پاک بھارت آبی تنازع مثبت پیش رفت کا اشارہ
بھارت کی بے جا ہٹ دھرمی کی وجہ سے ورلڈ بینک تاحال کوئی بڑی پیش رفت نہیں کرسکا
اخباری اطلاعات کے مطابق جنوبی ایشیا کے لیے عالمی بینک کی خاتون نائب صدر اینٹی ڈائزون بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی آئی ہیں' ان کی آمد کے بارے میں میڈیا میں ایسی اطلاعات آئی ہیں کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کا تنازعہ حل کرانے کی خاطر آئی ہیں۔
اگر ایسا ہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ مس ڈائزون کے بھارت پہنچنے پر بھارتی حکام نے ان کے دورے کی تشہیر سے اجتناب برتا ہے، مبصرین کا خیال ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ اپنے تنازعہ میں کسی تیسری طاقت کی مصالحتی کوشش کے خلاف ہے۔ پاکستان اور بھارت میں دریائی پانی کی تقسیم کا معاہدہ جسے سندھ طاس معاہدے کا نام دیا جاتا ہے 1960ء کی دہائی کے اوائل میں بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو اور پاکستانی صدر ایوب خان کے مابین ہوا تھا جس کا ضامن ورلڈ بینک ہے۔
پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں پر بھی پے در پے ڈیم تعمیر کر رہا ہے جس کے نتیجے میں وہ جب چاہے پاکستان کے حصے کا پانی روک سکے گا بالخصوص اس صورت میں جب کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پاکستان کو پانی سے محروم کرنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کے ضامن ورلڈ بینک کے پاس اپنی شکایت جمع کرانے کا فیصلہ کیا۔
اس پس منظر میں بعض حلقے دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ بینک کی نائب صدر حالات کا جائزہ لینے کے لیے بھارت پہنچی ہیں۔ اس وقت بھارت پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں پر دو متنازعہ ڈیم تعمیر کر رہا ہے جن میں ایک کا نام کشن گنگا ڈیم ہے جب کہ دوسرا اٹیل ڈیم ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے چونکہ متذکرہ ڈیم معاہدے کے خلاف تعمیر کیے جا رہے ہیں لہٰذا ورلڈ بینک کو مصالحتی کمیشن قائم کرنا چاہیے جو اصل صورتحال کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے۔
بھارت کی بے جا ہٹ دھرمی کی وجہ سے ورلڈ بینک تاحال کوئی بڑی پیش رفت نہیں کرسکا۔بھارت مسلسل مقبوضہ کشمیر میں متنازعہ آبی ذخائر تعمیر کررہا ہے، بہرحال جنوبی ایشیاء کے لیے عالمی بینک کی نائب صدر اگر واقعی پاکستان بھارت پانی کا تنازعہ حل کرانے کے لیے نئی دہلی آئی ہیں تو اسے اچھی پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے' یقیناً عالمی بینک کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے پر عمل کرائے کیونکہ وہ اس معاہدے کا ضامن ہے۔
پاکستان کے پالیسی سازوں کو بھی اس دورے پر نظر رکھنی چاہیے اور جائزہ لینا چاہیے کہ نئی دہلی میں کیا ہو رہا ہے' سندھ طاس معاہدے کے بارے میں پاکستان کو اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے' پانی کے تنازع کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور بھارت پر عالمی دباؤ بڑھانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں تا کہ بھارت مجبور ہو جائے اور پاکستان کی طرف بہنے والے دریاؤں پر ڈیم بنانے سے باز رہے۔