مشال قتل کے مر کزی ملزم کا اعتراف

ملک میں توہین رسالت اور توہین مذاہب کے حوالے سے واضح اور دو ٹوک قوانین موجود ہیں


Editorial April 19, 2017
ملک میں توہین رسالت اور توہین مذاہب کے حوالے سے واضح اور دو ٹوک قوانین موجود ہیں ۔ فوٹو: فائل

چند روز پیشتر صوبہ خیبرپختون خوا کی عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں جو افسوس ناک واقعہ رونما ہوا،اس کی مزید تفصیلات سامنے آرہی ہیں۔ طالبعلم مشال خان کے قتل کے مرکزی ملزم وجاہت نے مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ کام کرنے کے لیے انتظامیہ نے کہا تھا اور میں نے طلباء کو احتجاج پر اکسایا۔ درس گاہیں معاشرے میں علم ، شعور اورآگہی پھیلانے کا منبع ہوتی ہیں لیکن جو سانحہ رونما ہوا ، اس کی کسی بھی طور حمایت نہیں کی جاسکتی، ایسا محسوس ہورہا ہے کہ یہ مادر علمی نہیں بلکہ مقتل ہے۔

یہاں پر جو بات سامنے آئی ہے،اس کے مطابق اس سارے واقعے میں بہت زیادہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے تحقیقاتی کمیٹی بنائی تھی وہ بہت دیر بعد بنی، یہ انکوائری مشال خان کے قتل سے چند گھنٹے قبل شروع کی گئی اور اس معاملے میں مقتول کو صفائی کا موقع ہی نہیں ملا۔دوسری جانب آئی جی پولیس خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ اب تک کی تحقیقات کے دوران مشال خان اور اس کے ساتھیوں کی جانب سے نازیبا کلمات کے استعمال کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔ مندرجہ بالا بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ کوتاہی کی گئی جس کے نتیجے میں یہ افسوس ناک سانحہ نمودار ہوا۔ پہلی ذمے داری تو یونیورسٹی انتظامیہ ہی پر عائد ہوتی ہے ، جس نے اس انتہائی حساس معاملے کو نظراندازکیا ،بلکہ الٹا انتظامیہ کے لوگ بھی ملوث پائے گئے ۔

ملک میں توہین رسالت اور توہین مذاہب کے حوالے سے واضح اور دو ٹوک قوانین موجود ہیں اور ان پر سخت سزائیں بھی مقرر ہیں تو پھر قانون کو ہاتھ میں لینا اور کسی کو قتل کرنا کیا اس امرکی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست کی رٹ ناپید ہے اور لوگوں میں جرم کے بعد سزا کا خوف باقی نہیں ہے ۔ جن قوموں میں قانون کا احترام ختم ہوجائے اور وہ قانون کو روند ڈالیں تو وہ تباہ وبرباد ہوجاتی ہیں، تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے درست کہا کہ جنگل کا قانون نہیں چلنے دیں گے ۔ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے ۔ یہ معاملہ اب سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے بعد زیرسماعت ہے ، حرف آخر ایسے واقعات کو دوبارہ ہونے سے روکنا ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے ۔