کشمیر کے 70 ہزار شہید عوام

پاکستان بھی ایک عرصے سے مقبوضہ کشمیر میں رسائی مانگ رہا ہے


Zaheer Akhter Bedari April 28, 2017
[email protected]

ISLAMABAD: بھارتی فوجوں کی طرف سے احتجاج کرنے والے طلبا پر تشدد کے خلاف کشمیر کے مختلف علاقوں پلواما، کولگام، کھپواڑہ میں مکمل ہڑتال رہی۔ انتظامیہ نے احتجاج کو روکنے کے لیے تمام یونیورسٹیاں، کالج اور اسکول بند کردیے۔ تمام موبائل کمپنیوں کی موبائل سم اور انٹرنیٹ بھی بند کرا دیے گئے، کشمیر یونیورسٹی میں ہونے والے امتحانات ملتوی کردیے گئے، طلبا پر تشدد کی وجہ سے درجنوں طلبا زخمی ہوگئے۔

طلبا پر اس بہیمانہ تشدد کے خلاف سری نگر کے علاقے اننت ناگ میں ویمن کالج کی طالبات نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ طالبات کی ریلی جب ایم اے روڈ پر پہنچی تو بھارتی فورسز نے طالبات پر آنسو گیس کی شیلنگ کردی، جس سے کئی طالبات بے ہوش ہوگئیں۔ ان مظاہروں میں 100 سے زیادہ طلبا و طالبات زخمی ہوگئے۔ عیدگاہ چوک پر مظاہرے کے دوران بھارتی فورسز کی طرف سے طالبات پر پتھراؤ کی وجہ ایک طالبہ اقرا صدیق کے سر کی ہڈی ٹوٹ گئی۔

وادی میں عوام کے احتجاج کو پیلٹ گن، آنسو گیس اور پاواشل جیسے ہتھیاروں سے روکنے میں ناکامی کے بعد اب پلاسٹک گولیوں کو استعمال کیا جارہا ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی کے ایک رہنما سبرامنیم سوامی نے فرمایا ہے کہ حکومت وادی کشمیر میں آئے دن کے ہنگاموں اور ہڑتالوں کو روکنے کے لیے یہاں کی آبادی کو تامل ناڈو کے پناہ گزیں کیمپوں میں منتقل کردے۔

وادی کی جس صورتحال کا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے یہ وادی کی روزمرہ کی صورتحال ہے۔ پچھلے ستر سال میں ستر ہزار سے زیادہ کشمیری عوام تحریک آزادی کی آگ میں جل چکے ہیں، لیکن یہ آگ ٹھنڈی ہونے کے بجائے اور زیادہ بھڑک رہی ہے۔ دونوں ملکوں کے سیاسی اکابرین 70 سال سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اب تک یہ سیاسی اکابرین اپنی کوششوں میں اس لیے کامیاب نہیں ہوسکے کہ یہ حضرات اس تحریک کے تاریخی محرکات کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔

مسلم ملکوں کی نمایندہ تنظیم او آئی سی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف احمد نے پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ کشمیر او آئی سی کا اہم ایجنڈا ہے اور سرفہرست ہے۔ موصوف نے کہا ہے کہ او آئی سی نے بھارت سے مقبوضہ کشمیر تک رسائی مانگی ہے لیکن اس حوالے سے ابھی تک جواب نہیں ملا۔

پاکستان بھی ایک عرصے سے مقبوضہ کشمیر میں رسائی مانگ رہا ہے لیکن بھارتی حکومت پاکستان کی اس درخواست کو اس لیے رد کرتی آرہی ہے کہ وہ کشمیر کی بدترین صورتحال کو دنیا سے چھپانا چاہتی ہے لیکن اس احمقانہ پالیسی کے خالق اس حقیقت کو نظرانداز کر رہے ہیں کہ ذرایع ابلاغ اب اس قدر فعال ہیں کہ وہ دنیا کے سامنے زمین کے اوپر ہونے والے واقعات ہی نہیں پیش کرتے بلکہ زیر زمین ہونے والے واقعات سے بھی دنیا کو آگاہ کر رہے ہیں۔

کشمیر کے مسئلے کے دو پہلو ہیں ایک مذہبی دوسرا حق خود ارادیت کا جمہوری پہلو، ہم یہاں مذہبی پہلو کو نظرانداز کرکے اس کے جمہوری پہلو کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اس حوالے سے بھارت پر یہ جمہوری اور اخلاقی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشمیری عوام کو بندوق کے ذریعے کنٹرول کرنے کی احمقانہ کوشش کرنے کے بجائے ان کی مرضی معلوم کرنے کے لیے رائے شماری کا راستہ اختیار کرے بھارتی حکمران طبقات مستقل اس قسم کے دعوے کرتے آرہے ہیں کہ کشمیری عوام ان کے ساتھ ہیں۔

اگر یہ دعوے سچے ہیں تو پھر کشمیر میں رائے شماری سے گریز کا کیا جواز ہوسکتا ہے۔ بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نظریاتی حوالے سے ایک انتہا پسند بلکہ جنونی ہندو ہیں اور گجرات میں مسلمانوں کا اپنے دور چیف منسٹری میں جس طرح قتل عام کرایا اس کے خلاف خود ہندو شاعروں نے نظمیں لکھیں اور ساری دنیا نے اس قتل و غارت کی مذمت کی۔

اس پس منظر میں مودی مہاراج کو کشمیری عوام کے جذبات پر غور کرنا چاہیے تاکہ انھیں کشمیری عوام کے جذبات کا درست اندازہ ہوسکے۔ کشمیر میں اب تک 70 ہزار سے زیادہ کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔ یہ ستر ہزار انسان مکھی مچھر نہیں جیتے جاگتے مودی جیسے انسان ہی تھے۔ کیا کبھی مودی سمیت بھارتی زعما نے اس بدترین ٹریجک صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنے کی سنجیدہ کوشش کی؟

ہم نے کشمیر کے مسئلے پر مذہبی حوالے سے گفتگو نہ کرنے کی بات کی تھی، یہ بات ہم نے اس لیے کی تھی کہ ہم مذہبی دیوانگی کے گہرے اثرات سے پوری طرح واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ مذہبی دیوانگی جب بے لگام ہوجاتی ہے تو وہ نہ ہندو دیکھتی ہے نہ مسلمان۔ اسے بس خون کی ضرورت ہوتی ہے دنیا میں دہشت گردی مسلمانوں کے حوالے سے جانی جاتی ہے لیکن مودی جی اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ اس مسلم دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار مسلمان ہی ہو رہے ہیں۔ مردان یونیورسٹی میں مشال خان ایک مسلمان طالب علم کو مسلمان طلبا نے جس بربریت جس وحشت سے قتل کیا، اس سے دہشت گردی کی بے لگامی کا اندازہ ہوسکتا ہے۔

بلاشبہ ابھی تک بھارت بوجوہ اس دہشت گردی سے بچا ہوا ہے لیکن جو کچھ کشمیری عوام کے ساتھ ہو رہا ہے اس کا انجام جلد یا بدیر اسی طرح کی مذہبی دیوانگی کی شکل میں سامنے آئے گا جس کا مشاہدہ آج دنیا حیرت اور خوف سے کر رہی ہے۔ امریکا ایک سپر طاقت ہے امریکی صدر کشمیر کے مسئلے میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ بھارتی حکمران ٹرمپ کی اس مسئلے میں مداخلت کی سخت مخالفت کر رہے ہیں امریکا کے بھارت سے بہت قریبی تعلقات ہیں اگر ٹرمپ کی کوششوں سے یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے تو بھارت کو اس میں ٹانگ اڑانے کے بجائے حوصلہ افزائی کرنا چاہیے۔

مقبول خبریں