پاکستان میں ڈرون حملے سی آئی اے کو فری ہینڈ مل گیا

’پلے بک‘میںانسداددہشت گردی سے متعلق امریکی پالیسی کی وضاحت،دہشتگردوں کی نئی لسٹ تیار


News Agencies/AFP January 21, 2013
’پلے بک‘میںانسداددہشت گردی سے متعلق امریکی پالیسی کی وضاحت،دہشتگردوں کی نئی لسٹ تیار، لاقانونیت کوقانونی لبادہ میسر آجائے گا،بعض سینئرحکام کی تشویش،واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ فوٹو: رائٹرز/ فائل

امریکا نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں منتخب ٹارگٹس پر کھلم کھلا ڈرون حملے کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

امریکی اخبارواشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ڈرون حملوں کے حوالے سے نئی پالیسی تشکیل دی جا رہی ہے جس کی رو سے سی آئی اے کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں ڈرون حملوں کیلیے کھلی چھوٹ مل جائیگی، یوں امریکا کو اپنی لاقانونیت کے لیے قانونی لبادہ میسر آجائیگا۔ نئی پالیسی کا اہم ترین مقصد افغانستان سے امریکی انخلا کے وقت القاعدہ اور طالبان کو مزید کمزور کرنا ہے تاکہ وہ امریکا کیلیے مزید مشکلات پیدا نہ کرسکیں۔ اس حوالے سے دہشت گردوں کی نئی لسٹ بھی بنائی گئی ہے جس میں شامل لوگوں کو چن چن کر ہلاک کیا جائے گا۔

اس انسداد دہشت گردی پروگرام کی حتمی منظوری صدر اوباما آئندہ چند روز میں دیں گے۔ امریکی اخبار کے مطابق اوباما انتظامیہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے قواعد وضوابط مرتب کیے ہیں جو تکمیل کے مراحل میں ہیں، دستاویز مکمل ہونے کے بعد منظوری کیلیے صدر اوباما کو بھیجی جائیگی۔ 'پلے بک' نامی اس دستاویز میں قوانین اور دنیا بھر میں جاری انسداد دہشت گردی سے متعلق امریکی آپریشنز کی پالیسی کو واضح کیاگیا ہے۔ اب امریکی حکام کسی شخص کو دہشتگرد قرار دے کر اس کا نام لسٹ میں پلے بک کے اصول کے تحت ڈال سکیں گے،دستاویز کے تحت سی آئی اے کو پاکستان میںایک سال یا اس سے زائد عرصے تک ڈرون حملے کرنے کی کھلی چھٹی دی گئی ہے اور ڈرون حملے جاری رکھنے یا بند کرنے کا فیصلہ زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائیگا، اس کا پلے بک سے تعلق نہیں ہوگا۔

1

رپورٹ کے مطابق کچھ سینئر امریکی حکام نے پاکستان میں ڈرون حملوں کی کھلی چھٹی دینے کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تاہم وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کی وجہ سے اس نکتے پر سمجھوتا کرنے کو تیار ہوگئے۔ اخبار کے مطابق پاکستان میں اب تک347 ڈرون حملے کیے گئے جن میں سب سے زیادہ حملے گزشتہ 30 دنوں کے دوران کیے گئے جن کی تعداد9 ہے۔ لندن میں قائم تحقیقاتی صحافت کے ادارے کے مطابق 2004 کے بعد سے پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں میں2627 اور3457 کے درمیان افراد مارے گئے ہیں جن میں 475 سے 900 تک عام شہری تھے۔

واضح رہے کہ یہ ریکارڈ مغربی ہے اور اصل اعدادوشمار ان سے کہیں مختلف ہو سکتے ہیں۔ ان حملوں پر پاکستانی حکومت عوامی سطح پر تنقید کرتی ہے اور سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا جاتا ہے لیکن تمامترشورشرابے اور احتجاج کے باوجود امریکی انتظامیہ اس مہلک ہتھیارکوترک کرنے پر تیار نہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ میں اہم ہتھیار ہیں۔ پوسٹ نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ کے بارے میں باقاعدہ قواعد کا بننا ایک غیرمعمولی بات ہے جس سے اس حملوں کو ادارہ جاتی حیثیت حاصل ہو جائے گی جو11 ستمبر2001 کے حملوں سے قبل ممکن نہ تھی۔ اس پلے بک کی تیاری گزشتہ سال محکمۂ خارجہ، سی آئی اے اور پینٹاگون کے اختلافات کے باعث روک دی گئی تھی۔