کنٹرول لائن پر مردم شماری بھارت سے رابطہ
پاکستان خطے کے عظیم تر مفاد میں پڑوسی ریاستوں سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے
پاک فوج نے بھارت سے ہاٹ لائن پر رابطہ کیا ہے، آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت کو کنٹرول لائن پر مردم شماری کے عملے کی سرگرمی سے آگاہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام کنٹرول لائن پر بھارتی افواج کی بلااشتعال فائرنگ کے واقعات کے تناظر میں قابل تحسین ہے کیونکہ فوج کی جانب سے مردم شماری کے عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بھارت سے پیشگی بات چیت بلااشتعال فائرنگ کے واقعات کی صورت میں مردم شماری عملے کو تحفظ فراہم کرے گی، نیز یہ اقدام کئی ہمہ جہتی مثبت پہلو رکھتا ہے۔
اس تناظر میں نہ صرف کنٹرول لائن کے قریب آبادیوں میں مردم شماری کا عمل بخوبی سرانجام پائے گا بلکہ فوج کی جانب سے بھارت سے پیشگی بات چیت کے بعد ان واقعات کا بھی سدباب ہوسکتا ہے جو کنٹرول لائن پر غلط فہمی کے باعث رونما ہوتے رہے ہیں۔ نیز اس جانب بھی توجہ دی جانی چاہیے کہ جس طرح مردم شماری کے لیے بھارت سے ہاٹ لائن پر رابطہ کیا گیا ہے اسی طرح دیگر معاملات کے لیے بھی بھارت کو متوجہ کیا جاسکتا ہے، خاص طور پر کنٹرول لائن پر بھارت کی جانب سے اکثر بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں عام پاکستانی شہری جاں بحق ہوجاتے ہیں۔
بلاشبہ یہ واقعات بھارت کی عاقبت نااندیشی اور بھارتی افواج کی لایعنی مہم جویانہ فطرت کے باعث پیش آتے ہیں جس کے مضر اثرات نہ صرف دونوں ریاستوں کے مابین تعلقات کی کشیدگی کا باعث بنتے ہیں بلکہ امن عمل کے لیے ہونے والے مذاکرات بھی سبوتاژ ہوتے ہیں، ایسے میں اگر بھارت سے ان واقعات کے سدباب کے لیے بات چیت کی جائے تو مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
اس امر میں کوئی کلام نہیں کہ پاکستان خطے کے عظیم تر مفاد میں پڑوسی ریاستوں سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے اور پاکستان کی جانب سے ہمیشہ مثبت اقدامات کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، کنٹرول لائن پر کشیدگی دونوں ریاستوں کے لیے ہی مضر اور امن و امان کے لیے خطرہ ہے۔ وہ وقت لد چکا جب تنازعات کا انتہائی فیصلہ جنگ پر ہوا کرتا تھا، اکیسویں صدی میں ریاستوں کو اپنے تنازعات کا فیصلہ مذاکرات کی میز پر کرنا ہی راست اقدام ہے۔
ایسے میں ہاٹ لائن پر ایک دوسرے سے رابطہ بحال رکھ کر جاری کشیدگی کو نہ صرف کم کیا جاسکتا ہے بلکہ مذاکرات کی بحالی کی جانب قدم بڑھایا جاسکتا ہے۔ فوج نے بھارت کے ساتھ مردم شماری کے عملے کے تحفظ کے لیے ہاٹ لائن پر رابطہ کرکے امید کی ایک کرن دکھائی ہے جس کی روشنی میں سفر کرکے بحالی تعلقات کا آغاز کیا جانا چاہیے۔ یہی وقت کا تقاضا ہے۔