ایسی سلیکشن کمیٹی کا کیا فائدہ

کون ٹیم میں آئے گاکسے باہر ہونا ہے، یہ سب کچھ پہلے ہی میڈیا میں آ چکا تھا


Saleem Khaliq April 26, 2017
فواد عالم سے نجانے ارباب اختیار کو کیا مسئلہ ہے کہ موقع ہی نہیں دے رہے. فوٹو: فائل

RAWALPINDI: چیمپئنز ٹرافی کے 15 رکنی اسکواڈ کی آخرکار نقاب کشائی کر ہی دی گئی، دلچسپ بات یہ ہے کہ کون ٹیم میں آئے گاکسے باہر ہونا ہے، یہ سب کچھ پہلے ہی میڈیا میں آ چکا تھا، بس اب رسمی کارروائی مکمل کرنے کیلیے پریس ریلیزکا اجرا کیاگیا،میں حیران ہوتا ہوں کہ جو ٹیمیں ہم جیسے عام صحافیوں کو پہلے سے پتا ہوتی ہیں انھیں تشکیل دینے میں سلیکٹرز کئی کئی دن تک کیوں سر جوڑے بیٹھے رہتے ہیں، شاید انھیں ہر ماہ بورڈ کی جانب سے بطور تنخواہ ملنے والے کئی لاکھ روپے کے چیک کا حق اداکرنا ہوتا ہے، انضمام الحق کی زیرسربراہی ایک رکنی سلیکشن کمیٹی (دیگر ارکان محض خانہ پری کیلیے ہیں) نے اسکواڈ کا اعلان کرکے خود ہی اپنی غلطیوں کو تسلیم کرلیا، میرے جیسے کئی لوگ یہ کہہ کہہ کر تھک گئے کہ کامران اکمل کی واپسی کا کوئی فائدہ نہ ہو گا مگر سلیکٹرز35 سال کے ''نوجوان'' کو ایک اور موقع دینے کے حق میں تھے۔

انھوں نے کیسا پرفارم کیا وہ سب نے دیکھ لیا،وہ نہ صرف بیٹنگ میں ناکام رہے بلکہ بطور فیلڈر بھی کئی کیچز ڈراپ کیے،اب انھیں باہر کر کے غلطی تسلیم کرلی گئی، اسی طرح بیچارے اظہر علی کو آسٹریلیا میں شکست کے بعد قربانی کا بکرا بنا کر نہ صرف کپتانی سے ہٹایا گیا بلکہ ویسٹ انڈیز کیخلاف ون ڈے سیریز سے ڈراپ بھی کر دیا گیا، اب مشکل ایونٹ کیلیے ان کی یاد آ گئی، آسان میچز میں انھیں کھلا کر فارم بحال کرنے کا موقع دینا چاہیے تھا مگر ایسا نہ کیا گیا، اظہر انگلش کنڈیشنز میں کیسا پرفارم کریں گے اس پر سوالیہ نشان لگا ہے، سہیل خان کواس بار بھی توجہ کے قابل نہ سمجھا گیا، الگ پلیئرز کیلیے الگ پیمانے ہیں، کامران جیسے فیورٹ کو لانا ہو تو پی ایس ایل کی کارکردگی یاد آتی ہے۔

سہیل کو نہیں کھلانا تو لیگ سمیت ڈومیسٹک پرفارمنسز سے نظریںچرالی جاتی ہیں، عمر اکمل کو ناقص فٹنس پر ڈراپ کیا گیا، حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ اس دوران ڈومیسٹک میچز میں عمدہ پرفارم کرتے رہے جس سے سلیکٹرز کا دعویٰ غلط ثابت ہو گیا،اب اگر وہ چند روز میں اپنی فٹنس قومی ٹیم میںآنے کے قابل بنانے میں کامیاب رہے ہیں تو انھیں اس پر ایوارڈ سے نوازنا چاہیے،صاف ظاہر ہے کہ انھیں جان بوجھ کر آسان سیریز سے ڈراپ کیاگیا تھا،اب وہ کس بنیاد پر واپس آئے یہ کوئی نہیں بتائے گا، آصف ذاکر کے ساتھ بھی ناانصافیوں کا سلسلہ طویل ہوتا جا رہا ہے،چار روزہ فرسٹ کلاس کرکٹ ایونٹ قائد اعظم ٹرافی میں853 رنز بنا کر دوسرے نمبر پررہنے والے بیٹسمین کو محض خانہ پری کیلیے ون ڈے اسکواڈ میں لیا گیا، پھر ویسٹ انڈیز کی سیر کراکے واپس لے آئے اور اب گھر بٹھا دیا، یہ کہاں کا انصاف ہے۔

کیسے بغیر کھلائے کسی کی صلاحیتوں کا اندازہ لگا لیا گیا؟ فہیم اشرف اور فخر زمان بھی گزشتہ ون ڈے سیریز میں پانی پلاتے رہے، وہ خوش قسمت ہیں کہ اب انگلینڈ جانے کا موقع بھی مل گیا ہے، جب انضمام الحق میڈیا میں آ کر نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع دینے کے دعوے کرتے ہیں تو مجھے بڑی ہنسی آتی ہے، زیادہ دور نہیں جاتے ویسٹ انڈیز کے ٹور کی ہی بات کر لیتے ہیں، ون ڈے اسکواڈ میں آصف ذاکر، فہیم اشرف،محمد اصغر اور فخر زمان کو شامل کیاگیا، کتنے پلیئرز کو وہاں کھیلنے کا موقع ملا، ایک کو بھی نہیں، سلیکٹرز یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتے کہ پلیئنگ الیون بنانے کا اختیار ہمیں حاصل نہیں ہوتا، خاص طور پر انضمام جیسے بڑے نام سے یہ جواز سننا اچھا نہیں لگے گا۔

ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں شامل عثمان شنواری اور محمد نواز بھی کوئی میچ نہ کھیل سکے تھے، رومان رئیس کو صرف ایک بار ایکشن میں آنے کا موقع ملا، جب کھلانا ہی نہیں تو رسمی کارروائی کیلیے نوجوانوں کو بھیجتے ہی کیوں ہیں؟ اسی طرح کا ایک اور مذاق پاکستان کپ ہے، ایونٹ میں جوپلیئرز بہتر پرفارم کر رہے ہیں ان کے پاس اب کیا محرک رہ گیا،کیا کوئی ایک پلیئر بھی اس ٹورنامنٹ کی پرفارمنس پر منتخب ہوا؟ فواد عالم سے نجانے ارباب اختیار کو کیا مسئلہ ہے کہ موقع ہی نہیں دے رہے، عامر نے گوکہ جمیکا ٹیسٹ میں اچھا پرفارم کیا لیکن واپسی کے بعد ان کی مجموعی کارکردگی بہت اچھی قرار نہیں دی جا سکتی، وہاب ریاض بھی مسلسل ناکامی کا شکار ہیں، مگر سلیکٹرز انھیں ڈراپ کرنے کی ہمت نہیں کرتے،بہت سے لوگوں کو شاید میری بات پسند نہ آئے لیکن چیمپئنز ٹرافی میں ٹیم سے زیادہ توقعات نہ رکھیں، وہاں ویسٹ انڈیز جیسے حریفوں سے مقابلہ نہیں ہونا جس کے کئی کھلاڑی بورڈ سے لڑائی جبکہ دیگر آئی پی ایل کی وجہ سے باہر ہیں، ہمیں بھارت، جنوبی افریقہ اور سری لنکا سے ٹکرانا ہے۔

سیمی فائنل میں پہنچنا بہت بڑاکارنامہ ہو گا، زیادہ دورکیوں جائیں حال ہی میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا جیسے مشکل حریفوں سے میچز میں ٹیم کی کیا کارکردگی رہی تھی اسے بھولنا نہیں چاہیے، ایسا نہیں ہے کہ ملک میں ٹیلنٹ موجود نہیں،دراصل نوجوانوں کو صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ہی نہیں دیا جا رہا،پرانا پلیئر50 بھی کر دے تو کم بیک کیلیے کافی ہے نئے کھلاڑی کی ڈبل سنچری بھی نظر نہیں آتی۔

عوام کو بے وقوف بنانے کیلیے نوجوانوں کو منتخب تو کر لیا جاتا ہے مگر کھیلنے کا موقع نہیں ملتا، ارباب اختیار بھی اس جانب توجہ نہیں دیتے، ان کا کام بس اپنی کرسی کو مضبوط کرنا ہوتا ہے،شہریارخان اب استعفیٰ دے کر منظوری کے منتظر ہیں، مستقبل کے ''چیئرمین'' نجم سیٹھی کی کرکٹ معلومات سب ہی جانتے ہیں، اگر ہارون رشید جیسے ''زیرک'' مشیر نہ ہوں تو پھر اﷲ ہی حافظ ہے، ورلڈکپ، ورلڈٹی ٹوئنٹی میں ٹیم کا حشر نشر ہوا حکام کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اب خدانخواستہ اگر چیمپئنز ٹرافی میں بھی کارکردگی اچھی نہ رہی تب بھی کسی کو کیا فرق پڑے گا، نئے بہانے بنا کر جان چھڑالی جائے گی، خیر ہمیں بھی ٹینشن لینے کی کیا ضرورت ہے، فی الحال ٹیم ویسٹ انڈیز میں پہلا ٹیسٹ بھی جیت گئی ہے اس کا جشن منانا چاہیے۔