انسانی کھوپڑیوں کی شکل والے پھول

اسنیپ ڈریگن پودے یورپ اور امریکا میں مشہور ہیں جن کے پھول کی پنکھڑیاں انسانی کھوپڑی کی صورت اختیار کرلیتی ہیں


Web Desk April 27, 2017
اسنیپ ڈریگن پودے یورپ اور امریکا میں مشہور ہیں جن کے پھول کی پنکھڑیاں انسانی کھوپڑی کی صورت اختیار کرلیتی ہیں

امریکا، یورپ اورشمالی افریقا میں عام پائے جانے والے ایک پودے کے پھول کھِلنے کے بعد انسانی کھوپڑی جیسے دکھائی دیتے ہیں جنہیں دیکھ کر کوئی بھی اس بات کو تسلیم کرے گا کہ یہ انسانی کھوپڑی جیسے ہی ہیں۔



اس پودے کا نام اسنیپ ڈریگن یا ڈریگن فلاور ہے جو ایک اژدھے کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ جب اس پھول کی پتیاں خشک ہو کر جھڑ جاتی ہیں تو بیج کے خالی کھوکھے عجیب و غریب انسانی کھوپڑیوں جیسے دکھائے دیتے ہیں۔ یعنی پھول کھلے ہوں تو ایک مختلف روپ میں نظر آتے ہیں اور خشک ہونے پر انسانی کھوپڑی جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ کھوپڑی نما پھولوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی خاتون انہیں کھالے تو اس کی جوانی لوٹ آتی ہے جب کہ ان پھولوں کو گھر میں بکھیرنے سے بلائیں اور مصیبتیں ٹل جاتی ہیں۔



وکٹوریائی عہد میں اسنیپ ڈریگن پھول دھوکے، اسرار اور بدگمانی کی علامت تصور کیے جاتے رہے۔ اس کے علاوہ بعض شاہی خواتین انہیں اپنے لباس میں چھپاتی تھیں کیونکہ یہ انہیں پروقار بناسکتے تھے۔



لیکن یہ پھول آخر کیوں انسانی کھوپڑی کی شکل میں دکھائی دیتا ہے؟ ایک بایوکیمسٹ اور مصنف کا کہنا ہےکہ اسنیپ ڈریگن کے پھول دو طرفہ تشاکل (بائی لیٹرل سمٹری) جیسی شکل رکھتے ہیں۔ اس کی پتیاں جھڑنے کے بعد اندر کا کھوکھلا حصہ انسانی آنکھوں کے خالی ڈیلوں اور انسانی منہ جیسا دکھائی دیتا ہے۔


یہ تصاویر فوٹو شاپ نہیں جسے ویڈیوز میں بھی دیکھا جاسکتا ہے جب کہ قدرت میں ایسے پھول بھی موجود ہیں جوکھلتے وقت بندر کی مانند دکھائی دیتے ہیں۔