الجیریا 25مغویوں کی لاشیں برآمد مزید ہلاکتوں کا خدشہ

حملہ القاعدہ کی طرف سےبدستورخطرے کی نشاندہی کرتا ہے( امریکی صدر)گیس فیلڈ پرحالات کنٹرول کرنا انتہائی مشکل تھا، کیمرون.


News Agencies January 21, 2013
بحران کے حوالے سے بری خبروں کے لیے تیاررہنا چاہیے (ولیم ہیگ) فیصلہ کن کارروائی میں 11دہشت گرد ہلاک. فوٹو: فائل

GILGIT: الجیریا کے صحرائی علاقے میں واقع محصور گیس فیلڈ سے الجیریا کی افواج نے فوجی آپریشن کے بعد اتوار کو 25یرغمالیوں کی لاشیں برآمد کی ہیں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے تمام مغوی جاپانی مارے جاچکے ہیں۔

اغواکاروں نے فرار کی کوشش کرنے پر 3جاپانیوں کو قتل کیا۔ اے ایف پی کے مطابق الجیریا کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ 72گھنٹے کے آپریشن کے دوران 32اغوا کاربھی مارے گئے، فوج نے 685مقامی ورکرز اور 107غیرملکی ورکرز کو اغوا کاروں کے چنگل سے بحفاظت چھڑایا۔آن لائن کے مطابق امریکی صدر باراک اوبامہ نے الجیریا میں یرغمالیوں کی ہلاکتوں کی ذمے داری دہشت گردوں پر ڈالی ہے جنہوں نے حملہ کیا تھا اور امریکی صدرنے کہا کہ یہ حملہ القاعدہ کی طرف سے بدستور خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔

ایک بیان میں انھوں نے مزید کہا آنے والے دنوں میں ہم الجیریا کی حکومت سے قریبی رابطے میں رہیں گے تاکہ اس صورتحال کے بارے میں مکمل طور پر جان سکیں کہ ہم اس قسم کے المیہ ہائے کو روکنے کے لیے کس طرح مل کر کام کرسکتے ہیں۔ایک خبر ایجنسی کے مطابق برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ الجیریا میں مرنے والوں میں 6برطانوی باشندے اور ایک برطانیہ میں مقیم شخص شامل ہے۔ اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ پوری قوم اس دکھ بھری گھڑی میں مغویوں کے لواحقین کے ساتھ ہے۔ برطانوی وزیر اعظم نے الجیریا پرتنقید نہ کرتے ہوئے کہا کہ گیس فیلڈ پر حملے کی صورت حال کو کنٹرول کرنا انتہائی مشکل کام تھا۔



آن لائن کے مطابق برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ برطانیہ کو الجیریا میں یرغمالی بحران کے حوالے سے بری خبریں سننے کے لیے خود کو تیاررکھنا چاہیے ۔انھوں نے کہا کہ 10 برطانوی باشندوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔ ٹیلی ویژن انٹرویو میں انھوں نے کہاکہ یہ پورا واقعہ دہشت گردی کے اس خطرے کی حد اور سنگینی کی اہمیت ظاہر کرتا ہے جس کا ہمیں اور دوسری اقوام کو سامنا ہے۔ الجیریا کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ملک کی اسپیشل فورسز نے ہفتے کو شروع ہونے والے فیصلہ کن حملے کے دوران 7 غیر ملکی یرغمالیوں کو ہلاک کرنے والے 11دہشت گردوں کو ہلا ک کردیا۔ برطانیہ اور ناروے دونوں نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ الجیریا میں یرغمالی بحران کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

ادھر شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے ملک کی حزب اختلاف کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال کر ایک نئی حکومت کی تشکیل پر بات چیت میں شامل ہوں۔ حزب اختلاف کا کوئی بھی گروپ غیر ملکی مداخلت کو مسترد کر کے نئی کابینہ کا حصہ بن سکتا ہے۔وزیر خارجہ ولید المعلم نے سرکاری ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے بات چیت کرنا قابل قبول نہیں ہے۔ دریں اثنا فرانسیسی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کی فورسز نے گزشتہ ماہ حمص میں غیرمہلک کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے۔ مغربی ملکوں نے اس امید پر یہ واقعہ نظر انداز کر دیا تھا کہ یہ دہرایا نہیں جائے گا۔ ذرائع کے مطابق شام میں دو صحافی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔