بھارت ریت میں سر نہ چھپائے

بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور سیکولر ازم کا بھانڈہ کسی اور ذریعہ نے نہیں بلکہ خود بھارتی میڈیا نے پھوڑ دیا ہے


Editorial April 28, 2017
۔ فوٹو : اے ایف پی

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت جس شدت سے جاری ہے اس کے رد عمل میں وادی میں طلبا کے پلوامہ، شوپیاں اور بانڈی پورہ میں بدھ کو زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مشتعل طلباء و طالبات نے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈگری کالج پلوامہ کے سیکڑوں طلبا نے کالج میں احتجاجی مظاہرہ کیا، انھوں نے کالج احاطے سے باہر آ کر قصبے کی سڑکوں پر جب مارچ کرنے کی کوشش کی تو علاقے میں تعینات بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے اس دوران آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی جس کے بعد طلباء اور فورسز اہلکاروں میں شدید جھڑپیں شروع ہوگئیں، متعدد طلباء زخمی ہوگئے، اسی طرح سرکاری ہائی اسکول شوپیاں کے طلبا نے بھی سڑکوں پر آ کر رواں ماہ کی 15 تاریخ کو بھارتی پولیس کی طرف سے ڈگری کالج پلوامہ کے طلباء پر وحشیانہ تشدد کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اب تو کشمیری خواتین نے ظلم کے خلاف پتھر ہاتھوں میں اٹھا لیے ہیں۔

بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور سیکولر ازم کا بھانڈہ کسی اور ذریعہ نے نہیں بلکہ خود بھارتی میڈیا نے پھوڑ دیا ہے۔ بھارت کے موقر روزنامہ ''انڈین ایکسپریس''نے اپنے تجزیہ میں کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس آیس) 1925ء میں قائم ہوئی لیکن اب تک بھارت تین بدترین ادوار سے گزرا ہے، پہلے تقسیم، پھر اندرا گاندھی کی ایمرجنسی اور آج مودی کی حکمرانی۔

اخبار نے اسے اپنے تجزیہ میں عرصۂ محشرکہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ بھارتی حکومت حق خود ارادیت کے وعدہ کی تکذیب اور کشمیریوں کے خون سے سیکولرازم کی ایک نئی خوں آشام داستان لکھنا چاہتی ہے، مگر مقبوضہ کشمیر کے وادی سے اٹھنے والے انقلاب کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی، دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت نے بھی عقل سے عاری فیصلہ کر کے خوب جگ ہنسائی کرائی ہے، کیونکہ وادی میں فیس بک، ٹوئٹر اور واٹس ایپ سمیت سوشل میڈیا کی 16 ویب سائٹس تک عوامی رسائی روکنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

دفترِ داخلہ نے ایک حکم نامے میں 1885ء میں برطانوی دور کے دوران بنائے گئے انڈین ٹیلی گراف ایکٹ کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ حکومت امن عامہ کے مفاد میں یہ اقدام اْٹھا رہی ہے۔ یہ پابندی کم از کم ایک ماہ کی مدت تک رہے گی۔ سرکاری اعلان کے مطابق کشمیریوں کو فیس بک، ٹوئٹر، واٹس ایپ، کیو کیو، وی چیٹ، کیوزون، ٹمبلر، گوگل پلس، بائیڈو، اسکائپ، وائبر، لائن، اسنیپ چیٹ، پنٹریسٹ، انسٹا گرام اور ریڈ اٹ تک رسائی نہیں ہو گی۔

یہ مضحکہ خیز حکم ایک ایسے وقت دیا گیا ہے جب سرینگر میں بھارتی فوج، نیم فوجی اداروں، خفیہ سروسز اور سول انتظامیہ کا ایک اعلیٰ اجلاس منعقد ہوا تھا جس کی صدارت ریاستی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کی تھی۔ انڈیا کی ریاست اترپردیش میں بی جے پی حکومت نے جمعۃ الوداع اور عیدمیلادالنبی سمیت 15 عام تعطیلات کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بات وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے دفتر کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹس میں سامنے آئی ہے۔

ایک ٹویٹ کے مطابق حکومت کا یہ فیصلہ رواں سال 2017ء سے ہی نافذالعمل ہو گا۔ منسوخ کی جانے والی عام تعطیلات میں جمعۃ الوداع، عیدمیلادالنبی ؐاور مہارشی بالمیکی جینتی جیسی اہم تعطیلات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ خواجہ معین الدین چشتی، چندر شیکھر، پرشورام، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور چوہدری چرن سنگھ کی یوم پیدائش پر ہونے والی تعطیلات کو بھی ختم کیا جا رہا ہے۔ بھارت میں ہندو انتہا پسند پاکستان مخالف سرگرمیوں سے باز نہ آئے، ہندو انتہا پسندوں نے اشتہار میں پاکستان کی جھلک نظر آنے پر سیٹ توڑ ڈالا۔

بھارتی گلوکار سونو نگھم کی لاؤڈ اسپیکر پر اذان سے متعلق ہرزہ سرائی سے مسلم کمیونٹی پہلے سے برہم ہے، سوال یہ ہے کہ مودی سرکار کنٹرول لائن کشیدگی، مقبوضہ کشمیر کی سلگتی ہوئی صورتحال اور دیرینہ مسائل کے حل سے کب تک چشم پوشی اور جمہوریت کا پھٹا ڈھول پیٹتے رہے گی ، بھارتی حکام ریت میں سر نہ چھپائیں، بھارت نے 39 ملکی اسلامی اتحاد کو ''مسلم نیٹو'' کہا ہے مگر بھارتی میڈیا نے اسی اتحاد کے قیام کو بھاری خارجہ پالیسی کی ناکامی سے تعبیر کیا ہے۔ کیا کہتے ہیں مودی سرکار کے بزرجمہر؟

پاکستان نے واضح طور پرکہا ہے کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اسے حل نہ کیا گیا تو یہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہوگا، ان خیالات کا اظہار پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بدھ کو روسی دارالحکومت ماسکو میں چھٹی بین الاقوامی سیکیورٹی کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ کانفرنس جمعرات کو بھی جاری رہی، ادھر پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر جین فرانکوئس کاٹن نے کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین تنازعات کا حل ہی خطے میں پائیدار استحکام لا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن بھی بہت ضروری ہے، یورپی یونین کے سفیر نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے بھی پاکستان میں سماجی شعبے کے انفرااسٹرکچر میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی لیکن کامیابی کے لیے امن بنیادی شرط ہے ،اور خطے میں امن،استحکام اور کثیر جہتی خوشحالی کے لیے ضروری ہے کشمیر کا مسئلہ حل ہو۔