کرپشن اور سیاست دان

سیاست کو بدکرداری اور کرپشن کا ذریعہ بنانے والے سیاست اور جمہوریت دونوں کے دشمن ہیں


Zaheer Akhter Bedari April 20, 2017
[email protected]

KARACHI: ہمارے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے واہ کینٹ کے بلدیاتی نمایندوں، مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور علاقائی قائدین سے خطاب کرتے ہوئے یہ بڑی دلچسپ بات کی ہے کہ سیاست کو کرپشن کا ذریعہ بتانے والے ''جمہوریت کے لیے زہر قاتل'' ہیں، انھوں نے کہاکہ عوام سچ اور جھوٹ، ثابت قدمی، مفاد پرستی، سیاست اور تجارت کرنے والوں کے درمیان تفریق کریں۔

سیاست کو بدکرداری اور کرپشن کا ذریعہ بنانے والے سیاست اور جمہوریت دونوں کے دشمن ہیں۔ ایسے لوگ نہ تو کسی سیاسی پارٹی سے وفا کرسکتے ہیں اور نہ ہی کسی اصول یا عوامی مفاد پر کھڑے ہوسکتے ہیں۔ گزشتہ 10 سال سے آنے والی حکومتوں نے مسائل کے انبار چھوڑے ہیں، کسی مسئلے کو حل کرنا تو درکنار ان پر سرے سے توجہ دینا بھی ضروری نہ سمجھا۔ انھوں نے کہاکہ بد قسمتی سے چند سیاسی رہنما اور پارٹیاں سیاست کے نام پر عوام کو بے وقوف بنانے کی روش پر چل نکلی ہیں، نا اہلی، کرپشن اور ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے سیاست اور سیاسی اثرورسوخ کو ڈھال بنائے ہوئے ہیں، اپنے دور اقتدار میں جن کو عوامی فلاح و بہبود کی ایک اینٹ بھی رکھنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ وہ دشنام طرازی، بداخلاتی اور جھوٹ کا سہارا لے کر عوام کی خدمت کرنے والوں کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کررہے ہیں۔

ہمارے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ایک صاف گو سیاست دان کہلاتے ہیں وہ لگی لپٹی کے بغیر سچ بات کہنے کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ واہ کینٹ میں موصوف نے جو کچھ کہا ہے وہ لفظ بہ لفظ سچ ہے لیکن وہ یہ ہیں کہ سیاست کو کرپشن، بد کرداری کا ذریعہ بنانے والے، سیاست کو تجارت بنانے والے سیاست کے نام پر عوام کو بے وقوف بنانے والے کون ہیں؟ 10 سال سے عوامی مسائل کے انبار لگانے والے کون ہیں؟

چوہدری نثار مرکزی وزیر داخلہ اور مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما ہیں وہ جب سیاست دانوں پر ایسے سنگین الزامات لگاتے ہیں تو اس کی اہمیت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ سابق حکومت کے پانچ سالہ دور کو کرپشن کا دور کہا جاتا ہے۔ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے دو سابق وزرائے اعظم پر بھی کرپشن کے سنگین الزامات کے تحت عدلیہ میں ریفرنس داخل ہیں۔ خود موجودہ حکومت کے خلاف بھی کرپشن کے الزامات لگتے رہتے ہیں۔ وزیر اعظم کے خاندان کے خلاف پاناما کیسز عدالت عالیہ میں زیر سماعت ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ نے اس حوالے سے فیصلہ محفوظ کرلیا اور امکان ہے کہ ہمارے اس کالم کی اشاعت تک فیصلہ سنا دیا جائے۔ بلوچستان کے ایک بیوروکریٹ کے گھر سے کروڑوں روپے کی کرنسی برآمد ہوئی ہے۔

اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ ان تمام کیسز کی شنوائی کی کوئی مدت متعین نہیں ہے ۔ یہ ہوسکتا ہے کہ جن زعما پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں ان میں وہ بے گناہ ہوں لیکن میڈیا میں بڑی بڑی سرخیوں کے ساتھ کرپشن کے اسکینڈلزکی اشاعت کی وجہ سے ان اکابرین کی بدنامی ہورہی ہے ۔ جس کے ازالے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ کرپشن کے الزامات میں ملوث سیاست دانوں کے کیسز کے فیصلے بلا تاخیر غیر جانبدارانہ طریقے سے سنا دیے جائیں تاکہ دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے اور اگر کسی سیاست دان پر کرپشن کے غلط الزامات لگے ہوں تو ملوث سیاست دان ان الزامات سے بری ہوجائیں۔ میڈیا میں بڑی بڑی سرخیوں کے ساتھ سیاست دانوں کے خلاف کرپشن کی خبریں لگتی ہیں تو نہ صرف سیاست دان بدنام ہوجاتے ہیں بلکہ سیاست بھی ایک گالی بن جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے قانون اور انصاف کا نظام اس قدر سست رفتار ہے کہ دادا کا کیس پوتوں تک دراز ہوجاتا ہے، اس صورت حال سے نکلنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ سیاست دانوں کے خلاف دائر کیسز کا فیصلہ ایک معینہ مدت کے اندر اندر کردیا جائے۔

پاناما اسکینڈل کی اس قدر پبلسٹی ہوچکی ہے کہ اس حوالے سے اس ملک کے 20 کروڑ عوام کے ذہنوں میں فیصلہ محفوظ ہوگیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک معزز جج صاحب نے فرمایا ہے کہ ''ہم پاناما کیس کا فیصلہ ایسا کریںگے کہ عوام صدیوں تک اسے یاد رکھیںگے'' اس ریمارکس سے نہ صرف پاناما کیس کی اہمیت کا اندازہ ہوسکتا ہے بلکہ اس کے ممکنہ فیصلے سے عوام کی یہ امیدیں وابستہ ہوگئی ہیں کہ پاناما اسکینڈل کا فیصلہ سیاسی دباؤ سے آزاد مکمل طور پر غیر جانبدارانہ اور آزادانہ ہوگا۔ اب پاناما کیس ایک ٹیسٹ کیس ہے ۔

کرپشن سرمایہ دارانہ نظام کے جسم میں خون بن کر دوڑ رہی ہے ۔اس حوالے سے صرف پاکستان ہی بدنام نہیں بلکہ کئی ملک کرپشن کے حوالے سے بدنام ہیں پاناما اسکینڈلز میں ملوث کئی سربراہان مملکت استعفے دے چکے ہیں۔ جنوبی کوریا کی صدر کو کرپشن کے الزامات میں برطرف کردیا گیا ہے، کرپشن کے الزامات میں خواہ کتنے ہی سخت اور منصفانہ فیصلے کیے جائیں دنیا سے کرپشن اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی جب تک اس حوالے سے اس کی بنیادوں کو نہیں ڈھادیا جاتا۔

جیسے کہ ہم نے نشان دہی کردی ہے سرمایہ دارانہ نظام معیشت کے جسم میں کرپشن خون بن کر دوڑ رہی ہے اس کا واحد حل اس نظام کی ''نس بندی'' ہے اور یہ نس بندی صرف نجی ملکیت کو محدود کرکے ہی کی جاسکتی ہے جب تک نجی ملکیت کا حق لا محدود ہوگا کسی کا باپ بھی کرپشن کو نہیں روک سکتا۔ سوشلسٹ معیشت میں نجی ملکیت کے حق کو محدود کرنے سے کرپشن کو ختم کیا گیا تھا لیکن بے انتہا طاقت ور اس نظام نے سوشلسٹ معیشت کا نظام ہی ختم کرا دیا۔ یہ ایک ایسا مرض ہے جس کا واحد علاج نجی ملکیت کو محدود کرنا ہے اس کے علاوہ ہر علاج خانہ پری سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔

مقبول خبریں