ماضی کے گناہوں کا ازالہ

مزدور تحریک کی تاریخ میں بدقسمتی سے پیپلز پارٹی کا کردار انتہائی افسوس ناک رہا ہے۔


Zaheer Akhter Bedari April 27, 2017
[email protected]

پیپلز پارٹی کے مقبول نعروں میں سے ایک نعرہ ''مزدور کسان راج'' کا تھا۔ مزدورکسان راج تو گیا کھڈے میں، مزدوروں کے چھوٹے چھوٹے مطالبات بھی نہیں مانے گئے، اس کے برخلاف مزدوروں کو 1789 کے فرانس میں پہنچا دیا گیا۔ ٹھیکیداری نظام جدید پاکستان کی ایجاد ہے، اس نظام کے ذریعے مالکان نے سارے اختیارات ٹھیکیداروں کو دے دیے ہیں۔ مزدوروں کی تقرری، اجرتوں کا تعین، اوقات کار کا تعین سمیت مزدوروں کے تمام مسائل کو ٹھیکیداروں کے ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے۔

مالکان کا مزدوروں سے سوائے اس کے کوئی تعلق نہیں کہ مزدور مالکان کے لیے رات دن محنت کرکے پیداوار میں اضافہ کرتا رہے اس کے علاوہ مالکان سے مزدور کا کوئی تعلق نہیں۔ آج مزدوروں کے مسئلے پر قلم اٹھانے کا خیال اس لیے آیا کہ ایک مخلص مزدور رہنما لطیف مغل طویل بیماری کے بعد انتقال کرگئے۔ ریلوے مزدور یونین کے چیئرمین منظور رضی نے بتایا کہ لطیف مغل پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ہونے کے باوجود حکومت سے کسی قسم کی مراعات لینے کے روادار نہ تھے۔ انھوں نے پوری زندگی بلا کسی مراعات کے مزدوروں کی خدمت میں گزار دی۔

مزدور تحریک کی تاریخ میں بدقسمتی سے پیپلز پارٹی کا کردار انتہائی افسوس ناک رہا ہے۔ 1972 میں جب بھٹو صاحب برسر اقتدار آئے تو اس وقت ایوب خان اور یحییٰ خان کے بدترین دورکے ستائے ہوئے مزدور بہت مشتعل تھے۔ سائٹ میں متحدہ مزدور فیڈریشن اور لانڈھی کورنگی میں لیبر آرگنائزنگ کمیٹی مزدوروں کی غیر متنازعہ اور مقبول ترین تنظیمیں تھیں، ان تنظیموں کی قیادت اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں تھی۔ ہم اسی دور میں نیشنل عوامی پارٹی سے وابستہ تھے، پارٹی کی قیادت معروف رہنماؤں سی آر اسلم، مرزا ابراہیم، سردار شوکت قصورگردیزی جیسے معروف رہنما کر رہے تھے۔

کراچی میں ویسے تو پیشہ ورانہ ٹریڈ یونینوں کی بھرمار تھی لیکن نظریاتی ٹریڈ یونین کا فقدان تھا۔ لاہور میں ہونے والی پارٹی کی ایک میٹنگ میں مرزا ابراہیم نے تجویز پیش کی کہ کراچی میں ٹریڈ یونین کو منظم کرنے کی ذمے داری ہم کو دی جائے۔

مرزا ابراہیم کی اس تجویز کی اہل میٹنگ نے یک زبان ہوکر تائید کی یوں کراچی میں نظریاتی ٹریڈ یونین کی تشکیل کا کام شروع ہوا اس دور میں شریف خٹک اور شاہ رضا خان سے ہمارے تعلقات تھے جب ہم نے ان حضرات سے کراچی میں ترقی پسند ٹریڈ یونین کے قیام کا ذکر کیا تو شاہ رضا خان نے کہا کہ آپ کراچی گیس کمپنی چلیں، کراچی گیس کمپنی میں مضبوط یونین بھی ہے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ قیادت بھی ہے۔ یوں ہماری ملاقات کراچی گیس یونین کے رہنماؤں سے ہوئی۔ سارے دوست بہت کمٹڈ تھے پھر ہم نے متحدہ مزدور فیڈریشن قائم کی جس میں عثمان بلوچ کے علاوہ کنیز فاطمہ بھی شامل رہیں۔

1969 میں متحدہ مزدور فیڈریشن علاقے کی سب سے مقبول تنظیم بن کر ابھری۔ 1969 میں کئی کارخانوں میں ہڑتال جاری تھی مالکان پریشان تھے کراچی میں فوجی عدالتیں قائم تھیں ہمارے خلاف ایک فرضی مقدمہ بناکر ہم تمام دوستوں کو فوجی عدالت سے سزائیں دلائی گئیں۔ یحییٰ خان نے مزدوروں کو کچلنے کی پوری کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔

1972 میں جب بھٹو صاحب نے اقتدار سنبھالا تو مزدور بہت مشتعل تھے دوستوں نے یہ طے کیا کہ لانڈھی، کورنگی صنعتی ایریا میں مزدوروں کو منظم کیا جائے اتفاق سے 1968 میں ہم نے لانڈھی صنعتی ایریا میں مولانا بھاشانی کا ایک بہت بڑا جلسہ کروایا تھا سو ہم یہاں کے مزدوروں میں متعارف تھے چنانچہ ہمیں یہاں مزدوروں کو منظم کرنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئی، یوں لانڈھی کورنگی میں لیبر آرگنائزنگ کمیٹی کے نام سے ایک تنظیم قائم ہوئی جس کا جنرل سیکریٹری ہم کو بنایا گیا۔

اس تمہید کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ پاکستان کی تاریخ میں ٹریڈ یونین کا مکمل خاتمہ پیپلز پارٹی ہی کے دور میں 1973 میں کیا گیا۔ لانڈھی انڈسٹریل ایریا میں 1972 میں ہر طرف ہڑتالوں کا زور تھا ہم بھی چاہ رہے تھے کہ ہڑتالیں ختم ہوں سو اس حوالے سے اس وقت کے وزیر محنت ستار گبول سے ہماری بات چیت شروع ہوئی، مزدوروں کے مطالبات تقریباً مان لیے گئے ہم رات دو بجے ستار گبول کے مکان سے نکلے ، طے یہ ہوا کہ صبح اسمبلی میں ستار گبول کے دفتر میں فائنل میٹنگ ہوگی۔

ہم رات کو تین بجے سوئے صبح 9 بجے جب ہم ٹیکسی میں ستار گبول کے دفتر جانے کے لیے نکلے تو ٹیکسی ڈرائیور نے کہا کہ صاحب رات انڈسٹریل ایریا میں بہت بڑا پولیس ایکشن ہوا ہے بہت مزدور مارے گئے ہیں۔ سائٹ میں حال ہی میں ہونے والی فائرنگ کے بعد جس میں درجنوں مزدور مارے گئے تھے مزدوروں کے قتل کا یہ دوسرا بڑا واقعہ تھا۔ سیکڑوں مزدوروں اور مزدور رہنماؤں کو گرفتار کرکے لمبی لمبی سزائیں دی گئیں اس کے بعد ٹریڈ یونین مکمل طور پر ختم ہوگئی جو آج تک بحال نہیں ہوسکی۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے مزدور 1789 کے حالات سے گزر رہے ہیں۔ ٹھیکیداری نظام کسی وبا کی طرح مزدور علاقوں سے نکل کر وائٹ کالرز ملازمین تک پہنچ گیا ہے مالکان کا مزدوروں سے کوئی تعلق نہیں ہر کام ٹھیکیدار کر رہا ہے کوئی مزدور اگر ٹریڈ یونین کا نام لیتا ہے تو اسے گیٹ کے باہر کردیا جاتا ہے، کم سے کم اجرت کے قانون پر کوئی عمل نہیں ہو رہا ہے صنعتی علاقے ماضی کے غلام داری نظام کے علاقوں میں بدل گئے ہیں خود پیپلز لیبر بیورو کے رہنما اس ظلم کے خلاف چیخ رہے ہیں حبیب الدین جنیدی، شیخ مجید جیسے پیپلز پارٹی کے رہنما احتجاج کر رہے ہیں کیا سندھ کی حکومت ماضی کے گناہوں کا ازالہ کرے گی؟

مقبول خبریں