج ہونا ناممکن تھا لیکن عام عوام کے خلاف باآسانی ہوجاتی ہے۔ اِسی طرح آسیہ بی بی کو بچانے کے لئے سلمان تاثیر نے کوشش کی مگر ایسی کوشش آج تک کتنے حکمرانوں نے کی؟
یہ اور اِس جیسے چند واقعات کی بنیاد پر اہلِ مذہب کی جانب سے یہ گمراہ کُن بیانیہ ترتیب دیا جانا اور اُس کی تشہیر کرنا کس قدر مبالغہ ہے کہ حکومت توہین رسالت پر غیر حساس ہے۔
مانا کہ حکومتِ وقت آسیہ بی بی پر عالمی دباؤ قبول کرتی نظر آتی رہی تھی۔ لیکن کیا حکومت نے ریمنڈ ڈیوس پر عالمی دباؤ قبول نہیں کیا تھا؟ غلام ملکوں کی بکاؤ حکومتیں عالمی طاقتوں کا دباؤ قبول کیا کرتی ہیں مگر یہ کہنا صریحاً غلط ہوگا کہ ریاست صرف توہینِ رسالت کے مجرموں پر عالمی دباؤ قبول کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کسی بھی قانون پر بلا تفریق عملدرآمد نہیں کیا جاتا، خواہ وہ کرپشن کے خلاف قوانین ہوں یا توہین رسالت و مذہب کے خلاف۔
اب ہم آپ کو پاکستان پینل کورٹ کے آرٹیکل 295C سے متعارف کرواتے ہیں جس کی چار شقیں ہیں۔
.
  • توہین مذہب کی نیت سے قصداً کسی مذہب کی عمارت کو نقصان پہنچانا (یہ تمام مذاہب کی لئے ہے، کسی ایک مذہب کی لئے مخصوص نہیں)۔ دو سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں۔
  • اپنے الفاظ یا عمل سے قصداً کسی مذہب کے عقائد کی توہین و تذلیل کرنا (یہ بھی تمام مذاہب کی لئے ہے، کسی ایک مذہب کیلئے مخصوص نہیں)۔ دس سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں۔
  • قرآن مجید یا اُس کے مقدس اوراق کی قصداً توہین کرنا۔ سزا عمر قید
  • رسول پاک ﷺ کی ذاتِ اقدس کی براہِ راست یا بالواسطہ قصداً​ توہین کرنا۔ سزائے موت یا عمر قید۔
اِس آرٹیکل پر عملدرآمد تمام مذاہب، مذہبی عقائد، مذہبی عمارات، قرآن مجید اور رسول پاک ﷺ کی ناموس کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے مگر جھوٹا الزام لگانے والے کی بیخ کنی کرنے سے قاصر ہے۔ اسلامی شریعت کی رو سے زنا کا الزام لگانے والے پر لازم ہوتا ہے کہ وہ الزام ثابت کرے ورنہ اسے 80 کوڑے مارنے کا حکم ہے۔ کیا توہین رسالت ﷺ کا جھوٹا الزام لگا کر کسی مسلم یا غیر مسلم کی پوری زندگی برباد کرنے والے کے لئے کوئی سزا نہیں؟
علماء آرٹیکل 295C میں ایک پانچویں شِق کے اضافے کے لئے آواز کیوں نہیں اٹھاتے کہ جھوٹا الزام لگانے والے کے لئے بھی وہی سزا ہو جو اُس کے لگائے گئے الزام کیلئے مقرر ہے؟ تاکہ آئندہ لوگ اِس قانون کے غلط استعمال سے پہلے ہزار بار سوچیں کہ اگر توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگایا اور ثابت نہ ہوا تو مجھے سزائے موت ہوجائے گی۔ توہینِ قرآن کا جھوٹا الزام لگایا تو مجھے عمر قید ہوجائے گی۔
علماء، شریعت کے اِس قانون کا پرچار کیوں نہیں کرتے کہ ’’سو مجرم سزا سے بچ جائیں یہ گوارا ہے لیکن ایک بے گناہ کو سزا نہیں ملنی چاہیئے۔‘‘
اب ہم اِس مسئلے کے حل کی طرف آتے ہیں۔
کیا قانون ہاتھ میں لینے والوں کو تختہ دار پر لٹکانے سے مستقبل میں ’’عوامی شرعی عدالتیں‘‘ لگنا بند ہوجائیں گی؟
نہیں ایسا نہیں ہوگا کیونکہ سانحہ جوزف کالونی کے پانچ مجرموں کو برسوں قبل سزائے موت سنائی جاچکی ہے مگر رواں ماہ مشال خان دوبارہ ’’عوامی شرعی عدالت‘‘ کی بھینٹ چڑھ چکا ہے اور یہ آئندہ بھی یونہی ہوتا رہے گا جیسے پچھلے 20 سال سے ہو رہا ہے۔
اِس کا مستقل اور پائیدار حل اُسی وقت ممکن ہے جب ریاست، عوام، اہل مذہب اور عدلیہ مل کر کوشش کریں اور اِس حوالے سے اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔
.

ریاست

  • تحفظ ناموسِ رسالت کے قانون پر عملدرآمد کے حوالے سے امتیازی سلوک کے الزام میں اگر کوئی صداقت ہے تو عوام الناس اور مذہبی طبقات کو اعتماد میں لے کر ریاست ثابت کرے کہ وہ ناموس رسالت​ ﷺ کی حفاظت میں سنجیدہ ہے اور اِس حوالے سے کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور نہ ہی اندرونی و بیرونی دباؤ قبول کیا جائے گا۔
  • مناسب قانون سازی کے ذریعے آرٹیکل 295C کے غلط استعمال کی روک تھام اس طرح کرے کہ آرٹیکل 295C کی روح بھی برقرار رہے اور توہین رسالت، توہین مذہب و توہین قرآن کا کوئی نیا راستہ بھی نہ کُھلنے پائے۔
  • عدالتی اصلاحات میں عدلیہ کی معاونت کرے۔

.

عدلیہ

  • عدالتی اصلاحات جلد از جلد نافذ کرے۔
  • آئین و قانون کی روشنی میں فیصلے کرتے وقت کسی قسم کا دباؤ قبول نہ کرے۔

.

علماء دین

  • ریاست کے بارے میں قانون تحفظ ناموس رسالت پر بدگمانی دور کریں۔
  • ’’عوامی شرعی عدالتوں‘‘ کی شرعی حیثیت پر مشترکہ فتویٰ دیں اور ایک بیانیہ ترتیب دیں کہ یہ حرام اور گناہ ہے اور یہ کہ ایسا کرنا اُسی نبی ﷺ کی تعلیمات کے منافی ہے جس کی محبت میں یہ ظلم ڈھایا جاتا ہے۔ اِس حوالے سے چند ایک علماء کی طرف سے مذمت آنا ناکافی ہے۔ ایسا کرنے سے ’’عوامی شرعی عدالتیں‘‘ لگانے والوں سے نظریاتی اساس چِھن جائے گی۔
  • اگر ریاست کسی شاتمِ رسول کی پشت پناہی کر رہی ہے تو ملزم پر گرفت ڈالنے اور قانون ہاتھ میں لینے کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے احتجاج کے ذریعے حکومت کو مجبور کریں۔ ایسا کرنے سے بغیر تنقید کی زد میں آئے اور بغیر ظلم ڈھائے، گستاخ کو انجام تک بھی پہنچایا جاسکتا ہے اور معاشرے کے حساسیت بھی بڑھائی جاسکتی ہے۔
(نوٹ: جو احتجاج ممتاز قادری صاحب کو پھانسی دینے پر کیا گیا، اُس سے بڑا احتجاج کرکے سلمان تاثیر پر مقدمہ درج کرنے، اُسے عہدے سے ہٹانے، اُس کے خلاف جوڈیشل کمیشن بنانے اور شفاف تحقیقات شروع کروانے پر حکومت کو مجبور کیا جاسکتا تھا۔ ایسے احتجاج کو کوریج بھی ملتی اور اگر حکومت ضد کرتی تو اقتدار سے محروم بھی ہوسکتی تھی)

 .

عوام

  • قانون کو ہاتھ میں لینے سے ہر صورت گریز کریں۔
  • ایسے علماء کے بیانیے کو مسترد کردیں جو قانون ہاتھ میں لینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
  • توہین رسالت و توہین مذہب پر ردعمل دینا ایمان کا حصہ ہے لیکن اِس کے ساتھ ساتھ اتباعِ رسالت اور اتباعِ دین بھی اپنے اندر پیدا کریں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔
نعمان الحق

نعمان الحق

بلاگر سوشل میڈیا سے رغبت نہیں رکھتے جب کہ پیشے کے لحاظ سے الیکٹریکل انجنئیر ہیں۔ آپ اُن سے بذریعہ ای میل بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔ [email protected]

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔