خواتین کو 10 فی صد نمایندگی دینے کی صائب تجویز
اکیسویں صدی کی خواتین قومی ترقی کے ایک نئے دورانئے میں داخل ہورہی ہیں
FAISALABAD:
قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور نے خواتین کو10فیصد نمایندگی دینے سے متعلق ''انتخابی قوانین بل2014ء اور عوامی نمایندگی کے ترمیمی بل2016ء'' کی متفقہ طور پر منظوری دیدی، گزشتہ روزاجلاس چیئرمین میاں عبدالمنان کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی نے انتخابی قوانین کے ترمیمی بل2014ء کا تفصیلی جائزہ لیا اور اتفاق رائے سے پاس کر لیا۔ بل میں خواتین کو10فیصد نمایندگی دینے کی تجویز دی گئی جب کہ دونوں پیپلزپارٹی عذرا فضل پیچوہو نے پیش کیے تھے۔
اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہوگا کہ پاکستانی خواتین نے صحت، تعلیم، صحافت، فنون لطیفہ ، دفاع، سفارتکاری، آئی ٹی سمیت بنکاری، سماجی بہبود اور معاشی شعبوں میں اپنی انفرادیت اور اہلیت ثابت کی ہے، دنیا کے کئی ملکوں میں ہماری خواتین نے شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں، بہت سے شعبوں کی سربراہی بھی ان کے ذمے ہے،اکیسویں صدی کی خواتین قومی ترقی کے ایک نئے دورانئے میں داخل ہورہی ہیں جس کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستانی خواتین کو ہر قدم پر حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے جب کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں انھیں بھرپورنمایندگی دینا نہ صرف وقت کا اہم تقاضہ ہے بلکہ جمہوری عمل میں ان کے کردار ادا کرنے کے لیے قانون سازی کی مثبت اور تعمیری جمہوری سوچ بذات خود نسوانیت کے احترام کی عکاسی کرتی ہے۔
مزیدبراں مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کی قیادت ملک میں جمہوری استحکام کے ساتھ ساتھ قومی اقتصادی جدوجہد میں بھی خواتین کی صلاحیتوں سے استفادہ کر سکیں گی ، پارلیمنٹ میں نیا خون شامل ہوگا، نئی سوچ پیدا ہوگی ، اور اس دیہی و شہری خواتین کی شمولیت سے جمہوریت کو استحکام ملے گا۔